ڈیجیٹل لائبریری ۔۔۔۔مستقبل کے کتب خانے!

ڈیجیٹل لائبریری ۔۔۔۔مستقبل کے کتب خانے!

پاکستا ن میں ڈیجیٹل لائبریری کا ارتقاء :

پاکستان میں بھی محدود پیمانے پر چند ایسے منصوبے موجود ہیں جن کے ذریعے الیکٹرانک کتابوں تک لوگوں کو رسائی دی جا رہی ہے۔ جنوری 2004ء میں پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل لائبریری کا آغاز ہوا۔اس لائبریری کی مدد سے یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے 5ہزار بین الاقوامی جرائد تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔PERN قومی سطح کا ایک ایسا تعلیمی انٹرنیٹ ہے جو کہ تعلیمی و تحقیقاتی اداروں کو نہ صرف باہم ملا رہا ہے بلکہ انٹرنیٹ اور انٹرنیٹ کی مدد سے مشترکہ تحقیق علم و وسائل کے بانٹنے اور فاصلاتی تعلیم فراہم کرنے میں بھی مددگار ہے۔PERN لاہور کی 12یونیورسٹیوں کو 65ایم بی بینڈوڈتھ فراہم کرتا ہے۔PERN میں شامل ڈیجیٹل لائبریری میں فراہم کردہ سہولیات میں 11سو رسائل اور میگزین کے علاوہ ڈیجیٹل ویڈیو کانفرینسنگ کی خدمات اور لیکچرز شامل ہیں۔ پاکستان اب تک صرف610ایم بی پیز بینڈوڈتھ (MBPS Bendoth) سے بیرونی دنیا سے رابطے میں ہے۔ سب سے اہم لنک 155ایم بی پیز کنکشن ہے جو کہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا، مڈل ایسٹ اور ویسٹرن یورپ سے آپٹیکل فائبر لنک ہے۔آج پاکستان کی تقریباً سبھی لائبریریوں میں ڈیٹا ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو تعلیمی اور غیر تعلیمی نصاب بآسانی دستیاب ہو سکے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ادارہ اپنے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام کے تحت طالب علموں کی علمی جرائد کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک کتابوں تک رسائی ممکن بنا رہا ہے۔ اس لائبریری میں 75ہزار سے زائد کتابیں، جرائد اور مضامین موجود ہیں۔اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت سائبر لائبریری منصوبے پہ کام کر رہی ہے جس کا مقصد قومی اور دیگر مقامی زبانوں میں انٹرنیٹ پہ مواد کی فراہمی ہے۔ اس لائبریری میں مذہب، ادب، تاریخ اور سائنسی موضوعات پہ کتب موجود ہیں۔اگر دیکھا جائے تو معلوم ہو گا پاکستان میں تعلیم کے لئے مختص بجٹ ناکافی ہے اور خاص طور پر جب ہم اعلی تعلیم کے شعبے کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں رکھی جانیوالی رقم اور بھی کم ہے جبکہ پاکستان میں لائیبریری ترجیحات میں شامل ہی نہیں صرف چند تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن میں نسٹ (NUST) لمز (LUMS) آئی بی اے (IBA) فاسٹ (FAST) اور این یو (NU) شامل ہیں جو آن لائن معلومات کے حصول کے لئے معقول رقم خرچ کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ سیکٹر میں خدمات سرانجام دینے والے دیگر تعلیمی ادارے اس شعبے میں رقم خرچ کرنے میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کرتے۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پاکستان میں تحقیق کے رحجان کو فروغ دیا جاسکے۔ اس ضمن میں ہائیر ایجوکشن کمیشن نے بہت سے ایسے اقدامات کئے ہیں جس سے مفکرین کی اپنے تحقیقی مقالے شائع کرنے کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ گزشتہ ایک دہائی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ تحقیقی مواد اور ریسرچ پیپرز کی اشاعت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تاہم یہ ایک الگ بحث ہے کہ اس تحقیقی مواد کا معیار کیسا ہے۔تعلیمی شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے بعد میں علمی معلومات تک فوری اور مفت رسائی کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہوں۔ ایچ ای سی کے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام نے پاکستان میں تحقیقی ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین کے لئے مہنگے آن لائن جرائد اور تحقیقی ڈیٹا بیس تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے تحت اس سلسلے میں پنجاب ڈیجیٹل لائبریری پراجیکٹ پر کام کر رہا ہے جو اس میدان میں موجود کمی کو دور کر سکے گا۔ڈیجیٹل لائبریری کے سلسلے میں ایک اور اہم مسئلہ یہ کہ ہمیں اپنا تحقیقی مواد خود تیار کرنے اور اسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان محققین اپنی تحقیق بین الاقوامی جرائد میں شائع کرارہے ہیں جبکہ ان میں مقامی مسائل پر بحث کی گئی ہے اور اس مواد تک ہماری رسائی محدود ہے کیونکہ مکمل رسائی کے لئے ان جرائد کو معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ ایک آن لائن ذخیرہ تیار کیا جائے جہاں پاکستانی محققین اور مصنفین کے لئے مقامی و بین الاقوامی تحقیقی مواد مکمل طور پر دستیاب ہو۔ ایچ ای سی اس سلسلے میں ایک میکنزم وضع کر سکتا ہے، جس میں پاکستانی محققین کی تحقیقات کو اور اشاعتی مواد کو نہ صرف جمع کر کے محفوظ رکھا جاسکتا ہے، بلکہ ایک آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے اسے پھیلایا بھی جاسکتا ہے۔اس کے لئے کسی قانون سازی یا ایک معاہدے کے ذریعے بڑے اشاعتی اداروں کی معاونت سے ایسے پلیٹ فارم کا قیام ممکن ہے۔ اس وقت پاکستان میں سرکاری یا نجی شعبے میں ہونے والی تحقیق تک رسائی ایک اہم ضرورت ہے۔ اس تحقیقی مواد کو ڈیجیٹلائز کرنے، محفوظ رکھنے اور محققین تک رسائی کا کام جتنی جلد ممکن ہو شروع کیا جانا چاہئیے۔ پاکستان میں نادر اور نایاب تاریخی دستاویزات، ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر اور دیگر مواد کا ایک خزانہ موجود ہے جسے ڈیجیٹلائز کرکے اس سے فائدہ اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔

ڈیجیٹل کتب خانے روائتی کتب خانوں کی نسبت زیادہ فائد مند ہیں کیونکہ روائتی کتب خانوں میں ذخیرہ مواد کی گنجائش کم ہوتی ہے جبکہ ڈیجیٹل کتب خانے میں یہ گنجائش کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ڈیجیٹل کتب خانے پر وقت اور خرچ بھی کم ہوتا ہے، یہاں سے معلومات کی منظم رسائی مہیا ہوتی ہے اور یہ ہر وقت اپنے قارئین کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں۔ جہاں ڈیجیٹل لائبریری کے فائدے ہیں وہیں نقصانات بھی ہیں جیسے کہ کاپی رائٹ کا مسئلہ اکثر درپیش رہتا ہے۔ ایک مصنف کے کام کو دوسرا مصنف بلا اجازت اپنے نام کے ساتھ منسلک کر لیتا ہے جس سے ڈیجیٹائزیشن جملہ حقوق کو پامال کردیتی ہے۔دوسرا یہ کہ ہم قارئین کو روایتی کتب خانوں کی مانند مطالعہ کا ماحول فراہم نہیں کر سکتے۔انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کی صورت میں قارئین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان سب وجوہات کے باوجود لائبریوں کو ڈیجیٹائز کرنا آنے والی نسل کے لئے خوش آئند ہے کیونکہ انہیں ہر قسم کی معلومات گھر میں بیٹھے محض ایک کلک سے میسر ہو جائے گی۔ قائد اعظم لائبریری میں بھی ڈیجیٹل لائبریری کی سہولت موجود ہے جہاں پر80کمپیوٹرز موجود ہیں جن میں لائبریری کی 16ہزار کمپیوٹرائزڈکتب موجود ہیں جنہیں آن لائن بآسانی پڑھا جا سکتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 2