بچے کس عمر میں سکول جائیں؟

بچے کس عمر میں سکول جائیں؟

زلیخا اویس

سب والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے بچے بہترین تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں اپنا مقام بنائیں ، مگر بچوں کو سکول بھجوانے کی درست عمر کیا ہونی چاہیے؟ کے لئے کے کسی ٹھوس منصوبہ بندی یا مشاورتی سیشن پر توجہ نہیں دی جاتی۔

بچوں کی ذہنی سطح کو جانچے بغیر انہیں کبھی چھوٹی تو کبھی بڑی عمر میں سکول میں بھرتی کرا دیا جاتا ہے، جو کسی طور پر بھی درست عمل نہیں، کیوں کہ دونوں صورتوں میں نقصان بچوں کا ہی ہوتا ہے۔ ایک بچے کی ذہنی سطح اور دیگر صلاحتیں دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں، اس کی نشوونما اور بڑھوتری کی رفتار مختلف ہوتی ہے، تو پھر ایسے میں ایک ہی قانون کے تحت انہیں کیسے ایک خاص عمر میں سکول داخل ہونے پر مجبور کیا جا سکتا ہے؟۔ ماہرین کے مطابق چھوٹی عمر کی وجہ سے بچوں پر پڑنے والا دباؤ بعض اوقات ساری زندگی انہیں پڑھائی کے میدان میں کمزور کئے رکھتا ہے جبکہ زیادہ عمر ہونے کی صورت میں بچہ اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتا ہے۔

کسی خاص عمر کو پہنچنے پر بچوں کو ہر صورت سکول داخل کروانے کا حکومتی یا والدین کا رویہ درست نہیں بلکہ انہیں سیکھنے کے فطری عمل کے مطابق پروان چڑھنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جس میں مشاہدات اور سوالات کرنے کی عادت انہیں مدد فراہم کرتی ہے۔ سیکھنے کا عمل جہد مسلسل کا نام ہے یہ کسی سکول میں داخل یا فارغ ہونے سے مکمل نہیں ہوتا۔ گھر، کسی بھی بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ بچوں کو زبردستی ایک طے شدہ عمر میں سکول بھجوانے کے بجائے گھر پر والدین ان کی اس انداز میں تربیت کرے کہ بچے نہ صرف بخوشی سکول جائیں بلکہ وہاں خود کو سنبھال بھی سکیں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی اولین ذمہ داری ہے۔ اس لئے والدین کو اپنے بچے میں پیدا ہونے والی جسمانی اور ذہنی تبدیلوں سے آگاہی ہونی چاہیے تاکہ وہ بچہ خود کو تنہا نہ سمجھے اور اپنے مسائل کا حل والدین کے ساتھ مل کر تلاش کرے۔ والدین کا دوستانہ رویہ بچے کے شخصی خدوخال میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔

عمر کے لحاظ سے بچوں کو سکول داخل کروانے کی حد ہر ملک میں مختلف ہے۔ پاکستان کے قانون کے مطابق یہاں بچوں کو 5 سال سے سکول داخل کروانے کی عمر شروع ہوجاتی ہے، شمالی آئر لینڈ میں بچوں کو 4 سال کی عمر میں سکول داخل کروانا لازمی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، سکاٹ لینڈ، ہالینڈ اور آسٹریلیا میں 5 سال، آسٹریا، بیلجیئم، چیکو سلوواکیہ، فرانس اور سپین میں 6 سال جب کہ سویڈن میں 7 سال تک کی عمر کے بچوں کو سکول بھجوانے کی پابندی عائد کی جاتی ہے۔

برطانوی ماہرین تعلیم کے مطابق بچے کی پرائمری تعلیم 6 یا 7 سال سے شروع کی جائے کیوں کہ 5 سال کی عمر میں داخلہ بہت جلدی ہے، 5 سال کی پابندی بچے کو تعلیمی لحاظ سے بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے اور بچوں کے سیکھنے کے عمل میں یہ پابندی ان میں خوف اور دباؤ پیدا کرے گی۔

جب بچے کا سکول میں داخلہ ہوتا ہے تو اس کے دن بھر کے معمولات میں کافی تبدیلی آ جاتی ہے، جیسے صبح سویرے اٹھ کر سکول جانا، پڑھائی کے لئے تیار ہونا وغیرہ۔ ایک دم سے پرانی روش سے نئی جانب جانا بعض اوقات بچوں کے لئے پریشانی اور الجھن کا باعث ہوتا ہے، جس کے لئے والدین کو انہیں ذہنی طور پر تیار کرنا ضروری ہے۔ شروع میں بچے سکول جانے سے کتراتے ہیں اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ماں سے دور ہو جانے کا خوف ان کے ننھے ذہن کو الجھا دیتا ہے، ایسے وقت میں اسے والدین کی مدد اور سپورٹ کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر سکول بھیجنے کے بجائے پیار سے سمجھانا چاہیے۔ بچے سے محبت اور شفقت اپنی جگہ لیکن کسی مجبوری یا ضرورت کے تحت غیر محسوس طریقے سے اسے والدین سے دور رہنے پر بھی آمادہ کیا جائے۔ اسے سکول سے متعلق مثبت باتیں بتائیں جو اس کے پہلے دن کے خوف کو دور کرنے میں مددکر سکیں۔ اسے بتائیں کہ سکول میں اس کا اچھا وقت گزرے گا۔ نئے نئے دوستوں سے ملاقات ہو گی۔ پلے لینڈ کی طرح جھولے ہوں گے۔ نئی اور رنگین کتابیں ہوں گی۔ اس کے پسندیدہ کارٹون کردار کی تصویر والا سکول بیگ بھی اس کو دلوایا جائے گا۔

سکول سے واپسی پر اس کے اچھے برتاؤکا انعام اس کی پسندیدہ جگہ پر لے جانا ہو گا۔ اس نفسیاتی کونسلنگ کی بدولت بچہ سکول سے مانوس ہو گا اور کلاس کے ماحول میں خود کو پْر اعتماد محسوس کرے گا۔ بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھانے کا بہترین وقت وہ ہوتا ہے، جب وہ چھوٹے ہوتے ہیں کیوں کہ اس وقت وہ مثبت رویے اور بنیادی صلاحیتوں میں ترقی کر رہے ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کے خیالات کے بارے میں گفتگو کریں، چاہے وہ خیالات فوری طور پر سمجھ نہ آسکیں۔ بچہ جس زبان میں بھی سہولت محسوس کرتا ہے اسی زبان کو استعمال کیا جائے۔ بچے سے روز مرہ کے عام مسائل اور ان کے حل کے بارے میں بات کی جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بچے کو سوچنے کا وقت ملے، بعض اوقات یہ سوچنے میں وقت لگتا ہے کہ آگے کیا کہے، آپ کے بچے نے کیا کہنا ہے، اس کے انتظار کے لئے تیار رہیں۔ ایسے سوالات کریں جو بچے کو اپنے خیالات کے بارے میں بات کرنے کی طرف لے جائے۔ بچے کے ساتھ مطالعہ کرتے ہوئے ایسے سوالات پوچھیں، ’’ایسا کیوں ہوا‘‘ ’’آگے کیا ہو سکتا ہے‘‘ یہ سوالات بچے کے ذہن میں برقی رو کا کردار ادا کرتے ہیں۔

بچوں کے لئے مشاغل

بچے کوہروقت کتابوں میں گم رہنے پر مجبور نہ کریں کیونکہ پڑھائی میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لئے ضروری نہیں کہ بچے 24گھنٹے پڑھتے ہی رہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اچھی خوراک اور ذہنی و جسمانی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں۔بہتر یہ ہے کہ بچوں کوان کے مشاغل سے دور رکھنے کی بجائے ایسا ماحول فراہم کریں جس میں بچے پڑھائی سے ہٹ کردیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیں جوبچے پڑھائی کے علاوہ کسی دوسری سرگرمی میں حصہ نہیں لیتے وہ ذہنی طور پر ڈل(Dull)ہوجاتے ہیں۔ ویسے بھی ماہرینِ نفسیات کے خیال میں پیدائش سے لے کر 18برس کی عمر تک انسانی شخصیت کی تعمیر ہورہی ہوتی ہے۔چنانچہ بچوں کے اردگرد کا ماحول،ان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ روزمرہ سرگرمیاں بھی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان مشاغل کی اہمیت کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کلاس میں عام نمبروں سے پاس ہونے والے بچے کسی’’ سافٹ ویئر کمپنی‘‘ میں کسی اعلیٰ عہدے پر کام کررہے ہوتے ہیں یا کبھی بہترین آرٹسٹ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

اکثر والدین چاہتے ہیں کہ اگر ان کا بچہ ذہین ہے تو اسے ڈاکٹر یا انجینئر ہی بننا چاہیے جبکہ ایسا نہیں ہے۔ بعض اوقات بچوں کے مشاغل سے ان کے ’’کیریئر‘‘ کے انتخاب میں بھی مدد ملتی ہے مثلاً ہوسکتا ہے جن بچوں کو سپورٹس میں دلچسپی ہو وہ کھلاڑی بنیںیا پھرجنہیں کوکنگ کا شوق ہو وہ شیف بن جائیں۔اسی طرح ڈرائنگ کرنے والے بچے آرٹ سے متعلق کسی شعبے میں جانا پسند کرتے ہیں۔یہ بھی ممکن ہے گھومنے پھرنے کے شوقین بچے ٹریولنگ جبکہ مختلف ملکوں کے کرنسی نوٹ یا سکے جمع کرنے والے بچے بینکنگ یافنانس کے شعبے منتخب کریں۔ویسے بھی یہ دیکھا گیا ہے جنہیں گارڈننگ پسند ہو،وہ باٹنی یا زراعت سے متعلق کسی شعبے میں کیریئربناتے ہیں۔

آج کل تو ٹیکنالوجی کازمانہ ہے، بچوں کے پاس کئی گیجٹس (Gadgets)موجودہوتے ہیں جن پر مختلف گیمز کھیلی جاتی ہیں، بچے ان سے بھی بہت کچھ سیکھتے ہیں۔اسی طرح کچھ ملٹی ٹاسک گیمز ہوتی ہیں جن میں بچے مشکلات اور روکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے اپناہدف حاصل کرنا سیکھتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ ان بچوں میں خود اعتمادی دیگر بچوں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔اپنے بچوں میں کتاب بینی کا شوق بھی پیداکریں کیونکہ مطالعہ کا شوق رکھنے والے بچے ذہین اور حاضر دماغ ہوتے ہیں اس لئے اگر کبھی آپ کا بچہ کورس کی کتابوں کے علاوہ کوئی غیر نصابی کتاب پڑھناچاہے تواسے ہرگز منع نہ کریں ہاں البتہ یہ اطمینان ضرور کر لیں کہ وہ اس کتاب سے کیا سیکھ رہا ہے اور یہ کتاب اس کے ذہن پر کیا اثر چھوڑے گی؟اس کے علاوہ اگر بچے سماجی بہبود کے لئے رضاکارانہ سرگرمیوں میں حصہ لیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ ایسی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں دکھی انسانیت سے محبت اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جس سے وہ اپنے اندر خوشی اور اطمینان محسوس کرتے ہیں۔اس لئے قطعاً ضروری نہیں کہ جو بچے سائنس، ریاضی یا انگلش کے مضامین میں اچھے نمبر لے سکتے ہیں اپنے ’’کیریئر‘‘ کے حوالے سے بھی وہی نمایاں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔

ہر وقت کتابوں میں گْم رہنے والے بچے ذہنی اور جسمانی طور پرجلدتھک جاتے ہیں 133 استاد کا کام صرف پڑھانا ہی نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت دینا بھی ہے۔ ویسے بھی ٹیچر اپنے اسٹوڈنٹ کے لئے رول ماڈل(Role Model)کی حیثیت رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنے ا سٹوڈنٹ کی شخصیت کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرے۔ ٹیچر کو اپنے ہراسٹوڈنٹ سے متعلق علم ہونا چاہیے کہ ا س کی سرگرمیاں کیا ہیں، وہ کتنا فارغ وقت گزارتے ہیں ا ور کن سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں؟البتہ بچوں کو کبھی کھیل کود سے منع نہ کریں کیونکہ ایسی سرگرمیاں ان کی ذہنی اور جسمانی فٹنس کے لئے بہت ضروری ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا جوبچے ہر وقت کتابوں میں گْم رہتے ہیں ،وہ ذہنی اور جسمانی طور پر جلد تھکن محسوس کرنے لگتے ہیں۔ہوسکتا ہے رٹا لگا کروہ اچھے نمبر تو لے لیں مگر ایسے بچے ذہنی طور پر کمزور ہی ہوتے ہیں۔

بچوں کوبلاکس جمع کرتے ہوئے یا تصاویر بناتے ہوئے بچے کو کھیل ہی کھیل میں پڑھائی کی طرف راغب کریں۔ بچے میں برداشت کے پہلو کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ یہ صلاحیت اسے زندگی میں بہت سی مشکلات اور پریشانیوں سے بچا لیتی ہے۔ ایک بچہ چاہے اپنی بات دوسرے کو سمجھانے کے قابل نہ ہو لیکن دوسروں کی بات خود سمجھنے کے قابل ہو جائے تو یہ اس بات کی نوید ہے کہ اب وہ سکول جانے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ بچوں کو سکول داخل کرانے کا مقصد حاصل کرنے کے لئے اساتذہ بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا کے جی، پلے گروپ، مونیٹسوری، پریپ یا پہلی جماعت کے بچوں کے لئے تعینات اساتذہ کی علمی قابلیت، سروس سٹرکچر اور ٹریننگ الگ سے مقرر کی جائے، تاکہ بچے بخوشی سکول آنا پسند کریں۔

***

مزید : ایڈیشن 2