اعلیٰ تعلیم اور صنعتوں کا فروغ

اعلیٰ تعلیم اور صنعتوں کا فروغ

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم وائس چانسلر گجرات یونیورسٹی

ترقی یافتہ معاشروں میں اعلیٰ تعلیم راہنمائی و نگہبانی کا فریضہ ادا کرتی ہے ۔ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے کلیے نے ہی اقوام عالم کی تیز رفتار ترقی کی بنیاد فراہم کی۔ یہی وہ نسخۂ کیمیا ہے جو جمود و پسماندگی کا شکار معاشروں میں نئی روح پھونک کر اس کی فکری و عملی ، تہذیبی و معاشرتی اور صنعتی و معاشی ترقی کی نمو کا باعث بنتے ہوئے سماجی اکائیوں کو اس توانائی کی لہر سے متعارف کرواتا ہے جسے کسی بھی معاشرے یا قوم کی حقیقی بیداری کا سبب گردانا جاتا ہے ۔ ہم جب بھی تعلیم کے بارے میں غور کرتے ہیں تو اس سے وابستہ تصورات علوم و فنون اور صنعت و حرفت ہی ہمارے ذہن میں جگمگانے لگتے ہیں کیونکہ تعلیم کا بڑا مقصد فرد کی ذہنی صلاحیتوں کو مستحکم کرتے ہوئے اسے سماج کا ایک کارآمد فرد بننے میں مدد دینا ہے۔ کارآمد فرد بننے کا اولین عندیہ یہ ہے کہ فرد اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف شخصی فروغ و نمو حاصل کرے بلکہ وہ معاشرے کی اجتماعی ترقی میں حصہ دار بھی بن جائے۔ تعلیم و تربیت کے مروجہ تصورات میں بے پناہ تبدیلی آ چکی ہے جس طرح معاشرتی ترقی بتدریج جاری ہے اسی طرح معاشرتی ترقی کے تصورات و افعال میں بھی تبدیلی کے نئے قرینے اور زاویے ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ٹیکنالوجی ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں انسانیت کے ارتقاء پر اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ انسانی سماج اپنی عصری شکل و ہیئت تک پہنچنے سے قبل صنعتی و تکنیکی ترقی کے سینکڑوں مراحل طے کر چکا ہے۔ آج کے جدید ترقی یافتہ دور میں وہی قوم ترقی اور کامیابی کی شاہراہ پر گامزن رہ سکتی ہے جسکے افراد ذہنی صلاحیتوں اور انسانی مہارتوں سے مالا مال ہوں اور اپنی صلاحیتوں اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم کی صنعتی و معاشی ترقی میں اضافہ کا سبب بن سکیں۔ وطن عزیز پاکستان میں حالیہ دور میں اعلیٰ تعلیمی شعور کے فروغ نے اہم مراحل طے کیے ہیں۔ اس سفر میں جامعات کے کردار کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ یونیورسٹیاں دراصل نسلوں کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کے مراکز ہوتی ہیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جو مؤثر اقدامات اٹھائے ہیں اب ان کے ثمرات دھیرے دھیرے نمایاں ہونے لگے ہیں۔ جامعات میں پہلے مرحلے پر آگہی اور آگاہی کی جس لہر نے جنم لیا اس کا ہی نتیجہ ہے کہ آج طالبعلم ، اساتذہ، انتظامیہ، صنعتکار، دانشور، قلمکار اور سول سوسائٹی یونیورسٹیوں کے سماجی و معاشی ترقی میں فعال کردار پر بات کرنے لگے ہیں۔ اب تمام طبقہ ہائے فکر میں اجتہادی اتفاق ظاہر ہوا ہے کہ جامعات اور اعلیٰ تعلیم ملک و قوم کی صنعتی ، معاشرتی اور معاشی ترقی کا بہترین وسیلہ بن سکتی ہیں۔ یہ قومی آرزو اور امنگ اسی صورت میں حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے جب حکمران ، سماج اور بالخصوص یونیورسٹیوں میں موجود اہل علم و دانش روح عصر سے ہم آہنگ اور مستقبل بینی کے ادراک سے بھرپور آگاہی رکھتے ہوں اور اسی تناظر میں اپنے نصب العین کو طے کر کے ذمہ داری کو فریضۂ اولین سمجھ کر عہدہ برآہ ہوں ۔ دنیا بھر کے دانشور ماہرین تعلیم متفق ہیں کہ آج کسی بھی سماج میں حقیقت معاشی متغیرات ہیں۔ عالمی ماہرین نے کے مطالعات بالخصوص قومی معاشی ترقی میں یونیورسٹیوں کے کردار کے حوالے سے ہونے والی تحقیق چارلس (2003)، کووکی (2001)، نیلسن (1993-2004)کٹگاوا (2004) کا نتیجہ یہی ہے کہ انڈسٹری اکڈیمیا لنکجز علاقائی اور قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یونیورسٹیوں کو مارکیٹ ڈیمانڈ کا حامل ہونا چاہیے نیز قومی صنعتی و معاشی ترقی میں روشن خیال اور جدت پسند کردار کرنا چاہیے۔2007 کے بعد کے محققین پٹیل وغیرہ کی Empiricalتحقیق نے عملی تجربے سے ثابت کیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں صنعتی ترقی میں جامعات کا کردار مؤثر رہا ہیاور اس اشتراک نے دونوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ نیپال جیسے ترقی پذیرملک میں فارماسوٹیکل صنعت نے اکڈیمیا اور دانش گاہوں سے روابط قائم کر کے خوب ترقی کی ہے ۔

صنعتی ادارے وہ مضبوط معاشی اکائیاں ہیں جو ملک کی معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث اور زر مبادلہ کمانے کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔ پاکستان کے حالات آج اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنے کے متقاضی ہیں ۔ ہماری خوش قسمتی کہ یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے یہی نوجوان نسل ہمارا مستقبل ہیں اس لیے ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کو روح عصر سے ہم آہنگ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں۔ ایک طرف تو نوجوانوں کو اینٹرپرینیورشپ اور سیلف بزنس کے جذبے سے لیس کرنا ہے تو دوسری طرف یونیورسٹیوں کو صنعتوں کے مسائل کے حل کے لیے مربوط کرنا ہے ۔ دانش گاہیں صرف تعلیم اور ڈگریاں بانٹنے کے مراکز نہیں ہوتیں بلکہ علوم وفنون کو پروان چڑھانے ،صنعت و ٹیکنالوجی کی ترقی اور اختراعات میں کردار بھی انہی کی قومی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ہمارے آنے والے کل کی ترقی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم جامعات اور صنعتوں کے درمیان علمی و تکنیکی ربط کتنا مضبوط کر پاتے ہیں۔ تمام یونیورسٹیوں کو اپنے اپنے علاقے کی مقامی صنعتوں کے ساتھ اشتراک قائم کر کے اس کے فروغ کی کوششوں میں حصہ ڈالنا ہو گا ۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان دونوں ممالک نے انڈسٹری اکیڈیمیالنکجز کو مضبوط بنا کر بے پایاں ترقی کی ہے۔ بلا شبہ صنعتوں کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے روابط کو پختہ کر کے ہی یونیورسٹیاں نالج اکانومی میں حصہ دار ہوسکتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کو صنعتی ترقی میں مشاورتی ادارے کا کردار بھی ادا کرنا ہو گا ۔ صنعتی ترقی اور علم کی بنیاد پر معیشت کے خدوخال ترتیب دینے اور سنوارنے میں ریاستی اداروں کو ان دونوں شعبوں میں پائے جانے والے اعتماد کے فقدان کو ختم کرنے کے لیے متحرک کردار ادا کرنا چاہیے۔ دنیا بھر میں انڈسٹری اکیڈیمیا لنکجز کا تصور کامران و کامیاب رہا ہے ۔ آج یونیورسٹی انڈسٹری پارٹنر شپ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ترقی یافتہ اقوام کا نصب العین بن چکا ہے ، ہمیں بھی زمینی حقائق کا کھلے دل سے جائزہ لے کر آگے بڑھنا ہے ۔ یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے خود صنعتی طبقے سے روابط قائم کریں۔اعلیٰ تعلیم کے ادارے سماج میں برتر طبقوں کے جزیرے بن کر رہ گئے ہیں انہیں یہ یاد دہانی کروانے کی ضرورت ہے کہ یونیورسٹیاں آج کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے مراکز بن چکی ہیں۔ صنعتوں کا علمی اداروں سے اشتراک عمل ہی معاشی ترقی کے لیے سب سے اہم ذریعہ ہے ۔ دنیا کے چھوٹے چھوٹے ممالک نے اس تعلق سے کمال حاصل کیا ہے۔ فن لینڈ اور مشرقی یورپ کے مختلف ممالک تعلیمی و تکنیکی اختراعات کے ذریعے ہی مضبوط معیشتوں کا روپ دھارنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جامعات میں ٹیکنالوجی، انکوبیشن سنٹر، انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکوبیشن سنٹرز کی تشکیل ہی کافی نہیں انہیں فعال بنا کر ہی عملی مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

یونیورسٹیوں اور صنعتوں میں تعلقات اور اشتراک قومی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم لازمہ ہے۔ تعلیم یافتہ افراد و ماہرین کی تحقیق اور عمل و کردار کی نوعیت ہمیشہ ترقی کے عمل میں بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے ۔ صنعتوں کو اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو جدت اور ترقی کے شراکت دار کے طور پر لینا چاہیے اور تعلیمی تحقیق کو بھی مالی معاونت فراہم کرنی چاہیے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے شعبوں کو مستحکم اور فعال کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ صنعتوں اور علمی اداروں کے باہمی تعاون کو ماضی میں نظر انداز کیا گیا ہے مگر آج صنعت و تعلیم کے پیشہ ور ماہرین اس کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ اس عمل کو تیز کرنے اور قومی معاشی ترقی میں نیک نیتی سے حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں معاشی اور صنعتی ترقی کے روشن باب کا آغاز ہو سکے ۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...