آئر لینڈ کیخلاف آسان جیت آئندہ میچوں کیلئے معقول میچ پریکٹس نہیں

آئر لینڈ کیخلاف آسان جیت آئندہ میچوں کیلئے معقول میچ پریکٹس نہیں

لندن(راجہ اسدعلی)پاکستان نے اپنی روایتی کمزوری بیٹنگ کے شعبہ میں ایک کمزور ٹیم کے خلاف شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ نوجوان شرجیل خان میں سعید انور جیسے خواص نظر آتے ہیں مگر طے شدہ بات ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم کے ایسی اور طرح کے مدمقابل باؤلرز کا سامنا ہوگا یہ اچھا ہوا کہ شعیب ملک نے بھی ففٹی مکمل کی اور ناقابل شکست رہے۔ آئر لینڈ کے ساتھ ہماری کچھ تلخ یادیں ہیں مگر اس کے علاوہ اس سے ہمارا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ مرتاگ اور مکارتھی عام سطح کے میڈیم بیس باؤلرز ہیں گو مکارتھی چار وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تاہم ان کی موجودگی میں پاکستان کی ٹیم نے سینتالیس اوورز میں تین سو تیس رنز بنالئے۔ محمد نواز اور عماد وسیم کو پاکستان کی طرف سے موقع دیا گیا دونوں نے صورتحال کا خوب فائدہ اٹھایا۔ عماد نے پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ نواز نے ایک وکٹ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ترپن رنز کی اننگز بھی کھیلی۔ پاکستان کے پاس موقع ہے کہ اگلے میچ میں ایک اور نئے کھلاڑی کو موقع دیں۔ نواز کے ساتھ پہلی بار موقع حاصل کرنے والے نوجوان حسن علی تھے ان کی باؤلنگ کا معیار اور کارکردگی بھی تسلی بخش رہی۔ ضروری ہے کہ آئر لینڈ کے دوسرے میچ میں محمد رضوان کو بھی موقع فراہم کیا جائے اگر ٹیم میں واپس آنے والے عمر گل کی پرفارمنس دیکھیں تو وہ شاندار کم بیک کرچکے ہیں انہوں نے تین کھلاڑی آؤٹ کئے اور صرف پانچ اوور کئے جن میں صرف 23 رنز بنے۔ بظاہر 255 رنز سے جیت بڑی شاندار ہے مگر آج اسی طرح آئر لینڈ کی ٹیم دوسرا میچ بھی ہار گئی تو انگلینڈ کے خلاف سخت مقابلوں کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ پریکٹس نہیں ملے گی۔ مجھے یہ ایک انٹرنیشنل میچ کی بجائے دوستانہ میچ لگ رہا تھا۔ پاکستان کو ون ڈے انٹرنیشنل رینکنگ میں مسائل کا سامنا ہے اس قسم کی جیت بھی غنیمت سمجھی جائے۔ آئر لینڈ کے خلاف پہلے میچ میں پاکستان کی ٹیم مینجمنٹ اور کپتان اپنی حکمت عملی میں کامیاب نظر آئے۔ اظہر علی اس وکٹ پر خود سے آؤٹ ہوئے اگر وہ کھیلتے رہتے تو دو سو رنز کی اننگز کھیل سکتے تھے۔ انہیں اگلے میچ میں اپنے انداز سے کھیلنا ہوگا ساتھ کھیلنے والے شرجیل یا پھر حفیظ کی رفتار پاور کرکٹ کی پیروی بھی کرنا ہوگی۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی