کرپشن کیجئے ترقی پایئے۔۔۔!

کرپشن کیجئے ترقی پایئے۔۔۔!
 کرپشن کیجئے ترقی پایئے۔۔۔!

  


سندھ حکومت کی تازہ ترین خبر نے کرپشن کرنے والوں کو بڑا حوصلہ دیا ہے اور کرپشن سے خوف زدہ افراد کو نیا راستہ دکھا دیا ہے’’ کرپشن کیجئے ترقی پایئے‘‘ سندھ حکومت نے کرپشن کا اعتراف کرنے والے 4 افسروں کو ترقی دے دی ہے70 ویں یوم آزادی کی خوشی میں سندھ حکومت نے 4 کرپٹ ترین افسروں کو انعام میں ترقی دے دی ہے۔ ترقی پانے والوں میں محکمہ بلدیات منیر ملنگی، واصف ملک، علی شیر جعفری، منور ظریف نے پلی بارگین کے تحت دو کروڑ واپس کئے ہیں اور ادائیگی کے ساتھ ہی انہیں ترقی کی خوشخبری سنا دی گئی ہے۔ نیب کی رپورٹ کے مطابق ان افسروں کا تعلق محکمہ بلدیات سندھ سے ہے۔یہ محکمہ بلدیات کے ٹاؤن افسر تھے۔ بلدیات میں ان کی کرپشن ثابت ہو ئی تو ان کے کیس نیب کو دے دیئے گئے نیب میں ان چاروں افسروں نے پلی بارگین کی درخواست دے دی جسے نیب قانون کے تحت قبول کرتے ہوئے ان کو رشوت کے پیسے واپس کرنے کی اجازت مل گئی چاروں افسروں نے باقاعدہ ایک تقریب میں دو کروڑ واپس کئے اور ساتھ ہی ترقی کے خطوط وصول کئے۔ منیر ملنگی کو چیف افسر میونسپل کمیٹی بدین لگایا گیا ہے جبکہ منور ظریف کو چیف ضلع افسر ٹھٹھہ لگایا گیا ہے۔ واصف ملک اور علی شیر جعفری کو بھی ٹاؤن کمیٹی میں آفیسر تعینات کیا گیا ہے۔ ڈی جی نیب سراج النعیم نے کہا ہے سندھ حکومت کے کرپٹ افسروں سے پلی بارگینگ کے تحت ایک ارب 70 کروڑ روپے وصول کر کے سندھ حکومت کو دے دیئے گئے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے سابق چیئرمین جناب آصف علی زرداری کرپشن میں ’’ٹن پرسنٹ‘‘ سے مشہور ہوئے، پھر ان کے دست راست مظفر ٹپی ان سے بھی بازی لے گئے اور پھر کرپشن کا ناسور سندھ حکومت کا حصہ بن گیا۔

پلی بار گیننگ کا قانون اگر نیب کا ہے تو زیادتی ہے اگر کسی اور کا ہے پھر بھی زیادتی ہے افسوس ناک پہلو یہ ہے سندھ حکومت کے افسروں نے کرپشن کا اعتراف کیا ان سے دو کروڑ واپس لے لئے گئے پھر ان کو ترقی دے دی گئی۔

پلی بار گیننگ قانون میں کیا یہ شق بھی سندھ حکومت نے شامل کر لی ہے کرپشن کا اعتراف کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ان کے خلاف پرچہ درج نہیں ہوگا گرفتار نہیں ہوں گے۔ بطورِ مسلمان اللہ نے جو قانون اور دستور قرآن کی شکل میں دیا ہے اس میں تو ایک حرام لقمہ کو بھی حرام ہی قرار دیا گیا ہے درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ ایک دودھ کی کڑاہی میں اگر ایک قطرہ حرام شامل ہو گیا تو سارا دودھ ہی حرام ہو گیا، اللہ اور اس کے رسولؐ نے ہمیں زندگی کے بنیادی اصولوں سے آگاہ کرتے ہوئے حرام حلال کی باقاعدہ تفریق سمجھا دی ہے۔ حلال کی برکات سے آگاہ کیا ہے اور حرام کے نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔ افسوس کی بات ہے نیب جیسا ادارہ جسے خالصتاً کرپشن کے خاتمے کے لئے بنایا گیا اس میں دین اسلام کے خلاف ایسی شق شامل کر دی گئی جس سے حلال حرام کا فرق ختم ہو گیا ہے۔ سندھ حکومت کا واقعہ پہلا واقعہ نہیں ہے، نیب کے قیام سے ملک بھر میں ایسے سینکڑوں شواہد موجود ہیں کہ دو ارب روپے کی کرپشن کی اور 50 کروڑ واپس کر کے کلین چٹ حاصل کر لی 50 ارب کی کرپشن کی اور دو ارب پلی بارگینگ میں جمع کرا کر کلین چٹ حاصل کر لی۔

نیب نے سرکاری ملازمین بالخصوص اور سول سوسائٹی کے افراد کو بالعموم یہ سہولت فراہم کر کے کرپشن کے نئے دروازے کھولے ہیں نیب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے نیب جس مقصد کے لئے بنائی گئی اگر یہ سیاسی انتقام کے لئے نہیں تو پھر درست عمل ہو سکتا ہے۔

اگر صرف سیاسی مخالفت کو کچلنے کے لئے نیب بنائی گئی ہے تو پھر معاف کیجئے اس کا خاتمہ ہی بہتر ہے پلی بارگین سے محسوس ہوتا ہے جیسے یہ شق کرپشن کی رجسٹریشن کا ادارہ ہے، جہاں سے آپ رجسٹرڈ ہو کر کرپشن کے دریا میں کھل کر غوطے لگا سکتے ہیں، موجیں کر سکتے ہیں اور چاروں اطراف اندھیر نگری مچا سکتے ہیں۔ جب آپ کا پیٹ اس قابل نہ رہے آپ مزید کرپشن کر سکتے ہیں تو اپنے کرپشن لائسنس کو باعزت طریقے سے پلی بارگین کے تحت کچھ حصہ اپنی کمائی کا واپس حکومت کو ادا کر کے صاف ستھرا ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے ہماری پارلیمینٹ بھی خاموش ہے ہماری نظریاتی کونسل بھی خاموش ہے۔ ہمارا مذہبی طبقہ اور مذہبی جماعتیں بھی خاموش ہیں کرنے کا مکروہ دھندہ سربازار جاری ہے اور پلی بارکینگ کے نام پر جو کرپشن کے تحفظ کا سرٹیفکیٹ دینے کا رواج ہے وہ تیزی سے فروغ پا رہا ہے سندھ حکومت اس میں یقیناًپہلے نمبر پر ہے۔ پنجاب کے سرکاری محکمے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ کے پی کے میں بھی یہ دھندہ جاری ہے وفاقی ادارے بھی اس کی آزادی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، کوئی آواز بلند کرنے کے لئے تیار نہیں اپنے بچاؤ کے لئے ہر فرد بیدار ہے حالانکہ رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں کو جہنمی قرار دیا گیا ہے۔

قرآن کے دو ٹوک فیصلے کے بعد پلی بارگین کی گنجائش کہاں باقی رہتی ہے موجودہ معاشرے کے بگاڑ کی بنیادی وجہ بھی اسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ معاشرے کے سنوارنے کا فریضہ کسی ایک فرد کے ذمہ نہیں دیا جا سکتا۔ میرا ذاتی خیال ہے عدلیہ کو سوموٹو نوٹس لینا چاہئے او رپھر اب تک پلی بارکینگ کے نام پہ ہونے والے کیسوں کو از سر نو کھولنا چاہئے اور قانون الٰہی کے تناظر میں جو افراد کرپشن کا اعتراف کر لیں یا جن کے خلاف کرپشن ثابت ہو جائے ان کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے کرپشن کے ناسور کا خاتمہ معاشرے کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے خاندانوں کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے صدر پاکستان وزیراعظم پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان وفاقی محتسب کے اداروں کا امتحان ہے وہ وطن عزیز کو کرپشن سے پاک کرنے اور صالح معاشرے کے قیام کے لئے ذمہ داری کا احساس کریں اور پلی بارکینگ کے نام پر جاری کرپشن کے نیٹ ورک کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کریں۔ اس نیٹ ورک کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے وزیراعظم پاکستان پہلے ہی اپنے آپ کو قوم کے سامنے احتساب کے لئے پیش کر چکے ہیں ان کی روایت کو آگے بڑھنا چاہئے کرپشن کے خاتمے کو نعروں تک رکھنے کی بجائے معاشرے کی اصلاح کے لئے اقدامات کے لئے ایک دوسرے کا دست بازو بننا ہو گا یہ وقت کی ضرورت ہے۔سیاست سے بالاتر ہو کر کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کرنے کا وقت آ گیا احتساب وزیراعظم تک محدود نہیں رہنا چاہیے جو ہے جہاں ہے کی بنیاد پر احتساب ہونا چاہیے اور کرپشن کے ناسورکے مکمل خاتمے تک چلنا چاہیے۔

مزید : کالم


loading...