’’آزادی ،ذمہ داری کے ساتھ‘‘

’’آزادی ،ذمہ داری کے ساتھ‘‘
 ’’آزادی ،ذمہ داری کے ساتھ‘‘

  

ہر طرف شور ہے آزادی چاہئے اور مادر پدر آزادی چاہئے،مگر ماد ر پدر آزادی تو کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں دی جاتی، ایسی آزادی شائد جنگل میں ہوتی ہو، جس کے بارے ابن انشاء نے کہا تھا،’ شیروں کو آزادی ہے، آزادی کے پابند رہیں، جس کو چاہیں چیریں پھاڑیں، کھائیں پئیں آنند رہیں،معاشروں اور ریاستوں میں آزادی کو ذمہ داری کے ساتھ محدود کیا جاتا ہے۔ آپ کہیں گے کہ اگر آزادی محدود ہے تو پھر یہ کیا آزادی ہوئی، جیسے برس ہابرس سے من چلوں نے یوم آزادی پر موٹرسائیکل کے سائلنسر نکال کر ون ویلنگ کے ذریعے موت کا کھیل کھیلنے کی آزادی لی ہوئی تھی، اب یہ کہا جائے کہ موٹر سائیکل ان کے ابا جان نے لے کر دی اور جان ان کی اپنی ہے، لہٰذا لاہور پولیس ان کو روکنے والی کون ہوتی ہے، میں قربان اس کی ذہانت پر جو یہ دلیل آزادی کے حق میں دے۔روٹی ، کپڑے اور مکان کے حصول کی خاطرکوششوں کی اجازت اور آزادی تو ہمارا آئین اور قانون بھی دیتا ہے، کیا ہی خوب ہو کہ کوئی ہمیں اس کا جواز پیش کرتے ہوئے چوروں، ڈاکووں کو پکڑنے کے لئے پولیس کا ادارہ ہی ختم کرنے کی دلیل دے دی جائے تو یقینی طور پریہ دلیل کا غلط استعمال ہو گا۔

شور تو ہمارے کچھ دوستوں نے مچا رکھا ہے، وہ رائے کے اظہار کی آزادی چاہتے ہیں، ایسی آزادی کہ وہ جس کے بارے جو چاہیں کہتے رہیں، جس پر جو چاہے الزام لگاتے رہیں، آزادی صحافت کے نام پر کوئی ان سے سوال کرنے والا نہ ہو، کوئی ان کا گریبان پکڑنے والا نہ ہو مگر وہ جس کا چاہیں گریبان پھاڑدیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ریاستی اداروں کی نااہلیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف لب کھولتے ہیں تو ان کے لب سی دئیے جاتے ہیں، انگلیاں اٹھاتے ہیں تو ہاتھ باندھ دئیے جاتے ہیں۔ وہ اپنے تئیں اپنی من پسند نشاندہیوں کے ذریعے قوم کوترقی اور اخلاق کے اعلیٰ ترین درجے پر لے جانا چاہتے ہیں۔میں نے پوچھا ، ہم میں سے بہت سارے بار بار ملکہ کوہسار مری کی طرف جاتے ہیں، چھرا پانی ، کمپنی باغ اور دیگر مقامات سے بل کھاتی ہوئی سڑک پر بیسیوں خطرناک موڑ ہیں ، اس سڑک پر سفر کرتے ہوئے ہمیں ان تمام باڑوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے جو ان موڑوں پر لگائی گئی ہیں، اب آپ یہ شکوہ نہیں کر سکتے کہ ہمیں یہ باڑیں ہمیں مری جانے سے روک رہی ہیں بلکہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ ان باڑوں کو اسی لئے لگایا گیا ہے کہ ہم ڈرائیونگ کرتے ہوئے محفوظ طریقے سے مری پہنچ جائیں۔ اگر آپ ان باڑوں کو رکاوٹ سمجھ کر توڑنا شروع کر دیں تو یقینی طور پرآپ خود بھی کسی کھائی میں گر سکتے ہیں اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرات لاحق کر سکتے ہیں، ہاں،ہمیں ڈرائیونگ کرنے کی آزادی ہے، سڑکیں بھی اِسی لئے بنی ہیں اور ڈرائیونگ لائسنس بھی اسی آزادی کو تحفظ دینے کے لئے جاری ہوتا ہے،مگر ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے والے سڑکوں پر کہیں مسلسل سفید لائن لگا دیتے ہیں اورکہیں لال بتی، سفید لائن کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ یہاں سے اوورٹیک کریں گے تو مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے ٹکرا نے کا خطرہ ہو گا اور لا ل بتی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس وقت کھڑے رہیں گے جب تک آپ کو گرین بتی جلتی ہوئی نظر نہ آنے لگے۔ ا س فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کسی حادثے سے بچ جائیں گے۔

دوست کہتے ہیں کہ ڈرائیونگ مختلف موضوع ہے اور آزادی اظہار ایک دوسری بات، وہ کہتے ہیں کہ رائے کی آزادی تو ہماری فطرت میں ہے او ر اگر کوئی اس کو سلب کرتا ہے تو وہ فطری تقاضوں کی نفی کرتا ہے۔ میں نے ہنس کر پوچھا، کہ دولتی جھاڑنا گدھے کی فطرت میں شامل ہے تو کیا اسے اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ جسے چاہے دولتی جھاڑتا پھرے، اس کی ہڈیاں توڑتا پھرے۔ کہتے ہیں کسی جرنیل کا کوئی گدھا تھا اور اسے دولتیاں جھاڑنے کی عادت تھی، کبھی کوئی سپاہی اور کبھی کوئی حوالدار، کوئی نہ کوئی اس کی دولتیوں کا نشانہ بنتا ہی رہتا تھا،مگر جرنیل صاحب کے ڈر سے کوئی بھی اس کی نہ تو شکایت کرتا تھا اور نہ اسے دو ، چار ڈنڈے رسید کرتا تھا، کئی مرتبہ تو اس نے کچن میں جا کے دولتی جھاڑی اور قیمتی برتن توڑ ڈالے، مگر سب خاموش رہے اور گدھے کو دولتیوں کی آزادی رہی اور پھر اسی آزادی کو استعمال کرتے ہوئے اس نے ایک روز بم کو لات دے ماری۔ یقینی طور پر اگر گدھے کی فطرت کو سمجھتے ہوئے اسے کنٹرول کیا جاتا توپوری پلاٹون ہی سکون میں نہ ہوتی،بلکہ خود گدھے کی زندگی بھی بچ جاتی۔ یوں ہمیں گدھوں کو سدھاتے ہوئے سکھانا چاہئے کہ لوگوں کے درمیان کیسے رہنا ہے، دولتیوں کو ان کی فطرت قرار دیتے ہوئے اپنی ہڈیاں تڑواتے رہنا تو کوئی عقل مندی نہیں ہے۔

بھلے وقتوں میں صحافت ہوتی تھی تواس میں یک طرفہ الزامات کو شامل نہیں کیا جاتا تھا، جس پر الزام لگایا جا رہا ہوتا تھا اس کا موقف ضرور شامل کیا جاتا تھا چاہے وہ صرف ایک فقرہ ہی کیوں نہ ہو کہ یہ تمام الزامات غلط ہیں، مگر الیکٹرانک میڈیا میں صحافت نے ایک نئی طرز اختیار کی ہے۔ اب سچ وہ ہوتا ہے جسے سکرین پر بیٹھا ہو ا شخص سچ سمجھ رہا ہو۔ صحافت عطائیوں اور مجمعے بازوں کے ہتھے چڑھی ہوئی ہے۔ یہ کرنٹ افئیرز کی پروگرامنگ کا ایک نیا انداز ہے کہ آپ اپنے ساتھ ایک لڑکی بٹھا لیں جسے معاملات کی رتی برابرسوجھ بوجھ نہ ہو اور آپ جو چاہے انٹ شنٹ بولتے چلے جائیں۔ ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ جس پر الزام لگانا چاہ رہے ہیں اس کے مخالفین کو اپنے پروگرام میں مدعو کر لیں،وہ لوگ شوق کے ساتھ آئیں گے اور اس کے ذریعے نہ صرف خود میڈیا پر جگہ لیں گے،بلکہ اپنے مخالفین پر لگنے والے کسی بھی الزام کا ثبوت مانگنے کی بجائے اس میں مرچ مصالحہ لگائیں گے اور آپ چالیس ، پچاس منٹ کی گفتگو کے بعد اپنے الزامات کے درست ہونے کے جھنڈے لہرادیں گے۔ ایک طریقہ یہ استعمال ہو رہا ہے جس میں تمام ایک ہی نکتہ نظر کے مبینہ دانشوروں کو اکٹھا کر لیا جاتا ہے اور یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ دفاعی اداروں سے ریٹائر ہونے والے سیاست پر اظہار خیال کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ ان اداروں کی تربیت ہی سیاسی اور سماجی معاملات میں دخل اندازنہ ہونے کی ہوتی ہے ۔

سماجی سطح پر ایک مثال بار بار استعمال کی جاتی ہے اور وہ کسی پتنگ کے فضا میں اوپر اور بہت اوپر جانے بارے ہے، وہ اسی وقت اوپر جائے گی جب تک وہ کسی ڈور سے بندھی رہے گی، جیسے ہی ڈور ٹوٹے گی یہ توممکن ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث وہ تھوڑی بہت مزید اوپر چلی جائے، مگر پھر بہت جلد وہ لوٹ لی جائے گی یا زمین پر آگرے گی۔ مجھے عدلیہ بارے پروگرام کرنے پر اپنے غصے میں برہم دوستوں سے کہنا ہے کہ انٹ شنٹ الزام تو اب عام آدمی بھی سننے کو تیار نہیں ہوتا، آپ عدلیہ پر لگائیں گے تو یقینی طور پر اس کا نوٹس لیا جائے گا۔ ایک ادارے کو یہ آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ باقی تمام اداروں کو تباہ کر دے۔ آپ خود کو ہاتھی سمجھتے ہیں تو یہ معاشرہ آپ کو اس امر کی آزادی نہیں دے سکتا کہ آپ بدمست ہو کر چینی کے برتنوں کی دکان میں گھس جائیں ، مہینوں ، برسوں اور عشروں میں بننے والے تمام برتن ایک ہی مستی میں ریزہ ریزہ کر ڈالیں۔ وہ امریکی روایت بھی دہرادیتا ہوں کہ آپ کی آزادی وہاں تک ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے، کیا آپ اس امر کو اب بھی نہیں سمجھ پا رہے کہ جب راستوں کے خطرناک موڑوں پر کچھ باڑیں لگائی جاتی ہیں تو وہ محفوظ سفر کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے ہی ہوتی ہیں ، آزادی کی نفی تب ہو گی جب مری جانے والا راستہ مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔

مزید : کالم