غازی آباد ، جرائم پیشہ عناصر بے لگام ، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

غازی آباد ، جرائم پیشہ عناصر بے لگام ، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی

 لاہور(بلال چودھری )غازی آباد میں جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی مل گئی ،اعلیٰ افسران کی جانب سے متعدد بار تھانہ کلچر اور کرپشن ختم کرنے دعوے ہوا ہو گئے۔اس علاقہ میں چوریاں،منشیات فروشی، قحبہ خانے ،پرچی جوا،قماربازی سمیت چوریاں اور رہزنی کرنے والے جرائم پیشہ افراد نے ڈیرے جما کر شہریوں کا جینا محال کررکھا ہے ۔علاقہ میں قائم بلیئرڈکلبوں میں جرائم پنپنے لگے بچوں سے بد اخلاقی ،منشیات فروشی ،پرچی جوا اور دیگر جرائم ان بلیئرڈ کلبوں سے جنم لینے لگے، دوسری جانب تھانہ میں آنے والے سائلین سے پولیس اہلکاروں نے ہتک آمیز سلوک کرنا اپنا شعار بنا لیا ۔’’پاکستان ‘‘کے سروے کے دوران مقامی افراد نے بتایا کہ غازی آباد میں منشیات فروشی کا کالا دھندہ کرنے والوں میں مین بازار کا پرویز عرف پیجی،ندیم عرف ریما ،اعجاز عرف ججی اورغلام حسین عرف گامی ،تاجپورہ پنڈ کا سکندر علی عرف ببلو،شیدو ، اور دیگر کئی افراد شامل ہیں۔اس علاقہ کے قمار بازوں میں محمد افضل بھٹی اور رئیس احمدوغیرہ شامل ہیں جو نئی نسل کو جوئے کی لت ڈالنے میں مصروف ہیں اورپولیس نے گویا نئی نسل کو ان افراد کے ہاتھوں فروخت کر دیا ہے۔اس علاقہ میں جسم فروشی جیسا مکروہ دھندہ کرنے والوں میں تاج پورہ کی پروین بی بی عرف پینو،پھاٹک مسلم آباد کی روبی بٹ زوجہ مظہر بٹ اور تاج پورہ کا یوسف مسیح وغیرہ کے نام شامل ہیں جن کے زیر اثر درجنوں قحبہ خانے بلا خوف و خطر کام کر رہے ہیں۔پرچی جواء میں چھلی علاقہ میں مشہور ہے جو کہ ایس ایچ او کے کار خاص محسن اور وقار کو 20ہزار ہر ماہ مبینہ طور پر دیتا ہے ۔علاوہ ازیں اس علاقہ میں ڈکیتی ،راہزنی او ر چوری کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں اور پولیس 2ماہ بعد ایک گینگ پکڑ کر کار گردگی ظاہرکردیتی ہے جبکہ باقی گینگ کھلے عام گھومتے رہتے ہیں۔مقامی رہائشیوں رزاق ،شفیق،محسن ،اقبال اوراجمل سمیت دیگر متعدد افرادنے کہاکہ پولیس کی ملی بھگت کے بغیر کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں ہو سکتا ہمارے پنجاب کی پولیس چاہے تو جرم ایسے ختم کر سکتی ہے جیسے یہ جرائم پیشہ افراد کبھی پیدا ہی نہ ہوئے ہوں لیکن اگر ہمار ے شیر جوان ایسا کریں گے تو بونس کہاں سے ملے گا۔درجنوں مقامی باسیوں نے اپنا نام اور تصویر بھی نہ دی اور کہا کہ ایسا کرنے سے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ساتھ پولیس سے بھی دشمنی پڑجائے گی۔ جب کبھی کوئی ملزم کسی دوسرے علاقے کی پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو اسے بھی علاقہ کی پولیس اپنے پیٹی بھائیوں کو اونے پونے خرچہ پانی دے کرانہیںآزاد کروا لیتی ہے۔ مقامی تاجروں نے کہا کہ ہماری پولیس جو کہ عوام کو تحفظ تو دے نہیں سکتی مگر "ماہانہ"لینا نہیں بھولتی۔پولیس کو خوش کرنے کے علاوہ جرائم پیشہ افراد کی بھی سننی پڑتی ہے کہ کہیں پولیس ہمیں ہی نہ پکڑ لے۔تاجروں کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد نے پورے علاقے میں اپنے کارندوں کو پھیلارکھا ہے جنہوں نے شریف شہریوں کا جینا محال کیا ہوا ہے لیکن پولیس کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ایس ایچ او انسپکٹر عتیق ڈوگر سے اس حوالے سے گفتگو کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان کا موبائل مسلسل مصروف جا رہا تھا البتہ تھانہ میں رابطہ کیا گیا تو پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ علاقہ کے کئی منشیات فروشوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے ان کو سلاخوں کو پیجھے دھکیلا گیا ہے۔الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔پولیس کی جانب سے علاقہ میں جرائم کو مکمل طور پر کنٹرول کیا گیا ہے۔

مزید : علاقائی