وزیر اعظم کا کابینہ کو بائی پاس کرنیکا اختیار ختم ،لیوی ٹیکس میں اضافہ کالعدم ،سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

وزیر اعظم کا کابینہ کو بائی پاس کرنیکا اختیار ختم ،لیوی ٹیکس میں اضافہ ...

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این) سپریم کورٹ نے گورننس کے حوالے سے تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے جس میں وزیراعظم کے وفاقی کابینہ کو بائی پاس کرنے کے اختیار کو ختم کر دیا گیا ہے ،عدالت عظمیٰ نے 80صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں لیوی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وزیر اعظم یا کسی وفاقی سیکرٹری کا نام نہیں بلکہ حکومت وفاقی وزراء اور قائد ایوان پر مشتمل ہوتی ہے ،اب کابینہ کی منظوری کے بغیر وزیر اعظم کوئی آرڈیننس،قانون یا بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں کر سکتے،ہر فیصلے میں کابینہ کی منظوری ضروری ہو گی،مالی معاملات ، بجٹ اخراجات اور صوابدیدی اخراجات کاتعین فرد واحد نہیں وفاقی حکومت کرتی ہے، ٹیکس میں اضافے یا کمی کا اختیار بھی وزیر اعظم کو نہیں وفاقی حکومت کو ہے،لیوی ٹیکس کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے ، کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا، کوئی بھی آرڈیننس غیر قانونی ہوگا۔جمعرات کو جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لیوی ٹیکس میں اضافے کے نوٹیفکیشن کیخلاف اپیلوں پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔لیوی ٹیکس کو نجی کمپنیوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے 80صفحات پر مشتمل فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس میں اضافے یا کمی کا اختیار وزیر اعظم کو نہیں وفاقی حکومت کو ہے ۔1973کے رولز آف بزنس کی پابندی حکومت پر لازم ہے ، سیکرٹری ، وزیراعظم اور نہ وفاقی وزیراپنے طور پر حکومت ہے۔عدالت نے وفاقی حکومت کے ضابطہ 16کی شق 2کے تحت کابینہ کو بائی پاس کرنے کا وزیراعظم کا اختیار کالعدم قرار دے دیا۔وفاقی حکومت ،وفاقی وزراء اور وزیراعظم پر مشتمل ہوتی ہے ،مالی معاملات ، بجٹ اخراجات حکومت کے صوابدیدی اخراجات وفاقی حکومت کرتی ہے۔وزیراعظم تنہا یہ اختیاراستعمال نہیں کرسکتے ۔عدالت نے لیوی ٹیکس میں اضافے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی ہے ، کابینہ کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا کوئی بھی آرڈیننس غیر قانونی ہوگا۔اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ وزیراعظم کابینہ کو بائی پاس نہیں کرسکتے ۔ فنانس بل سمیت ہر قسم کی قانون سازی کے لیے کابینہ کو وقت چاہیے ، کوئی بھی قانون یا بل وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔وزیراعظم ، وزیر یا سیکرٹری وفاقی حکومت کا اختیار استعمال نہیں کر سکتا ۔فنانس بل ، آرڈیننس یا قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے کابینہ کی منظوری ضروری ہے ۔کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی بھی آرڈیننس کا اجرا غیر قانونی ہے ، کوئی بھی قانون یا بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

مزید : صفحہ اول