بچوں کی پر اسرار گمشدگی یا اغوا نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا

بچوں کی پر اسرار گمشدگی یا اغوا نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کارکردگی پر ...

لاہور(دیبا مرزا سے )صو با ئی دارالحکو مت میں بچوں کی پراسرار گمشدگی یا مبینہ اغواء کے پس پردہ اصل حقائق جو بھی ہو ں لیکن اس حوالے سے منظر عام پر آنی وا لی کہا نیوں نے والدین میں بلخصوص اور شہریوں میں بالعمو م خو ف پیدا کر دیاہے جو ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لے رہا ، اس صور تحال میں مر کزی کردار کے حا مل ادارہ چا ئلڈ پروٹیکشن بیو رو کی کار کر دگی سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے ،گمشدہ بچوں کو والدین سے ملوا نے اور لاوارثوں کیلئے سر پر ستی تلاش کر نے کے ذمہ دار اس ادارہ کے حوالے سے گمشدہ بچوں کے والدین میں سخت تشویش پا ئی جا تی ہے اور نوبت ادارہ چا ئلڈ پروٹیکشن کیخلاف مقد مات کے اندراج اور درخواستوں کی بھر مار تک پہنچ گئی ہے تفصیلات کے مطابق شہر بھر میں بچوں کی پراسرار گمشدگی یا مبینہ اغواء کاذکر ہر خاص و عام کی زبان پر عام ہے ۔جہاں ایک طرف شہریوں میں خوف و ہراس اور بے چینی پا ئی جا تی ہے تو دوسری جا نب یہ حکو مت اور شہر میں امن و امان قائم رکھنے والے اداروں کے لئے ایک بڑی سر درد بن کر رہ گئی ہے ۔بظاہر تو یہ ادارہ لاوارث اور بے گھر بچوں کو سرپرستی فراہم کر تا ہے لیکن اس ادار ہ کے حوالے سے کئی اقسام کی کہا نیا ں منظر عام پر آرہی ہیں ،گلی محلوں میں کھیلنے وا لے بچوں کو محض کارکر دگی دکھانے کیلئے اٹھا لیا جا تا ہے جس پر شہریوں کے جا نب سے بیورو کے خلاف مقد مات کی درخواستیں بھی دی جا چکی ہیں ۔دوسری جانب اس حوالے سے گفتگو کر تے ہو ئے چا ئلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئر پر سن صبا صا دق نے کہا ہے کہ چا ئلڈ پرو ٹیکشن کی شہر بھر میں شیڈول ریسکیو آپر یشن کر تی ہے جس میں ان بچوں کو ریسکیو کیا جا تا ہے جن کے بارے میں بھیک ما نگنے کا شبہ ہو یا پھر ان سے گھر اور ماں باپ کے حوالے کئے گے سوالوں کے ٹھیک جواب نہ دئیے جا سکیں ہوں انہوں نے کہا کہ ہمارے ریسکیو کر نے والے بچوں میں زیا دہ تر بچے خود گھروں سے ما ر پیٹ کی و جہ سے بھا گ جاتے ہیں اور گھر والوں کے ملنے پر متضا د بیان د ینے کی و جہ سے ہمارے درمیان مس انڈرسٹینڈ نگ ہو جا تی ہے انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیمیں منظم طر یقہ کار سے ریسکیو آپر یشن کر تی ہیں اور ہماری پوری کو شش ہو تی ہے کہ گھر سے بھا گے ہو ئے بچوں کو ان کے گھروں تک پہنچائیں ۔

مزید : صفحہ اول