وفاقی کابینہ نے توانائی ،تجارت اور مجرموں کے تبادلوں سمیت اہم معاہدوں کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے توانائی ،تجارت اور مجرموں کے تبادلوں سمیت اہم معاہدوں کی ...

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم نواز شریف نے وزراء کو ہدایت کی ہے کہ مدت پوری ہونے سے قبل توانائی بحران کا خاتمہ اولین ترجیح ہونا چاہیے ، توانائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے حکمت عملی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے ،ماضی میں تھر کے کوئلے کے ذخائر سے استفادہ نہیں کیا گیا،تھر کوئلے کے ذخائر سے استفادہ کیا جاتا تو آج بجلی برآمد کر رہے ہوتے۔سی پیک منصوبہ کل ایک کا غذکا ٹکڑا تھا اور آج 36 ارب ڈالر کے منصوبوں پر کام جاری ہے ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، جس میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار، وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں پہلے سانحہ کوئٹہ کے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کے لیے جلد صحت یابی کے لیے دعا کی گئی۔ اس موقع پر پاک چین اقتصادی راہدری منصوبے سمیت ملک بھر میں جاری توانائی اور انفرااسٹرکچر منصوبوں پر غور کیا گیا جبکہ کابینہ کو سی پیک منصوبے میں پیشرفت پر خصوصی بریفنگ بھی دی گئی۔اجلاس میں سی پیک کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد کو تیز کا جامع نظام بنانے اوردہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کے لیے جامع پالیسی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،اجلاس میں وفاقی کابینہ کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبوں پر پیشرفت سے بریفنگ دی گئی اس پر وزیرا عظم نواز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کیں کے اقتصادی راہداری کے تمام منصوبوں کی تکمیل کی رفتار کو تیز کیا جائے ،سی پیک منصوبوں کی جلد اور بروقت تکمیل ہماری ترجیح ہونی چاہیے،گوادر پورٹ اتھارٹی ،سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں پر کام تیز کیا جائے،سی پیک منصوبوں پر جلد عملدرآمد اور پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے طریقہ کار واضح کیا جائے،ہمیں آئندہ کی منصوبہ بندی پر بھی توجہ دینی ہے،جبکہ وزیر اعظم نے سی پیک منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے اطمنان کا اظہار کیا،اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کی بہبود کے لیے جامع پالیسی تشکیل دی جائے،وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ شہدا کے بچوں کی تعلیم اور روزگار کے لیے جامع پروگرام کابینہ کو پیش کیا جائے ،دہشتگردی سے متاثرین کے لیے قومی انڈورمنٹ فنڈز کے قیام سے متعلق فزیبلٹی کا جائزہ لیا گیا ۔وفاقی کابینہ نے محتلف ممالک کے درمیان سمجھوتوں کی منظوری بھی دی،پاکستان ،کینیا اور ویت نام کے درمیان انسداد منشیات سے متعلق مفاہمتی یاداشت پر دستخط ،پاکستان اورقازقستان کے درمیان مجرموں کے تبادلے کے معاہدے پر دستحط،پاکستان اور جاپان میں شعبہ توانائی میں اصلاحات کی منظوری دیدی گئی ،اجلاس میں وفاقی وزیر ہاؤسنگ نے نجی شعبے کے تعاون سے لینڈ بینکنگ پالیسی پر بریفنگ دی،جبکہ وزارت کی تجویز کو اصولی طور پر منظور کر کے پالیسی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وفاقی کابینہ نے وزارت ہاؤسنگ کی تجاویز کو مزید بہتر بنانے کے لیے چار رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جس میں کمیٹی ہاؤسنگ داخلہ اور قانون کے وزراء اور چےئرمین سی ڈی اے شامل ہونگے۔پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزہ ختم کرنے کے معاہدے ،پاکستان اور روس کے مرکزی بینکوں کے درمیان تعاون کے لیے مذاکرات شروع کرنے،پاکستان اور ویت نام کے درمیان آڈٹ تعاون کے سمجھوتے ،پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان آڈٹ کے شعبے پر مفاہمت کی یاداشت پر مذاکرات شروع کرنے اور پاکستان اور جاپان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات پروگرام کے لیے قرض معاہدے کی منظوری دیدی گئی ہے۔کابینہ نے کوڈ آف کریمینل پروسیجر کے ترمیمی قانون پر صوبوں سے بھی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول