وزیر اعظم کی خواہش، اسحق ڈار اور ایاز صادق کی کوششیں،مفاہمت برقرار؟

وزیر اعظم کی خواہش، اسحق ڈار اور ایاز صادق کی کوششیں،مفاہمت برقرار؟

تجزیہ:چودھری خادم حسین

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی ہدایت پر وزیر خزانہ اسحق ڈار اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوششوں کا آغار کیا، اسحق ڈار کی خورشید شاہ سے تفصیلی ملاقات اور ایازصادق کا متحدہ اپوزیشن سے رابطہ اسی سلسلے کی کڑی ہے، ان سطور میں کافی عرصہ پہلے بتادیا گیا تھا کہ وزیر اعظم اپنی جماعت کے ’’عقابوں‘‘کے علی الرغم مفاہمت کی سیاست کو ترک نہیں کرنا چاہتے اور ان کی ذہنی ہم آہنگی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پی۔پی۔پی۔پی کے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ہے یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی عمران خان کی تحریک میں عملی شمولیت سے گریز کرتی ہے، اگرچہ بلاول بھٹو اپنے بیانات میں سخت رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، اب آزاد کشمیر کے انتخابات بھی مکمل ہو چکے کوئی اوربڑا معرکہ بھی نہیں ہے اس لئے مفاہمت کی کوشش بے معنی نہیں، البتہ سرکاری نمائندے حتیٰ الامکان وزیر اعظم کا نام پاناما لیکس کی تحقیقات سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ روز قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اپنے مزاج کے مطابق ٹھوس اور نرم گفتگو کی تاہم اس بار ان کی طرف سے ایک وارننگ بھی تھی وہ کہتے ہیں کہ ان کی کوشش کے باوجود حکمران جماعت کوئی بات ماننے کو تیار نہیں اور اگر یہی صورت حال رہی تو پھر مجبوراً پیپلز پارٹی بھی ستمبر میں سڑکوں پر ہوگی، سید خورشید شاہ نے یہ وقت حالیہ سرگرمیوں ہی کی بنا پر متعین کیا وہ چاہتے ہیں کہ اس سے پہلے ہی معاملات پارلیمنٹ کی سطح پر حل ہو جائیں، شاہ جی نے ایان علی اور ڈاکٹر عاصم کے حوالے سے گیند واپس چودھری نثار کی طرف پھینک دی اور کہا ان کو تو کوئی علم نہیں، چودھری نثار خود ہی بتا دیں کہ ان سے کون ملا، اور پھر دہشت گردی اور جرائم کی کھوج تو لگتی نہیں لوگوں کے اکاؤنٹ میں جھانکنا بہت برُے اخلاق کی بات ہے اور یہ معیار چودھری نثار ہی کا ہو سکتا ہے، ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی طرف سے لیگل نوٹس کے بعد بہت کچھ سامنے آئے گا، اگر حالات کا رخ یونہی رہا تو پھر پیپلز پارٹی بھی جلسے اور مظاہرے کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے اور احتجاج مشترک بھی ہوسکتا ہے اسحق ڈار اور ایاز صادق کو جلدی کرنا ہوگی، سید خورشید شاہ نے شیخ رشید کے ساتھ نرم گرم گفتگو سے انکار کیا ہے۔

قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور اسحق ڈار کی ملاقات نے حزب اختلاف کی صفوں میں مزید دراڑ ڈال دی ہے، اور اجلاس میں شیخ رشید نے خورشید شاہ پر تنقید کر دی بلکہ ان پر سرکاری حمائت کا الزام بھی لگادیا، معاملہ کو چودھری اعتزاز احسن نے سنبھالا، متحدہ حزب اختلاف کی یہ میٹنگ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی کوشش کا نتیجہ تھی جنہوں نے ٹی۔او۔آرز کے مسئلہ پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے اور اس میں شرکت کی اپیل کی تاکہ پاناما لیکس کے حوالے سے ٹی۔او۔آر پر معاملہ طے ہو سکے اور کمشن قائم ہو کر اپنا کام کرے،بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کے اجلاس میں اختلاف تھا اتفاق نظر نہیں آیا تاہم چودھری اعتزاز احسن نے اسے نہ صرف اجلاس قرار دیا بلکہ اس کے بعد وفد نے سپیکر سے ملاقات کر کے ان کو تحفظات سے بھی آگاہ کردیا کہ ٹی۔او۔آر کے مسئلہ پر اپوزیشن کے نقطہ نظر کو ترجیح دی جائے تو شرکت کی جاسکتی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے ذہن میں بھی کوئی خاص وجہ ہے کہ مشروط طور پر شرکت پر آمادگی ظاہر کی ہے، ادھر متحدہ قومی موومنٹ(ایم۔کیو۔ایم) نے اجلاس کے فیصلوں سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے جو حزب اختلاف میں دراڑ بڑھ جانے کا سندیسہ ہے، اس سے پہلے ہی پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان ایک پردہ حائل ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت کے نام پر تحریک سے الگ تھلک ہے، جبکہ تحریک انصاف،عوامی مسلم لیگ اور پاکستان عوامی تحریک حکومت مخالف تحریک شروع کرچکی ہیں۔

وزیر خزانہ اسحق ڈار نے قائد حز اختلاف سید خورشید سے ملاقات کی اس میں تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے پر غور ہوا اور طے کیا گیا کہ انکوائری کمیشن کے حوالے سے نیا قانون بنایا جائے کہ پہلے والا قانون متروک ہو چکا ہوا ہے، تاہم سید خورشید شاہ نے واضح کردیا کہ متحدہ اپوزیشن کو لالی پاپ نہیں دیا جاسکتا، بہتر عمل یہ ہے کہ کام شروع کیا جائے، انہوں نے بتایا کہ ٹی۔ او۔ آر پر تحفظات ہیں ان کو دور کرنا ہوگا۔

ادھر الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر سماعت کی اور ریفرنسوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق غور ہوگا، عدالت نے وزیر اعظم محمد نواز شریف سمیت تمام فریقوں کو نوٹس جاری کردیئے ہیں، 6ستمبر کی سماعت پر ریفرنسوں کی آئینی حیثیت پر بحث شروع کرائی جائے گی کہ یہ قابل سماعت بھی ہیں یا نہیں؟

اس طرح دو نہیں بلکہ سہ آتشہ پروگرام چل رہا ہے، عمران خان اور شیخ رشید کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی وہ دھرنوں کا اعلان کر کے تفصیلی پروگرام جاری کردیا، یہ سلسلہ 20اگست سے شروع ہوگا۔

مزید : تجزیہ


loading...