بجلی کے بلوں میں اضافی یو نٹس کی بھر مارسے صارفین "چکرا"کررہ گئے

بجلی کے بلوں میں اضافی یو نٹس کی بھر مارسے صارفین "چکرا"کررہ گئے

لاہور ( اسد اقبال ) بجلی کے بلوں میں اضافی یو نٹس کی بھر مار ، لائن لاسز" کور "کر نے کے نام پر اووربلنگ ،پیک اور آف پیک اوقات کے مختلف ٹیرف سمیت بجلی کے بلوں میں پائی جانے والی پیچیدگیوں نے صارفین کو "چکرا"کر رکھ دیا ۔دو دو کمروں کے گھروں میں ہزاروں روپے بلز شہریوں کو نفسیاتی مر یض بنانے کا باعث بن رہے ہیں جبکہ دس سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لینے والے ملازمین کو بیس ہزار روپے تک کے بلز بھجوائے جارہے ہیں اور انھیں ٹھیک کروانے کے نام پر شہریوں کو گھنٹوں قطاروں میں لگ کر جس رسوائی کا سامنا کر نا پڑتا ہے اس کی مثال ماضی میں کم ملتی ہے ۔لائن سپر نٹنڈنٹ سے چیف ایگزیکٹو لیسکو کے دفتر کے چکر کاٹنے کے بعد مایوس لو ٹنے والوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں تک پہنچ چکی ہے ۔ تاجر تنظیموں نے انتباہ کیا ہے کہ ماہ رواں میں معاملات درست نہ کیے گئے تو ہم لیسکو گر دی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ لیسکو کے لائن مین میٹر پر درج ریڈنگ صحیح نہیں لیتے جن کو افسران کی جانب سے ہدایات جاری ہیں کہ لائن لاسز کو کو ر کر نے کے لیے ایک سو سے ایک ہزار اضافی یو نٹس ڈال کر صارفین کی جیبوں سے رقم نکلوائی جائے اور اسی سلسلہ کے لیے موبائل ریڈنگ کا پر نٹ بھی صحیح نہیں لیا جاتا تاکہ صارف کو بجلی کے بل میں میٹر ریڈنگ واضح نظر نہ آسکے ۔ اووربلنگ کے حوالے سے شہریوں کی بڑی تعداد بل صحیح کروانے کے لیے لیسکو آفس کے چکر لگانے پر مجبور ہے اور جس کسی شہری کی اووبلنگ صحیح کی جاتی ہے تو آئندہ ماہ آنے والے بجلی کے بل میں دوبارہ اضافی یو نٹس ڈال دیے جاتے ہیں جس پر شہریوں نے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پاکستان سے گفتگو کر تے ہوئے آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر اور انجمن تاجران لاہور کے صدر مجاہد مقصو د بٹ نے کہا ہے کہ لیسکو نے جہاں گھریلو سطح پر اووربلنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہیں کمرشل میٹرز پر بھی اضافی یو نٹس ڈالے جارہے ہیں جس کے لیے لیسکو افسران کو تحریری درخواستیں بھی دی گئی ہیں لیکن کو ئی داد رسی نہیں ہو رہی ۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ لیسکو میں رشوت دندناتی پھر رہی ہے جس کے باعث یہ ادارہ تباہ ہو گیا ہے انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ڈسکو ز کو پرائیویٹ کر کے بجلی کے صارفین کو ریلیف اور کر پٹ ملازمین کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔ انھوں نے مذید کہا کہ اگر لیسکو نے اپنے رویہ تبدیل نہ کیا تو تاجر برادری سر اپا احتجاج بنتے ہوئے لیسکو کے خلاف سڑکو ں پر نکل آئے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ اووربلنگ کے حوالے سے لیسکو کے خلاف صارفین کی شکایات بہت زیادہ ہیں جس کے لیے لیسکو چیف کو ہدایات کی گئیں ہیں کہ بجلی کے بلوں میں درستگی کے حوالے سے صارفین کو درپیش مسائل کا حل اور لائن لاسز کو کنٹرول کر نے کے لیے اقدامات اٹھائیں ۔ لیسکو کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اووربلنگ نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔

اضافی یو نٹس

مزید : صفحہ آخر


loading...