پانامہ لیکس کا معاملہ 22اگست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے، سراج الحق

پانامہ لیکس کا معاملہ 22اگست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرینگے، سراج الحق

لاہور(اے این این) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے ہم پانامہ لیکس کے معاملے کو 22اگست کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں اورگلی کوچوں اور چوراہوں میں عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ کرپشن کے خلاف جماعت اسلامی نے قانونی جنگ کا آغاز بھی کردیا ہے ۔ اس قانونی جنگ کے نتیجے میں آنے والے وقت میں ملکی سیاست میں معاشی دہشت گردوں کیلئے کوئی جگہ نہیں رہے گی ۔ جماعت اسلامی آئندہ انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں نائب امراء میاں محمد اسلم ،سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ،میاں مقصود احمد ،ڈاکٹر وسیم اختر و دیگر نے شرکت کی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہماری جنگ کسی فردکے خلاف نہیں یہ جنگ ملک میں جاری کرپشن کے ناسور کے خلاف ہے یہی کرپشن ہے جس کی وجہ سے ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ 22اگست سے کرپشن کے خلاف شروع ہونے والی عدالتی جنگ معاشی دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچائے گی اور ملک سے لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس لانے میں مددگار ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہی قانونی جنگ کرپشن کی روک تھام کیلئے دیرپااور بنیادی قانون سازی کیلئے اہم کردار ادا کرے گی ۔ انہوں نے پنجاب میں بچوں کے اغوا ء کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز اغواء کے واقعات نے والدین کی نیندیں حرام کردی ہے ،مائیں اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے ڈرتی ہیں اور پورے معاشرے کے اندر خوف کا پہرا ہے مگر حکمران آئے روز گڈ گورننس کے دعوے کرتے نہیں تھکتے ۔انہوں نے کہا کہ والدین بچوں کی حفاظت کیلئے سارا دن تو سکول نہیں بیٹھ سکتے ،عوام کو جان و مال اور عزت کا تحفظ دینا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ریاست ہی کو نبھانا پڑے گی عام آدمی جو مشکل سے دووقت کی روٹی کماتا ہے وہ اپنی حفاظت کیلئے گارڈتو نہیں رکھ سکتا۔لوگوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جسے پورا کرنے میں حکمران بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...