رائل پام گالف اینڈکنٹری کلب پر مبینہ قبضہ کا الزام ،سعد رفیق اور ریلوے حکام کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر یکم ستمبرکیلئے نوٹس

رائل پام گالف اینڈکنٹری کلب پر مبینہ قبضہ کا الزام ،سعد رفیق اور ریلوے حکام ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شمس محمود مرزا نے رائل پام گالف اینڈکنٹری کلب پر مبینہ قبضہ کرنے ، املاک کو نقصان پہنچانے اور کلب کے عملے کو ہراساں کرنے کے الزام میں وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق اور ریلوے حکام کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر یکم ستمبر کے لئے نوٹس جاری کردیئے ہیں۔درخواست گزار رائل پام کلب انتظامیہ کی درخواست میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے اور ریلوے حکام کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست مسترد کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا گیاہے۔ کلب کی انتظامیہ کی جانب سے بیرسٹر اعتراز احسن نے عدالت میں پیش ہوکر موقف اختیار کیا کہ ریلوے انتظامیہ نے کلب پر قبضہ کیا املاک کو نقصان پہنچایا اور کلب کے ملازمین کو ہراساں کیا ہے اور ریلوے انتظامیہ کا یہ اقدام پاکستانی قانون کے تحت قابل دست اندازی جرم ہے۔ اس لیے وزیرریلوے سیکرٹری ریلوے ا?ئی جی پولیس ریلوے سمیت دیگر حکام کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد وزیر ریلوے اور ریلوے حکام کویکم ستمبر کے لیے نوٹس جاری کردیئے۔ آئندہ سماعت پر رائل پام کلب کی دیگر درخواستوں پر بھی سماعت ہوگی۔اس سے قبل لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے رائل پام کلب کے معاملات میں ریلوے انتظامیہ کی مداخلت پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت سے معذوری ظاہر کردی۔انہوں نے کیس چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ کو بھجواتے ہوئے سفارش کی ہے کہ اس معاملے پر کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے روبرو لگایا جائے۔ کلب کی جانب سے اعتراز احسن نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ ریلوے انتظامیہ عدالتی احکامات کے باوجود کلب کے معاملات میں مداخلت کررہی ہے۔ عدالتی استفسار پر اعتراز احسن نے بتایا کہ رائل پام کلب کے معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی کیس پر سماعت کررہے ہیں۔ جس پر جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر کارروائی سے معذرت کرلی اور درخواست چیف جسٹس لاہو رہائیکورٹ کو بھجوا دی تاکہ اس درخواست کو اس بنچ کے روبرو پیش کی جائے جو اس معاملے پر پہلے سماعت کرچکا ہے۔درخواست میں ریلوے انتظامیہ کی جانب سے رائل پام کلب کے معاملے پر مداخلت کو چیلنج کرتے ہوئے اس ریلوے انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

مزید : صفحہ آخر