ایم کیو ایم کے استعفوں کا شوشہ ،سنجیدہ اقدام یا محض سیاسی دباؤ کا حربہ ؟

ایم کیو ایم کے استعفوں کا شوشہ ،سنجیدہ اقدام یا محض سیاسی دباؤ کا حربہ ؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اپوزیشن کے اسمبلیوں سے استعفوں کی بات تو کافی عرصے سے کی جا رہی ہے، مخدوم جاوید ہاشمی بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے تو وزیر اعظم نواز شریف قبل ازوقت انتخابات کرانے کے لیے مجبور ہو جائیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اپوزیشن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے میں سنجیدہ ہے؟ یہ سوال بھی سادہ نہیں ہے اور اس کا جواب بھی آسان نہیں ہے اس لیے کہ دو جماعتیں تو ایسی ہیں جن کی دو صوبوں میں حکومتیں ہیں پیپلز پارٹی سندھ میں حکمران ہے اور تحریک انصاف کی حکمرانی خیبر پختونخوا میں ہے۔ دونوں سیاسی جماعتیں صوبوں میں حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اب اگر یہ جماعتیں قومی اسمبلی سے مستعفی ہو جائیں اور فرض کرلیا جائے کہ اپوزیشن کے تمام ارکان واقعی یہ بڑا فیصلہ کرلیتے ہیں تو کیا نئے انتخابات صرف قومی اسمبلی کیلئے ہوں گے؟ اور صوبائی اسمبلیاں اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں قائم رہیں گی؟ اگر ایسا ہوگا تو قومی اسمبلی کے الیکشن میں اپوزیشن جماعتیں 2013ء سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکیں گی؟ اس سوال کا جواب آگے آئے گا اس سے پہلے ایم کیو ایم کی تازہ سیاست کو زیر بحث لے آتے ہیں جو ابھی کل ہی ٹی او آر کمیٹی سے الگ ہو گئی ہے اور یہ عندیہ دیا گیا کہ وہ شاید اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے، لیکن ہمارے خیال میں ایم کیو ایم ایسا فیصلہ نہیں کرے گی، بنیادی بات تو ہے کہ اگر استعفے کے بعد ئنے الیکشن ہونے ہیں اور ایم کیو ایم کو اس میں حصہ بھی لینا ہے تو استعفے دینے کی کیا تُک ہے؟ فرض کریں ایم کیو ایم اگر مستعفی ہو جائے اور دوبارہ الیکشن ہوں تو اس کی دو صورتیں ہیں ایک تو ضمنی انتخابات کا راستہ ہے، ایم کیو ایم کی نشستیں خالی ہوں گی اور زیادہ تر کراچی سے ہوں گی۔ کراچی کے حالات میں ایم کیوایم اگر بہت تیر مار لے تو یہ نشستیں دوبارہ جیت سکتی ہے لیکن اس مشق سے کیا حاصل ہوگا؟ ایم کیو ایم کے استعفوں کا دباؤ حکومت اسی صورت میں محسوس کرے گی جب باقی اپوزیشن جماعتیں بھی مستعفی ہوں، لیکن ایم کیو ایم کا ان جماعتوں پر اتنا زیادہ اثر و رسوخ نہیں ہے کہ وہ انہیں اپنا ساتھ دینے پر آمادہ کرسکے۔ ایسی صورت میں اول تو ایم کیو ایم تنہا استعفے نہیں دے گی اور اگر یہ حماقت کر بھی لی جائے تو ان کی خالی کی ہوئی نشستوں پر ضمنی الیکشن ہی ہوگا عام انتخابات کا امکان نہیں۔ ضمنی الیکشن میں ایم کیو ایم کی نشتیں کم تو ہوسکتی ہیں بڑھ نہیں سکتیں‘ اس لئے ہمارے خیال میں اول تو ایم کیو ایم مستعفی نہیں ہوگی اور اگراس نے ایسا کوئی فیصلہ کیا ہے تو دانشمندانہ نہیں ہے فوری طور پر اس پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ استعفے اگر حکومت پر دباؤ ڈالنے کے سیاسی حربے کے طور پر دیئے جا رہے ہیں تو بہتر ہے دباؤ کا کوئی دوسرا مؤثر حربہ اختیار کیا جائے۔

اب آتے ہیں تحریک انصاف کی جانب، کے پی کے میں اس جماعت کی حکومت ہے لیکن وہاں پرویز خٹک کو بغاوت کا سامنا ہے، ان کی پارٹی کے بہت سے ارکان اسمبلی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر تحریک انصاف کو انتخابی میدان میں کودنا پڑا تو اسے بھی فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔ اس وقت وفاق اور صوبوں کے درمیان مختلف سیاسی جماعتوں کی جو حکومتیں قائم ہیں ان کی وجہ سے یہ بہت مشکل ہے کہ مقررہ وقت سے پہلے اگر انتخابات ہوں تو وہ بیک وقت وفاق اور صوبوں میں ہوں۔ الگ الگ پارٹیوں کی حکومتوں کی وجہ سے اب بیک وقت انتخابات میں بعض پیچیدگیاں حائل ہوگئی ہیں اس لئے یہ امکان بہت ہی کم ہے کہ قبل از وقت انتخابات ہوں، اگر اپوزیشن کا خیال ہے کہ اسے ان انتخابات سے فائدہ ہوگا تو پھر ایک بار پھر سود و زیاں کا حساب کرلینا چاہئے۔ ایسا نہ ہو کہ اپوزیشن کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے بھی محروم ہو جائے۔ یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا۔

عمران خان نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ فائنل میچ 2018ء ہی میں ہوگا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ انہیں ادراک ہوگیا ہے کہ الیکشن مقررہ مدت سے پہلے نہیں ہوسکتا، تو ان کے اس بیان سے کیا سمجھا جائے جس میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو اقتدار جلد ملنے والا ہے۔ ہمارے خیال میں ’’جلد اقتدار‘‘ کی خوش فہمی اسی طرح کی خوش فہمی ہے جیسا کہ ابھی حال ہی میں جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ عمران خان 2002ء کے الیکشن میں ایک سو نشستیں جیتنے کی امید لگائے بیٹھے تھے (اور جیت صرف ایک نشست سکے) ویسے سیانے کہتے ہیں کہ امید تو بہترین ہی کی رکھنی چاہئے لیکن ’’امید کے خلاف امید‘‘ رکھنا بھی کوئی اچھی بات نہیں، اگر تو عمران خان یہ کہہ کر اپنے کارکنوں کو حوصلہ دینا چاہتے ہیں کہ انہیں اقتدار جلد ملنے والا ہے تو دوسری بات ہے لیکن اس کے آثار کہیں نہیں ہیں۔ ویسے بھی اتنی جلدی چندہ تو اکٹھا کیا جاسکتا ہے اقتدار کا بہرحال ایک پروسیس ہے جس میں سے گزر کر اقتدار حاصل ہوتا ہے۔ دوسری صورت ہمارے ہاں ماضی میں یہ رہی ہے کہ فوجی سربراہ نے وزیراعظم کو اقتدار سے بزور قوت ہٹا دیا، اگر عمران خان ایسی کوئی امید لگائے بیٹھے ہیں تو اس پر تبصرہ ہماری حدود سے باہر ہے۔ جہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے سندھ اس کا پاور بیس ہے اس وقت قومی اسمبلی کے پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ ہی سے منتخب ہوکر آئے ہیں باقی تین صوبوں میں پیپلز پارٹی کا وجود اور عدم وجود برابر ہے۔ آج اگر الیکشن ہوں تو ان کا کوئی فائدہ پیپلز پارٹی کو نہیں ہوگا البتہ 2018ء تک پیپلز پارٹی اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکتی ہے اس لئے وہ فوری انتخابات نہیں چاہے گی نہ اس کیلئے کوئی سیاسی دباؤ ڈالے گی، البتہ احتجاج کے نام پر جو سرگرمیاں پیپلز پارٹی کر رہی ہے انہیں آپ انتخابی مہم سے موسوم کرسکتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کوئی نام ان سرگرمیوں کو نہیں دیا گیا، اس لئے جو حضرات قبل از وقت انتخابات کی امید لگائے بیٹھے ہیں یہ ان کی خواہش تو ہوسکتی ہے زمینی حقائق سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...