سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں، صدرالدین راشدی

سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں، صدرالدین ...

جدہ (محمد اکرم اسد) وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل پیر صدرالدین راشدی نے کہا ہے کہ حکومت سعودی عرب میں مختلف کمپنیوں میں پھنسے پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے اور مثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستانی قونصلیٹ میں سفیر پاکستان منظور الحق اور قونصل جنرل شہریار اکبر کے ساتھ صحافیوں اور کمیونٹی کے اراکین کے ساتھ ملاقات میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جو ورکرز کی حالت ہے یہ آہستہ آہستہ ان حالات کو پہنچی ہے، مملکت کی دو بڑی کمپنیوں کی وجہ سے اتنی تعداد میں ورکرز جاب اور اپنے بقایا جات کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کے کیمپوں میں راشن پہنچایا اور جہاں راشن نہیں پہنچایا وہاں 200 ریال فی کس بطور راشن الاؤنس دیا۔انہوں نے بتایا کہ وزیر محنت اور وزیر صحت سعودی عرب کے ساتھ ان کی ملاقاتیں بڑی سود مند رہی ہیں اور دونوں وزیروں نے یقین دلایا کہ مسائل کے حل کے لئے کام ہو رہا ہے، ڈائریکٹر جنرل لیبر مکہ مکرمہ ریجن نے قونصلیٹ میں ملاقات کی اور وفاقی وزیر کے ساتھ کیمپس کا دورہ کیا اور ورکرز کو یقین دلایا کہ ان کے بقایا جات دلانے میں حکومت کام کر رہی ہے اور ان کی جاب بھی ان کے ٹریڈ کے مطابق ڈھونڈنے میں مدد دے گی ۔ انہوں نے کمیونٹی سے بھی کہا کہ وہ ان افراد کے لئے جاب دلانے میں مدد دیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ان ورکرز کے حقوق کی ہم حفاظت کر رہے ہیں وہاں ہمیں دوسرے 26 لاکھ پاکستانیوں کی بھی فکر ہے جو یہاں بسلسلہ روزگار موجود ہیں۔ ’’پاکستان‘‘ کے ایک سوال کہ وزارت سمندر پار پاکستانیز اور او بی ایف نے ورکرز کی پاکستان واپسی اگر ہو تو کہا ’’بیک پلان‘‘ بنا رکھا ہے تو وزیر نے جواب دیا کہ حکومت نے ایسا نہ تو کوئی پلان بنایا ہے اور نہ ہی بنائے گی اور نہ ہی ہم بنانا چاہتے ہیں۔ ہم آپ سب کو یہیں کام کرتے دیکھنا چاہتے ہیں اس کے معدوم اتنے ہمارے پاس وسائل بھی نہیں کہ کوئی پلان تشکیل دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مثبت سوچ رکھنی چاہئے۔ سعودی حکومت بھی نہیں چاہے گی کہ پاکستانی وطن واپس جائیں۔ سفیر پاکستان نے بتایا کہ سعودی حکومت نے چھوٹی کمپنیوں کو اپنے کارکنوں کے واجبات ادا کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ دو بڑی کمپنیوں کے معاملات پر کام ہو رہا ہے۔ ’’پاکستان‘‘ کے قونصلیٹ کی عمارت کے حوالے سے سوال کے جواب میں قونصل جنرل نے بتایا کہ نئی عمارت کی تعمیر کی منظوری آگئی ہے اور اب اس کے دوسرے معاملات پرکام ہو رہا ہے۔ حکومت کے کام سست ضرور ہیں مگر آگے بڑھ رہے ہیں۔ جیلوں میں قیدیوں کے مسائل پر بھی قونصل جنرل نے بریفنگ دی جبکہ او پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے تجویز دی کہ دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کا قانون بننا چاہئے۔

مزید : صفحہ آخر