جب جہاز اْڑنے کے قابل نہیں رہتے تو اْن کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟

جب جہاز اْڑنے کے قابل نہیں رہتے تو اْن کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟
جب جہاز اْڑنے کے قابل نہیں رہتے تو اْن کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟

  

بنکاک(مانیٹرنگ ڈیسک) جب ہوائی جہاز اڑنے کے قابل نہیں رہتے تو ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، اس کا اندازہ آپ جہازوں کے اس قبرستان کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں، جہاں استعمال کے قابل نہ رہنے والے کئی جہاز کھڑے گل سڑ رہے ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق یہ جہاز اورینٹ تھائی ایئرلائنز کے ہیں۔ جب یہ اڑانے کے قابل نہ رہے تو انہیں ایک غیرملکی سرمایہ کار نے تھائی ایئرلائنز سے خرید لیا اور ایک انوکھے کام کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ بنالیا۔ اس نے سوچا کہ ان جہازوں کو بنکاک میں کسی جگہ کھڑا کر کے ان میں شراب خانے کھول دیئے جائیں، یوں گاہک ان کی طرف زیادہ راغب ہوں گے اور انہیں زیادہ منافع حاصل ہو گا مگر ان کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا اور پھر اس امیر سرمایہ کار نے ان جہازوں کو وہیں کھلے میدان میں لاوارث چھوڑ دیا۔رپورٹ کے مطابق عالمی میڈیا میں ان جہازوں کی تصاویر شائع ہونے پر اب یہ جگہ ان گلتے سڑتے جہازوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکی ہے اور بڑی تعداد میں لوگ انہیں دیکھنے کے لیے آ رہے ہیں۔ عالمی میڈیا نے اس جگہ کو ’’ہوائی جہازوں کا قبرستان‘‘ کا نام دیا ہے۔ بنکاک کے ایک فوٹو گرافر ڈیکس وارڈ نے ان لاوارث جہازوں کی تصاویر بنائی ہیں جو ڈیلی میل نے شائع کی ہیں۔ ڈیکس وارڈ کا کہنا ہے کہ ’’جس جگہ یہ جہاز کھڑے ہیں وہ بہت مہنگی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں وہاں سے ہٹانے کا کوئی منصوبہ تاحال نظر نہیں آ رہا۔ سیاح بڑی تعداد میں ان جہازوں کے اندر ایک نظر جھانکنے کے لیے یہاں آرہے ہیں۔ان کے اندر باتھ رومز و دیگر چیزیں تاحال موجود ہیں اور آکسیجن ماسک، سیفٹی آلات و دیگر چیزیں بھی جہازوں کے اندر بکھری ہوئی ہیں۔ ‘‘

مزید : صفحہ آخر