چین نے دنیا کا پہلا ’’کوانٹم سیٹلائٹ‘‘ خلا میں بھیج دیا

چین نے دنیا کا پہلا ’’کوانٹم سیٹلائٹ‘‘ خلا میں بھیج دیا
چین نے دنیا کا پہلا ’’کوانٹم سیٹلائٹ‘‘ خلا میں بھیج دیا

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین نے دنیا کا پہلا کوانٹم سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیا جس کی معلومات اور رابطوں کو ہیک کرنا قریباً ناممکن ہے۔اس سیٹلائٹ پر ہیکرز اپنی کارروائیاں نہیں کرسکتے اور اس کے ذریعے چینی ماہرین تجرباتی پیغامات بھیج کر اس کی افادیت کی جانچ کریں گے۔ یہ سیٹلائٹ لانگ مارچ ٹوڈی راکٹ سے صحرائے گوبی میں واقع جیوقوان لانچ سینٹر مدار میں بھیجا گیا ہے۔ سنگاپور میں کوانٹم ٹیکنالوجیز کے مرکز کے سائنسداں کے مطابق اس (سیٹلائٹ) نے جاسوسی کے چیلنج کو ایک نئے درجے تک پہنچا دیا ہے اور پوری دنیا کے لوگ کوانٹم پیمانے پر محفوظ مواصلات پر اصرار کررہے ہیں۔اس سیٹلائٹ کو ’’میکیئس‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو ذیلی ایٹمی ذرات ( سب اٹامک پارٹیکلز) کے ذریعے 2 نکات کے درمیان معلومات بھیجتا ہے۔ اس کا ڈیٹا صرف وہی لوگ پڑھ سکیں گے جنہیں اس کی اجازت ہوگی۔ میکیئس ڈیٹا اینکوڈنگ کے لیے کرسٹل استعمال کرتا ہے اور اسے زمین پر روانہ کرتا ہے۔اب اگر کوئی ہیکر اس پیغام کی سْن گْن لینا چاہے تو پیغام یا بدل جائے گا یا پھر ازخود ختم ہوجائے گا۔ کوانٹم پیغام رسانی کے کئی کامیاب تجربات زمین پر کیے جاچکے ہیں لیکن خلا میں استعمال کا یہ پہلا مظاہرہ ہے۔ کوانٹم مواصلات سب سے زیادہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی کیونکہ دنیا بھی کی افواج اپنے رابطے خفیہ ترین رکھنا چاہتی ہیں۔ دنیا کے ماہرین نے چین کے کوانٹم سیٹلائٹ کو ایک اہم کارنامہ قرار دیا ہے۔

’’کوانٹم سیٹلائٹ‘‘

مزید : صفحہ آخر