وہی پرانا رونا۔۔۔!

وہی پرانا رونا۔۔۔!
وہی پرانا رونا۔۔۔!

  

کئی بار پہلے بھی مجھے قارئین کی طرف سے مختلف تحریروں پر رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے، بعض پر خوش گوار حیرت بھی ہوتی تھی اور بعض پر ازحد غصہ بھی آتا تھا۔ خیر خواہ اور بد خواہ تو اپنے اپنے انداز میں ہی رد عمل ظاہر کرتے ہیں، خیر خواہ ہر حال میں تعریف اور بد خواہ بلاوجہ کی تنقید، کرنے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ قارئین کا بڑا حصہ ، تحریر کے حسن ومعانی کے مطابق ہی تبصرہ کرتا ہے سو میرے ساتھ یہ معاملہ اکثر ہوتا ہے(اورقریباً ہر محرر اور کالم نگار کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے) مگر جس تیزی سے ، آج(17اگست) کے کالم پر رد عمل سامنے آیا ہے، وہ خود میرے لئے حیران کن ہے۔ تمام کے تمام فون کرنے والے مسلم لیگ(ن) ہی سے تعلق رکھتے تھے اور قریباً قریباً سب کا رد عمل ایک جیسا ہی تھا۔پسرور سے کئی لوگوں نے اور کہا کہ ’’جس کے بارے میں کھل کر لکھنا چاہیے تھا، اس کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، حالانکہ اس نے تو نہ صرف اپنے حلقہ نیابت میں، لوگوں کی ’’ناک میں دھواں‘‘ دے رکھا ہے بلکہ مسلم لیگ (ن) کی سبکی کا بھی خوب سامان کر رکھا ہے

‘‘مسلم لیگ (ن) کے ایک (اعلیٰ حکومتی عہدے پر فائز) ذمہ دار نے فون پر (مسکراتے ہوئے) فرمایا ’’آپ یہ قلمی جہاد جاری رکھیں ،تاکہ کسی غلط کردار والے کو آئندہ ٹکٹ نہ ملے اور ہماری پارٹی کی سبکی نہ ہو‘‘ میں نے ان سے عرض کیا،’’یہ بات آپ اپنی قیادت سے کریں، آپ جس عہدے پر ہیں اور جس سطح پر آپ کے تعلقات ہیں، آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان باتوں کو ’’پارٹی پالیسی‘‘ اور ’’اصول‘‘بنالیا جائے، آپ یہ بات اپنی پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کو بھی سمجھائیں کہ جو جانتے بوجھتے ایسے ویسے لوگوں کو نوازتے رہتے ہیں، پھر آپ جس شخص کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ، کیا اس کی کہانیاں خود آپ کے اور آپ کی پارٹی کی قیادت کے علم میں نہ تھیں، متاثرہ خاتون کی دھائیاں تو ابھی تک انٹرنیٹ کا خزانہ بھرے ہوئے ہیں، اس شخص کے اپنے سگے بھائی اور اہل علاقہ کی چیخ و پکار آپ کے علم میں ہے، آپ ’’قانون ودستور‘‘ کے منصب دار اور علم بردارہیں، آپ خود اس پر کوئی نوٹس نہیں لیتے اور مجھے فرما رہے ہیں کہ میں اس کے بارے میں لکھتا رہوں،میں کتنا بھی لکھوں، جب تک آپ ،آپ کی پارٹی اور آپ کا پارلیمانی بورڈ ، اپنا کردار ادا نہیں کریں گے عوام کی قسمتوں کے ساتھ، اسی طرح کھلواڑ جاری رہے گا‘‘۔

میری بات سن کر وہ’’اعلیٰ عہدیدار‘‘ کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے، یہ کہہ کر فون بند کر گئے کہ ’’فون پر ساری باتیں نہیں ہو سکتیں، ملاقات ہوگی تو بہت کچھ بتاؤں گا‘‘۔

پتہ نہیں یہ’’ ذمہ دار حضرات‘‘مصلحت کے نام پر برائی کو کیوں سنبھالتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ کب تک یونہی جاری رہے گا، مرتضیٰ برلاس نے بہت پہلے کہا تھا۔

جھوٹ بعذر مصلحت ،جبریہ مصلحت

جائیں کہاں کہ دور تک پھیلا ہے جال ہر طرف

جھوٹ ذمہ دار حضرات،مصلحت کے نام پر اور ذرا ذرا سے فائدے کی خاطر ،بہت بڑی اکثریت(بعض اوقات پوری قوم اور عوام) کی رائے اور مفادات کے خلاف، چند افراد یا غلط کار افراد کو نوازتے ہیں اور اکثر غلط کار لوگوں کو سب کے سروں پر بٹھا دیتے ہیں یہ ’’مصلحت آمیز‘‘ رویہ اور’’ مصلحت کیش ‘‘ پالیسیاں جب تک جاری رہیں گی، ملک و قوم سے کرپشن ، بد عنوانی ، ظلم و جبر اور دیگر برائیاں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔۔۔

مرتضیٰ برلاس ہی نے ایک اور جگہ لکھا تھا، اور کیا خوب لکھا تھا کہ

وہیں قبیلہ مردہ ضمیر لکھ دینا

ذکر جہاں ہمارا کتاب میں آئے

ہم اہل قلم و سیاست کسی اورپر تنقید کیا کریں؟ ہمارا اپنا رویہ’’منافقانہ‘‘ہوتا جا رہا ہے، ہم دوسروں کے عیب تو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں، اپنی باری آئے تو تاویلین شروع کردیتے ہیں۔۔۔

دوسروں کے لئے ہل کھڑا رکھتے ہیں، اپنی باری پر ہل لٹا لیتے ہیں۔۔۔

دوسروں کی آنکھ کا تنکا ہمیں نظر آ جاتا ہے ، مگر اپنی آنکھ کا شہتیر دکھائی نہیں دیتا۔۔۔

من حیث القوم، ہم سب ایک طرح کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ ٹی وی مذاکروں سے لے کر اخباری بیانات تک دیکھ لیں۔ ہر کوئی دوسرے ہی پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے۔ کوئی اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ نہیں پھیرتا، دوسروں کے نمائندوں پر گندگی ڈالتے ہوئے ، اپنے نمائندوں کی کارستانیوں کی طرف چنداں توجہ نہیں ہوتی۔۔۔

ہماری سیاسی و مذہبی قیادتیں، عوام کو بھاشن دینے سے پہلے (صرف چند روز) اپنے نمائندوں اور پارٹی عہدیداروں پر دھیان دیں اور اپنے پارٹی منشور کی پاس داری کرتے ہوئے ،ٹکٹ اور عہدے بانٹیں تو قوم کا آدھے سے زیادہ دکھ ویسے ہی ختم ہو جائے۔ جب ’’کالے چہروں اور کالے کرتوتوں والے‘‘ عوام کے سروں پر، حاوی اور طاری نہیں رہیں گے تو ملک و قوم حقیقی معنوں میں روشن راہوں پر چل نکلے گی۔

اجلے چہرے، اجلے دل والے، آگوہوں تو عوام دل جمعی کے ساتھ، اپنی قیادت کے ہم رکاب ہوتے ہیں، مشکل سے مشکل مراحل کو خوشی خوشی عبور کر جاتے ہیں اور اگر بدنیت، بدکردار ’’رہنما‘‘ بن بیٹھیں تو کون جان جوکھم میں ڈالے، منزل ملنا تو دور کی بات راہ کھوٹی ہو جاتی ہے۔ پھر منیر نیازی کو کہنا پڑتا ہے کہ:

منیر اس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا

ہے کہ حرکت تیز تر ہے، سفر آہستہ آہستہ

مزید : کالم