ضلع نوشہرہ سے افغان مہاجرین کی اپنے ملک روانگی میں تیزی

ضلع نوشہرہ سے افغان مہاجرین کی اپنے ملک روانگی میں تیزی

نوشہرہ(بیورورپورٹ) ضلع نوشہرہ سے افغان مہاجرین افغانستان روانگی میں شدت قافلوں کی صورت میں اپنے ملک جارہے ہیں لیکن ایک ہی رجسٹریشن پوائنٹ ہونے کی وجہ سے افغان مہاجر ین شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور کئی روز سے رجسٹریشن پوائنٹ پشاور کے دفتر میں دربدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں حکومت فوری طورپر جس جس مقامات پر افغان مہاجرین مقیم ہے وہاں پررجسٹریشن پوائنٹ قائم کریں عوام اور تاجروں کی طرف سے بعض سیاسی پارٹیوں کے افغان مہاجرین کی حمایت کرنے پر شدید احتجاج بعض سیاسی پارٹیوں کے لیڈر خیبرپختونخوا کے عوام کے لیڈرہیں یا افغانستان کے عوام کے لیڈر ہیں 38سال تک مہمان نوازی کی لیکن اب ان کو واپس بھیجنے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے زیادہ تر مہاجروں کے ساتھ اب بھی اوریجنل پاکستانی شناختی کارڈ ہے جس پر انہوں نے بنگلے اور پلازے خریدے رہے ہیں جو غیرقانونی اقدام ہے حکومت فوری طورپر افغان مہاجرین کے شناختی کارڈ بلاک کردے اور سیکورٹی کے ذریعے ان سے شناختی کارڈ واپس لئے جائیں کیونکہ ان شناختی کارڈ کے ذریعے اب بھی افغان مہاجرین ناظمین اور دیگر اداروں کو بلیک میل کررہے ہیں افغانی تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ہمیں بنگلوں اور پلازوں کا معاوضہ دے تاکہ ہم جلد سے جلد افغانستان جاسکے تفصیلات کے مطابق انجمن تاجران ضلع نوشہرہ کے صدر آیاز پراچہ، جنرل سیکرٹری سعید بخش پراچہ، سیکرٹری اطلاعات راجہ سعید اور باڑہ کلاتھ مارکیٹ کے عہدیداروں ، سٹیزن فرنٹ کے صدر محمدریاض، انجمن شہریان کے صدر امداد خان، آرمر کالونی کے سماجی وسیاسی شخصیت عبداللہ جان، اے ایس سی کالونی کے سیاسی وسماجی شخصیت فرمان اللہ، جہانگیرہ، پبی، اکوڑہ، رسالپور، نوشہرہ کلاں، رشکئی اور دیگر تاجر تنظیموں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے گزشتہ 38سالوں سے افغان مہاجرین کی بے لوث خدمت کی لیکن اب افغانستان پاکستان اور اقوام متحدہ اور امریکہ نے ایک معاہدے کے تحت افغان مہاجرین کو افغانستان بھیجنے کا تحریری معاہدہ کیا ہے جس کی رو سے اب افغان مہاجرین ہر صورت افغانستان واپس جائیں گے کیونکہ افغان مہاجرین کو پناہ گزین کی حیثیت سے پناہ ملی تھی لیکن انہوں نے آزادی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے کاروبار پر قبضہ کیا اور پاکستانی تاجروں کو بے پناہ نقصان پہنچایا اس کے علاوہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں دہشتگردی، ڈکیتی، رہزنی، اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم میں افغان مہاجرین ملوث پائے گئے جس کی وجہ سے ہمارا صوبہ معاشی طورپر امن وامان کے حوالے سے مکمل طورپر مفلوج ہوگیا کاروبار زندگی تباہ ہوکر رہ گئی عوام میں خوف وہراس کا فضاء قائم رہا ہم وفاقی حکومت ، چیف آف آرمی سٹاف دیگرسیکورٹی اداروں اور صوبائی حکومت کے مشکور ہیں جنہوں نے افغان مہاجرین کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا اس فیصلے سے خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن وامان قائم ہوگا کاروبار زندگی بحال ہوگی اور خیبرپختونخوا کے تاجر سکھ کا سانس لے سکیں گے کیونکہ خیبرپختونخوا کے تاجروں کے دکان اور مکان کرایہ پر بھی لینا مشکل ہوچکا تھا صوبائی حکومت افغان مہاجرین پر پوری نظر رکھیں کیونکہ افغان مہاجرین انتقاماً خیبرپختونخوا میں بعض ناپسندیدہ کاروائیوں میں ملوث ہیں۔

Ba

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...