شانگلہ میں مختلف کیڈر کے اساتذہ تنخواہوں سے محروم

شانگلہ میں مختلف کیڈر کے اساتذہ تنخواہوں سے محروم

الپوری(ڈسٹر کٹ رپوٹر )شانگلہ میں 385 سے زائد مختلف کیڈر کے اساتذہ گزشتہ چھ ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں،18 ٗاگست تک صرف 43 ٗاساتذہ کی ڈاکومنٹس کلیرنس آیا ہے۔سکولوں میں ڈیوٹی کر نے والے ان اساتذہ کے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔ فاقوں پر مجبور ہیں چھ ماہ گزرنے کے باوجو د تنخواہوں سے محروم ہیں۔ محکمہ تعلیم شانگلہ ان اساتذہ سے ڈیوٹی تو لیتے ہیں لیکن تنخواہ نہیں دیتے، این ٹی ایس سے نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ سخت مشکلات سے دو چار ہیں کوئی پرسان حال نہیں ۔ وزیر اعلیٰ،وزیر تعلیم،سیکرٹری تعلیم ،کمشنر ملاکنڈ نوٹس لیں اساتذہ تنظیموں کا مطالبہ، تفصیلات کے مطابق ضلع شانگلہ میں چھ ماہ پہلے محکمہ تعلیم شانگلہ میں این ٹی ایس کے ذریعے سے نئے بھرتی ہونے والے 385اساتذہ گزشتہ چھ ماہ سے ڈیوٹیاں کر رہے ہیں مگر تنخواہ نہیں مل رہی ہے۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داروں نے بتایا کہ ان اساتذہ کے ڈاکومنٹس،سرٹیفکیٹ اور ڈگریاں تصدیق کیلئے بورڈز اور یونیورسٹیوں کو بھجوائے گئے ہیں لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود اساتذہ کے سر ٹیفکیٹ،اور ڈگریاں بورڈ اور یونیورسٹی سے تصدیق نہ ہو سکیں جس کی وجہ سے ان اساتذہ کا تنخواہ بند پڑا ہے جس کی وجہ سے اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اور ان اساتذہ کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔ ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ اب دوکاندار بھی ادھارپر سودا سلف نہیں دیتے ہیںیہاں کوئی بھی بغیر رشوت کے کام نہیں کرتے ان اساتذہ کا کہنا ہے کہ جو کام بغیر رشوت اور میرٹ کے ہو جائے تو پھر یہ کرپٹ عناصر جائز کام بھی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ چھ ماہ سے تنخواہ بند ہونے سے گھر کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں،گزشتہ چھ مہینوں سے سکولوں میں بچوں کوباقاعدہ پڑھا رہے ہیں۔ ان اساتذہ نے تنخواہوں کے عدم فراہمی پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا،وزیرتعلیم،سیکرٹری تعلیم ،ڈائریکٹر تعلیم اور کمشنر ملاکنڈ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید : کراچی صفحہ اول