ضلع چکوال، 6 میونسپل کمیٹیوں ،71یو سیز کی مخصوص نشستوں پر انتخابات کی تیاریاں

ضلع چکوال، 6 میونسپل کمیٹیوں ،71یو سیز کی مخصوص نشستوں پر انتخابات کی تیاریاں

چکوال(ڈسٹرکٹ رپورٹر) ضلع کونسل چکوال، چھ میونسپل کمیٹیوں اور 71یونین کونسلوں میں مخصوص نشستوں پر انتخابات کیلئے تیاریاں جاری ہیں۔یکم فروری2016کو جن امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے اور اس حوالے سے حتمی فہرست بھی جاری کردی گئی تھی اور پھر اس کے ساتھ ہی اچانک یہ انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔ اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جہاں سے یہ عمل معطل ہوا تھا وہاں سے شروع کرتے ہوئے ضلع کونسل میں یکم ستمبر ، میونسپل کمیٹیوں میں2ستمبر اور یونین کونسلوں میں تین ستمبر کو الیکشن کرانے کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ اس وقت کاغذات نامزدگی چار ٹیکنو کریٹ نشستوں پر جمع کرائے گئے تھے اور کسان نشستوں کی تعداد بھی چار تھی مگر اب پنجاب حکومت نے نشستوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس میں صرف ایک ٹیکنو کریٹ اور تین کسان نشستیں ہیں۔ جبکہ ان نشستوں پر 25سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کرایے ہیں۔ ضلع کونسل چکوال میں حکمران مسلم لیگ ن کو39چیئرمینوں کی حمایت حاصل ہے مگر مسلم لیگ ن کے اندر تین گروپ سرگرم عمل ہیں جو اپنی مرضی کا چیئرمین ضلع کونسل چکوال لانا چاہتے ہیں اور اس حوالے سے کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ نشستوں کی تعداد کے مطابق خواتین کی15میں سے 9نشستیں مسلم لیگ ن کو ملنے کا امکان ہے جبکہ اس وقت 9پارلیمنٹرینز کے علاوہ ایک معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال میدان میں ہیں لہٰذا بمشکل ہر پارلیمنٹرین کے حصے میں ایک خاتون نشست آنے کا امکان ہے۔ جبکہ سینٹر جنرل عبدالقیوم اور ایم پی اے مہوش سلطانہ کے پاس بظاہراً کسی چیئرمین کی حمایت موجود نہیں۔ دوسری طرف سردار غلام عباس گروپ ہے جس کے پاس 22چیئرمین ہیں اور وہ چار خواتین کی نشستیں کامیاب کرانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ایک نشست پی ٹی آئی اور ایک نشست مسلم لیگ ق کو ملنے کا امکان ہے جن کے پاس پانچ پانچ چیئرمین موجود ہیں۔ دیگر ضلع کونسل کی نشستوں پر بھی مسلم لیگ ن کو اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل ہے۔ چیئرمین ضلع کونسل اور وائس چیئرمین کا الیکشن دلچسپ ہوگا کیونکہ مسلم لیگ ن کے اندر ایک بھی متاثرہ گروپ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل گیا تو بازی آخری وقت میں بھی پلٹ سکتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...