قیدیوں کی رہائی کیلئے ایران کو 40 کروڑ ڈالر دئیے، امریکہ کا اعتراف

قیدیوں کی رہائی کیلئے ایران کو 40 کروڑ ڈالر دئیے، امریکہ کا اعتراف
قیدیوں کی رہائی کیلئے ایران کو 40 کروڑ ڈالر دئیے، امریکہ کا اعتراف

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے اعتراف کیا ہے کہ رواں برس جنوری میں ایران کو دی گئی 40 کروڑ ڈالر کی نقد رقم امریکی قیدیوں کی رہائی کے بدلے دی گئی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مارک ٹونرنے صدر اوباما کے گول مول جواب کے برعکس اعتراف کیا ہے کہ ایران کو 40 کروڑ ڈالرز کی نقد ادائیگی امریکی قیدیوں کی رہائی کے بدلے ہوئی تھی ، تاہم اس سے متعلق مذاکرات قیدیوں کی رہائی سے الگ ہوئے تھے ، رقم کی ادائیگی امریکیوں کے ایران سے نکل جانے تک روک کر رکھی گئی تھی۔اس سوال پر کہ کیا امریکا قیدیوں کو عدم رہائی کے باوجود رقم ادا کرتا؟ مارک ٹونر نے کہا۔ نہیں ، اس صورت میں رقم ادا نہیں کی جاتی۔امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان کے ایک اعلیٰ مشیر کا کہنا تھا کہ صدر اوباما نے تاوان کی ادائیگی سے متعلق امریکی عوام کو گمراہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جنوری میں ریپبلکن ارکان پارلیمنٹ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران میں قید 5 امریکیوں کی رہائی کے بدلے تاوان ادا کیا گیا ہے۔ادھر وائٹ ہاوس کا کہنا ہے ایران نے یہ رقم 1979 میں فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے دی تھی، لیکن انقلابِ ایران کے بعد یہ فروخت روک دی گئی اور اب تقریبا 40 برس بعد اس سال جنوری میں یہ رقم ایران کو واپس کی گئی۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں