یورپی ملک کے سٹور میں کام کرنے والے پاکستانی کی انتظامیہ نے ٹرانسفر کردی تو رکوانے کے لئے ہزاروں گورے احتجاج کرنے لگے

یورپی ملک کے سٹور میں کام کرنے والے پاکستانی کی انتظامیہ نے ٹرانسفر کردی تو ...
یورپی ملک کے سٹور میں کام کرنے والے پاکستانی کی انتظامیہ نے ٹرانسفر کردی تو رکوانے کے لئے ہزاروں گورے احتجاج کرنے لگے

  


ڈبلن(مانیٹرنگ ڈیسک) سٹور انتظامیہ کی جانب سے تبادلے کی زد میں آنے والا محمد ساجد ڈبلن کے ایسٹ وال کے علاقے میں ایک دہائی پہلے آیااور پھر اپنے ہر دل عزیز بن گیا۔دوہزار چار میں پاکستان سے آئر لینڈ پہنچنے والے چونتیس سالہ محمد ساجد کو اپنی مقبولیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب سٹور انتظامیہ نے اسے تبادلے کا حکم تھمایا تو ہزاروں گورے احتجاج کرنے نکل آئے ، انہوں نے باقاعدہ تحریک چلائی اور ایک مطالبے پر ہزاروں دستخط بھی کروالیے ۔

برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق محمد ساجد نے بتایاکہ  وہ گوروں کے اس اقدام پر حیران رہ گئے کیونکہ وہ پکے رنگ کے ہیں لیکن مقامی کمیونٹی رنگ اور نسل کا کوئی تعصب نہیں رکھتی،ساجد نے اپنے رد عمل کا اظہار کچھ یوں کیا کہ” میں ان سے محبت کرتا ہوں، اور وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں“۔ ساجد کے مطابق تبادلہ معمول کا اقدام تھا ،اس پر عمل بھی ہوگیا، وہ سٹور انتظامیہ کے حکم کے مطابق کہیں بھی کام کرنے کو تیار ہیں تاہم ہزاروں گوروں کی دستخطی مہم کے بعد انہیں امید ہے کہ وہ اگلے دو ہفتوں میں پرانی جگہ واپس پہنچ جائیں گے۔لوگوں کی محبت کا راز بتاتے ہوئے ساجد کا کہنا ہے کہ اپنی ڈیوٹی تو کرتے ہی ہیں،سٹور پر آنے والے گاہکوں پر خصوصی توجہ بھی دیتے ہیں اور انہیں خریداری کے حوالے سے ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرتے ہیں۔اگر کوئی بوڑھا گاہک سامان اٹھا کر چل نہ سکتا ہو تو سامان ان کے گھروں تک بھی پہنچا دیتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...