سپیکر نے روکانہ نثار نے تقریر سنی، الفاظ غلط ثابت ہو جائیں تو معافی مانگ لوں گا: محمود خان اچکزئی

سپیکر نے روکانہ نثار نے تقریر سنی، الفاظ غلط ثابت ہو جائیں تو معافی مانگ لوں ...
سپیکر نے روکانہ نثار نے تقریر سنی، الفاظ غلط ثابت ہو جائیں تو معافی مانگ لوں گا: محمود خان اچکزئی

  


اسلام آباد (ویب ڈیسک) محمودخان اچکزئی نے کہاکہ سپیکر نے مجھے بات کرنے سے نہیں روکا نہ ہی میرے الفاظ حذف کئے گئے ، لگتا ہے چودھری نثار نے میری تقریر نہیں سنی، میری تقریر میں غلط الفاظ ثابت ہو جائیں تو غیر مشروط معافی مانگ لوں گا۔ میرے بیان سے متعلق بدگمانی پیدا کی گئی۔ عمران خان 126 دنوں تک حکومت کے اعصاب پر بیٹھ گئے،یہ کہاں کی جمہوریت ہے ۔ اپوزیشن والے وزیراعظم کو کیوں کھینچ رہے ہیں ۔ ان کے بچوں کا نام پانامہ میں ہے ان سے پوچھ گچھ کریں۔ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے ۔ دشمن ہمیں لرانا چاہتا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کاکہناتھاکہ وہ چودھری نثار علی خان کو تنگ نہیں کرنا چاہتے، میرے بیان سے متعلق بدگمانی پیدا کی گئی میرے بیان پر کمیٹی بنا دیں اگر غلط الفاظ ہوئے تو غیر مشروط معافی مانگ لو گا میں نے امریکی ریڈیو کو انٹرویو دیا تو کابل کے اخبار نے غلط خبر چھاپی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کرزئی نے نواز شریف سے نہیں کہا آپ افغانستان کو آزاد ملک مانتے ہو مثبت جواب پر انہوں نے کہا کہ دنیا سے یہ کہلوادو۔ ہماری مٹی آپ کے خلاف کبھی استعمال نہیں ہو گی۔ یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ وہ عوام کو اکٹھا کرے لیکن اگر کوئی جمہوریت کے خلاف نکلے گا تو ہم اس کی مزاحمت کریں گے۔ عمران کو کس نے اجازت دی کہ وہ پارلیمنٹ کے سامنے آکر 126 دن بیٹھ جائے۔ پارلیمنٹ کو کھیرا کہا۔ ججز دفتر نہیں جاسکتے تھے۔ حکومت کے اعصاب پر سوار ہو گیا ۔ یہ جمہوریت ہے ؟ پیپلز پارٹی نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ عمران کا ساتھ نہیں دیں گے۔

اپوزیشن والے وزیراعظم کو کیوں کھینچ رہے ہیں ان کے بچوں کے نام ہیں تو ان سے پوچھو ۔ پانامہ میں وزیر اعظم کا نام دکھا دیں میں اپوزیشن کے ساتھ کھڑا ہو جاﺅں گا ۔ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے ہمارے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ایسے میں ہم نے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ ہمارے رہنماﺅں پر قاتلانہ حملے کئے جارہے ہیں ہمیں کون مار رہا ہے ۔ تمام صوبوں کو ان کے حقوق دے دیں پاکستان قیامت تک قائم رہے گا ۔ جن کے وسائل ہیں پہلے ان پر خرچ کریں۔ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ سٹیبلشمنٹ سے اس کی طاقت کوئی نہیں چھین سکتا۔ حکومت فوج کے ساتھ مل کر بیٹھے۔ سخت الفاظ استعمال کرے کوئی بات بات نہیں لیکن دنیا کو یہ دکھانا کہ فلاں اس طرف ہے فلاں اس طرف ہے۔ کوئی خدا کا خوف کرو۔ دو مرتبہ دو ایٹمی ملک لڑتے لڑتے بچے ہیں۔ ممبئی حملے کے بعد اور پارلیمنٹ پر حملے کے بعد کون لوگ ہیں جو ہمیں لڑانا چاہتے ہیں۔ ہم بھارت سے بات کر سکتے ہیں ۔ اس سے مذاکرات ہو سکتے ہیں جنگوں میں لاکھوں لوگ مرتے ہیں پھر ملک ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں۔

مزید : اسلام آباد


loading...