’میں اس بات کیلئے تیار نہیں تھی کہ وہ مجھے چھوئیں ،لیکن وہ کس کی سنتے‘:بالی ووڈ کی معروف سٹنٹ وومن کی افسوسناک کہانی

’میں اس بات کیلئے تیار نہیں تھی کہ وہ مجھے چھوئیں ،لیکن وہ کس کی سنتے‘:بالی ...
’میں اس بات کیلئے تیار نہیں تھی کہ وہ مجھے چھوئیں ،لیکن وہ کس کی سنتے‘:بالی ووڈ کی معروف سٹنٹ وومن کی افسوسناک کہانی

  

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک )بالی ووڈکی مشہور سٹنٹ وومن گیتا ٹنڈن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے دردناک ماضی سے پردہ اٹھایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کم سنی میں ہی ن کے غریب والد نے ان کی نسبتا امیر گھرانے میں شادی کردی تاکہ وہ خوشحال زندگی گزار سکے لیکن یہ خواب محض خواب ہی رہا اور میرے شوہر نے مجھے شادی کے ابتدائی دنوںسے ہی تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

تشدد کی وجوہات بتاتے ہوئے گیتا نے بی بی سی کو بتایا کہ ”میں کم عمری میں شادی کرنے کیلئے تیار ہی نہیں تھی،میں چھوٹی تھی ،میں اس بات کیلئے تیار نہیں تھی کہ وہ مجھے چھوئیں ،لیکن وہ کس کی سنتے۔“یہیں سے ان کی تلخ زندگی شروع ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ’اس نے مجھے ہر روز پیٹا، وہ مجھے اتنے زور سے مارتا کہ مجھے چکّر آتے تھے۔‘

گیتا نے دو بار زہر کھا کر خود کشی کی بھی کوشش کی لیکن اس میں بھی ناکام رہیں۔ انھیں لگا کہ شاید بچوں کی پیدائش سے ان کی زندگی آسان ہو جائے گی لیکن اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ پولیس سے بھی شکایت کی لیکن وہاں بھی شنوائی نہیں ہوئی۔بالآخر ایک دن انھوں نے فیصلہ کیا کہ اگر انھیں زندگی گزارنی ہے تو پھر یہاں سے فرار ہونا پڑےگا۔ گھر سے بھاگ کر انھوں نے ایک مندر میں پناہ لی لیکن یہ بھی عارضی ٹھکانہ تھا۔وہ کہتی ہیں: ’میں بھکاری نہیں بننا چاہتی تھی، مجھے کام چاہیے تھا اسی لیے میں نے مندر بھی چھوڑ دیا۔‘

اس دوران انھوں نے کئی جگہیں تبدیل کیں اور روٹی بنانے سے لے کر خواتین کی مالش کرنے تک کا کام کیا۔لیکن مشکلات کم نہ ہوئیں ایک دن خواتین کے ایک گروپ نے مساج سنٹر پر کا م کرنے کی پیشکش کی ۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ یاد کرتی ہیں: ’وہ( شوہر) اکثر مجھ سے کہا کرتا تھا کہ اگر تم مجھے چھوڑ کر جاو¿گی تو جسم فروشی کرنے پر مجبور ہو جاو¿ گی اور سٹرپ کلبوں میں رقص کرو گی۔ میں نے بھی دماغ میں بٹھا لیا تھا کہ میں یہ کام کبھی نہیں کروں گی۔‘خواتین کے ان الفاظ نے ان کے شوہر کی وہی باتیں یا دلا دیں: ’میں کچھ ایمانداری کا کام کرنا چاہتی تھی۔ میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنا چاہتی تھی کہ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔‘

بالآخر ان کے چچا نے رقص کے ایک گروپ سے ان کی ملاقات کروا دی۔ اس گروپ کی مدد سے وہ رقص کرتے کرتے بالی ووڈ جا پہنچیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ اچھی رقاصہ نہیں تھیں لیکن گروپ کی دوسری لڑکیوں نے ان کی ہمیشہ مدد کی۔

اسی گروپ میں کام کرتے کرتے انھیں بالی وڈ میں سٹنٹ کرنے کا بریک ملا۔ اسی کام سے انھیں بالی وڈ میں شہرت ملنے لگی لیکن یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔کئی بار زخم آئے ،ہسپتال داخل ہونا پڑا۔

انہوں نے کہا گزشتہ چھ برسوں میں انھوں نے فلموں میں ایک سے ایک سٹنٹ کیے ہیں اور اب ان کے پاس بہت کام ہے۔ وہ اس وقت بالی وڈ میں سب سے ماہر اور بہت ہمت والی سٹنٹ ماسٹر ہیں اور اب تیز رفتار کار کا پیچھا کرنے جیسے سٹنٹ کرنا چاہتی ہیں۔انھیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کچھ لوگ فلموں میں سٹنٹ کو خواتین کے لیے اچھا کام نہیں سمجھتے۔

وہ کہتی ہیں: ’جب میری شادی 15 برس کی عمر میں ہوئی تب سماج نے نہ تو میری حمایت کی اور نہ ہی میری مدد کی۔ تو پھر میں سماج کے بارے میں کیوں فکر کروں کہ وہ میرے لیے کیا سوچتا ہے۔‘

مزید : تفریح