اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت شروع ہونیوالے منصوبوں کی تفصیلات جاری ، تمام صوبے آن بورڈ ہیں : احسن قبال

اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت شروع ہونیوالے منصوبوں کی تفصیلات جاری ، تمام ...
اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت شروع ہونیوالے منصوبوں کی تفصیلات جاری ، تمام صوبے آن بورڈ ہیں : احسن قبال

  


اسلام آباد(ڈی این ڈی ) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے خیبر پختونخوااور بلوچستان سمیت وفاق کی تمام اکائیاں آن بورڈ ہیں۔ گوادر کے منصوبے تکمیل کی آخری سطح پر ہیں اکتوبر تک گوادر ایئر پورٹ اورایکسپریس وے پر کام شروع ہوجائیگا۔بین الا قوامی سطح کا ہسپتال قائم کیا جا رہا ہے ،بین الا قوامی سطح کے ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ اسی سال شروع ہوجائیگا۔ستمبر میں گوادر یونیورسٹی پر کام شروع کردینگے۔ژوب میں بھی کیمپس بنے گا اور پہلی دفعہ فاٹا یونیورسٹی کام شروع کریگی۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ مقامی گوادر سٹیشن قائم کی جائے ،سمارٹ پورٹ سٹی گوادر کےلئے چین نے مدد دی ہے 20 سال کا ماسٹر پلان ہے۔

پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں سینیٹرکمیٹی کرنل (ریٹائرڈ) طاہر مشہدی کی زیر صدارت منعقد ہونے والی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات میں کے اجلاس میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ا بتداءمیں سی پیک کے حوالے سے تحفظات اور سوالات اٹھائے گئے تھے ۔ خیبر پختونخوا حکومت سے مسلسل کئی اجلاس منعقد ہوئے وزیر اعلی ،سپیکر اور تمام پارلیمانی لیڈرز سے ملاقاتیں ہوئیں جس کے بعد اب صوبہ مکمل مطمئن اور تحفظات دور ہو چکے ہیں۔ بلوچستا ن کے وزیر اعلی سی پیک میں نہ صرف مددگار ہیں بلکہ آگے بڑھ کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالے سے سندھ ،پنجاب ، گلگت بلتستان، بلوچستان ،آزاد کشمیر اور وفاقی کی تمام اکائیاں آن بورڈ ہیں۔پارلیمانی کمیٹی قومی ا سمبلی وسینیٹ ممبران مانیٹرنگ کےلئے شامل کئے گئے ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ بھارت کی طرف سے بلوچستان ا ور گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی ناکام کوشش کی جار ہی ہے تاکہ سی پیک کا راستہ روکا جا سکے۔بیرون ملک اخبارات میں مشہور تجزیہ کار آرٹیکلز لکھ رہے ہیں کہ پاکستان نے پہلے مواقع ضائع کئے لیکن ہمیں یہ پیغام دینا ہے کہ ترقی کا موقع ضائع نہیں ہونے دینگے۔

احسن اقبال نے کہا دسمبر سے دو بڑے رابطوں سے ٹرک گوادر سے کوئٹہ ،کوئٹہ سے خضدرا رٹو ڈیرو چلنا شروع ہو جائینگے۔ سیکر ٹری منصوبہ بندی نے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت فوری منصوبوں میں 10400میگا واٹ بجلی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔750میگا واٹ کے کوئلے سے چلنے والے منصوبے بھی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی طاہر مشہدی نے کہا کہ جو دستاویزات فراہم کی گئی ہیں وہ خوش آئند ہیں زمینی حقائق مختلف ہیں ملک میںعوام کو شدید لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔گوادر کے بارے میں باتیں تو بہت کی جا رہی ہیں مگر وہاں پانی ا ور بجلی جیسے بنیادی مسائل کا حل نہیںنکالا جا سکا۔بندرگاہ کے بنیادی مسائل کے حل کےلئے بھی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔سیکرٹری وزارت نے آگاہ کیا کہ گوادر ماسٹر پلان کی تکمیل کے بعد کچھ ا ور منصوبے بھی شروع کئے جائینگے جس سے بنیادی مسائل حل ہو جائینگے۔

سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ ہمارے ٹیرف غیر حقیقت پسندانہ ہیں ہمیں صرف بجلی ہی نہیں بلکہ سستی بجلی چاہئے جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہ پن بجلی سستا ترین ذریعہ ہے مگر حکومت مہنگے ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کا کام کر رہی ہے۔ سیکرٹری منصوبہ بندی نے کہ صوبوں میںاتفاق رائے نہ ہونے سے منصوبوں پر بھرپور توجہ نہیں دی جا سکی۔دیا میر،بھاشا ڈیم پر کام کرنے کےلئے اس کو بھی پاک چین اقتصادی راہدای کا حصہ بنانا چاہتے ہیں ۔تھر پاور پلانٹ تین سال بعد مکمل ہو گا دو ارب ڈالر لاگت آئیگی۔سچل پاور پلانٹ سے دو ماہ بعد 124 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آنا شروع ہو جائیگی۔ قائداعظم سولر پلانٹ سے300میگا واٹ بجلی دسمبر میں سسٹم میں شامل ہو جائیگی لیکن600میگاو اٹ پر نرخوں کا معاملہ ہے منصوبہ شروع ہوا تو ٹیکنالوجی کی قیمت زیادہ اور اب کم ہو گئی ہے۔پہلے ٹیرف14سینٹ تھا اب کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کا ٹیرف8 سینٹ ہو گیا ہے۔ سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی سے ماحو لیاتی آلودگی میں اضافہ ہو گا۔وزارت پانی کے حکام نے آگاہ کیا کہ یورپی یونین ا ور خیبر پختونخواہحکومت ملکر مائیکرو ہائیڈرل پراجیکٹ کےلئے منصوبہ بنا رہے ہیں ۔یہ ماڈل آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی لایا جائیگا۔کام کے آغاز کےلئے جرمن ڈونرز کے ساتھ بھی بات چیت چل رہی ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت ساہیوال کول پراجیکٹ کےلئے انڈونیشا ملائشیا سے کوئلہ لا رہی ہے۔جس پر آگاہ کیا گیا کہ تھر کے کوئلے کو نکالنا مشکل ہے پارٹی بھی اتنی اچھی نہیں۔ہمارا اپنا کوئلہ اتنی مقدار میں بھی نہیں کہ کوئی بڑا منصوبہ لگا سکے۔

اجلاس میںسینیٹر سراج الحق،سینیٹر مفتی عبدالستار،سینیٹر سعید الحسن مندو خیل،سینیٹر محسن لغاری،سینیٹر سیف اللہ مگسی ،سینیٹر کریم خواجہ،سینیٹر شہباز خان درانی ،وفاقی وزیر احسن اقبال اوروزارت منصوبہ بندی پانی بجلی کے اعلی حکام نے شرکت کی۔

مزید : اسلام آباد


loading...