امریکہ کی اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے چین کو ڈرانے کی کوشش، ایسا کام کردیا کہ انتہائی سنگین خطرہ پیدا ہوگیا

امریکہ کی اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے چین کو ڈرانے کی کوشش، ایسا کام کردیا کہ ...
امریکہ کی اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے چین کو ڈرانے کی کوشش، ایسا کام کردیا کہ انتہائی سنگین خطرہ پیدا ہوگیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) بحرجنوبی چین کے معاملے میں امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور اب امریکہ نے ایک ایسا اقدام اٹھا دیا ہے جس سے دونوں عالمی طاقتوں کے مابین جنگ کا خطرہ نمایاں ہو گیا ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے ایٹمی ہتھیاروں کے حامل بمبار طیاروں نے بحرجنوبی چین کے اوپر پروازیں شروع کر دی ہیں۔ گزشتہ روز امریکہ کے تین جنگی طیارے بی 52سٹراٹوفورٹریس، بی 1لانسر اور بی 2سپرٹ فلائی نے گوام میں واقع امریکی فوجی اڈے سے اڑان بھری اور ایک ساتھ بحرجنوبی چین اور شمالی مشرقی ایشیاءمیں پروازیں کیں۔

’یہ ملک ہم پر ایٹمی حملہ کرے گا اور ہمیں تیاری کا وقت بھی نہیں ملے گا‘ کونسا ملک ہے جس سے امریکی حکومت اس قدر خوفزدہ ہے، جان کر آپ کی حیرت کی بھی انتہا نہ رہے گی

بنیادی طور پر امریکہ پیسیفک میں اپنے ایٹمی ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھنے والے جنگی طیارے اس لیے تعینات رکھتا ہے تاکہ خطے میں جارحیت کا راستہ روکا جا سکے لیکن حالیہ دنوں میں امریکہ کی طرف سے اس علاقے میں بمبار طیاروں کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ کیا گیا ہے جس کی وجہ بحرجنوبی چین کے معاملے پر چین کے ساتھ کشیدگی کا بڑھنا ہے۔ یہ تین بڑے بمبار طیارے بھی اسی نئی حکمت عملی کے تحت یہاں لائے گئے ہیں۔ چین لگ بھگ پورے بحرجنوبی چین کی ملکیت کا دعویدار ہے جس پر فلپائن و دیگر ممالک کے ساتھ اس کا تنازع چل رہا ہے اور گزشتہ دنوں جاپان کی طرف سے بھی چین پر جاپانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی طیاروں کے گشت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ چین کو جواب دینے کے لیے ایسے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ امریکی فوج کے 36ویں ونگ کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ڈوگلس ڈوکس کا کہنا ہے کہ ”جنگی طیاروں کی پروازیں چین کی خطے میں بڑھتی ہوئی جارحیت کا جواب دینے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ امریکہ عالمی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان تینوں طیاروں کی پروازوں اور اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مشقوں سے امریکہ اور اتحادی ممالک کی افواج کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔“

مزید : بین الاقوامی