چین کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار اظہار یکجہتی کے لئے ایک ایسے ملک پہنچ گئے کہ جان کر سعودی عرب شدید پریشان ہوجائے، یہ ملک ایران نہیں بلکہ۔۔۔

چین کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار اظہار یکجہتی کے لئے ایک ایسے ملک پہنچ گئے کہ ...
چین کے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار اظہار یکجہتی کے لئے ایک ایسے ملک پہنچ گئے کہ جان کر سعودی عرب شدید پریشان ہوجائے، یہ ملک ایران نہیں بلکہ۔۔۔

  


دمشق (مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں ایک جانب سعودی عرب شامی صدر بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف ایران شامی صدر کی بھرپور حمایت کر رہا ہے، لیکن سعودی عرب کے لئے یہ بات یقینا پریشانی کا باعث ہو گی کہ اب چین کی اعلٰی عسکری شخصیات بھی شامی صدر کی حمایت کے لئے جا پہنچی ہیں۔

ویب سائٹ MSN کی رپورٹ کے مطابق صدر بشارالاسد سے یکجہتی کے اظہار کیلئے چینی فوج کے اعلیٰ افسر ریئر ایڈمرل گوان یوفے اتوار کے روز شام جا پہنچے۔ انہوں نے شامی وزیر دفاع فہد جاسم الفریج سمیت متعدد اعلٰی حکام سے ملاقات کی۔

منہ کی کھانے کے بعد بھارت نے اب نیا حربہ اپنالیا، چین کی منتیں شروع کردیں تاکہ۔۔۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ چینی جنرل نے صرف اعلیٰ ترین شامی حکام سے ہی ملاقات نہیں کی بلکہ صدر بشارالاسد کی عسکری مدد کیلئے تعینات روسی جنرل سے بھی ملاقات کی، جو کہ شام میں برسرپیکار روسی افواج کی کوارڈینیشن کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

شام میں جنگ کا آغاز ہونے کے بعد روس کی جانب سے صدر بشارالاسد کو نہ صرف زمینی افواج کی مدد فراہم کی گئی بلکہ فضائی کارروائی بھی کی گئی لیکن اس کے برعکس چین نے اب تک اس جنگ میں فوجی مداخلت نہیں کی تھی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کے اعلیٰ سطحی شخصیت کا دورہ شام اور روسی جنرل سے ملاقات آنیوالے دنوں میں شام کے میدان جنگ میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہو سکتی ہے، جبکہ یہ دورہ امریکہ کیلئے بھی واضح پیغام ہے کہ روس اور چین اس کا راستہ روکنے کیلئے متحد ہیں۔

مزید : بین الاقوامی


loading...