لاہور کا سب سے بڑا منصوبہ لٹک گیا،11تاریخی عمارتوں کے قریب اورنج ٹرین منصوبہ ہائی کورٹ نے کالعدم کردیا

لاہور کا سب سے بڑا منصوبہ لٹک گیا،11تاریخی عمارتوں کے قریب اورنج ٹرین منصوبہ ...
لاہور کا سب سے بڑا منصوبہ لٹک گیا،11تاریخی عمارتوں کے قریب اورنج ٹرین منصوبہ ہائی کورٹ نے کالعدم کردیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے تاریخی عمارتوں کے اردگرد 200فٹ کی حدود کے اندراورنج لائن ٹرین منصوبے کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کردیا جس سے اورنج لائن ٹرین منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔منصوبہ کے تحت اورنج لائن ٹرین 11تاریخیں عمارتوں کے پاس سے گزرنا تھی جسے عدالت میں سول سوسائٹی سمیت متعدد افراد کی طرف سے چیلنج کیا گیا تھا۔مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ اور مسٹرجسٹس شاہد کریم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 14جولائی 2016کو اس کیس کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ محفو ظ کیا تھا جو سنا دیا گیا ہے۔فاضل بنچ نے تاریخی عمارتوں کی حد تک درخواستوں کا منظور کرلیا جبکہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کو ماحولیاتی آلودگی کے خلاف قرار دینے کی استدعا مسترد کردی تاہم حکومت کو ہدایت کی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔کامل خان ممتاز وغیرہ کی طرف سے دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے فاضل بنچ نے اپنے 83صفحات پر مشتمل فیصلے میں محکمہ آثار قدیمہ کی جانب سے اورنج ٹرین لائن منصوبے کے لئے جاری کئے جانے والے تمام این او سی غیرقانونی قرار دے دیئے۔فاضل بنچ نے حکم جاری کیا ہے کہ آثار قدیمہ کے قوانین کے تحت تاریخی عمارتوں کے اردگرد 200فٹ کے اندر کسی قسم کی بھی تعمیر عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی ہے کہ تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لئے عالمی معیار کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے،اس سلسلے میں یونیسکو سے مشاورت کو ترجیح دی جائے۔اس کمیٹی اور یونیسکو کی مشاورت سے معاملہ کا جائزہ لے کرسٹڈی رپورٹ تیار کی جائے۔عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اس سٹڈی رپورٹ کی روشنی میں آثارقدیمہ کے تحفظ کے قوانین کے تحت تاریخی عمارتوں کے قریب لیکن200فٹ کی حدود سے باہراورنج لائن ٹرین منصوبے کی تعمیر کی اجازت دینے کا نئے سرے سے جائزہ لیا جاسکتاہے۔فاضل بنچ نے حکم جاری کیا ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کے لئے نئے این او سی کے اجراکے لئے آثار قدیمہ کے قوانین کے تحت قوائد و ضوابط وضع کئے جائیں۔عدالت نے جن تاریخی عمارتوں کے اردگرد 200فٹ کی حدود کے اندر اورنج ٹرین منصوبے کو کالعدم کیا ہے ان میں جی پی او،ایوان اوقاف و سپریم کورٹ، سینٹ اینڈریو چرچ،دربار بابا موج دریا،چوبرجی،لکشمی بلڈنگ، شالامار باغ،بدھو کا آواہ،گلابی باغ اور دائی انگہ کا مقبرہ شامل ہے۔اس کیس میں عدالتی معاونت کے لئے 15ہزار کے قریب دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں جن میں شہنشاہ ہند جلال الدین اکبر کا شاہی فرمان بھی شامل ہے جس کے تحت بابا موج دریا کو دائمی بنیادوں پر اراضی الاٹ کی تھی اور آئندہ آنے والے حکمرانوں کو اس میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں۔دوران سماعت عدالتی معاون بیرسٹر علی ظفر نے امریکی،بھارتی اور برطانوی عدالتوں کے تاریخی عمارتوں کی حیثیت سے متعلق فیصلے عدالت میں پیش کئے۔انہوں نے بھارتی عدلیہ کے جنتر منتر،تاج محل،مقبرہ ہمایوں کے مقدمات کے فیصلوں کے حوالے دئیے۔انہوں نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ تاریخی عمارتوں کی حیثیت کو تبدیل یا ختم نہیں کیا جاسکتا،تاریخی عمارتوں کے اردگرد کثیر المنزلہ عمارتیں بھی تعمیر نہیں کی جا سکتیں،انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کے عدالتی فیصلے بھی موجود ہیں۔انہوں نے اس عدالتی فیصلے کو آثار قدیمہ کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ قراردیااور کہا ہے کہ اس فیصلے سے ہماری تاریخ بھی بچ جائے گی اور شہر کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت بھی تبدیل نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کا اطلاق ملک بھر میں کیا جا سکے گا اور حکومت آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں اس فیصلے پر عمل درآمد کی پابند ہوں گی۔

مزید : لاہور