جذبات قانونی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں!

جذبات قانونی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں!
 جذبات قانونی فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں!

  

کیا قانون واقعی اندھا ہوتا ہے؟اصولی طور پر تو اسے اندھا ہی ہونا چاہئے یعنی یہ کہ اس کی نظر میں سب برابر ہوں اور قطع نظر اس کے کون کیا ہے، ججوں کو فیصلہ حقائق کی بنیاد پر اور اس سے قبل کئے گئے فیصلوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے کرنا چاہئے۔۔۔ لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہی ہوتا ہے؟ اس حوالے سے بین الاقوامی شہرت کے حامل قانون کے دو پروفیسروں نے ایک تجربہ کیا، جس کے نتائج شکاگو یونیورسٹی کے ممتاز جریدے ’’جرنل آف لیگل اسٹڈیز‘‘ کے 2016ء کے شمارے میں شائع ہوئے۔ تجربے میں حصہ لینے والے ایک امریکی پروفیسر ہولگر سیامات کا تعلق ہارورڈ لاسکول سے، جبکہ دوسرے جرمن پروفیسر لارس کلوہن کا تعلق ہمبولٹ یونیورسٹی برلن سے ہے۔

یہ تجربہ ایک کانفرنس میں شریک وفاقی سطح کے 32 ججوں پر کیا گیا جن سے ایک مجرمانہ مقدمے کے بارے میں فیصلہ لکھنے کے لئے کہا گیا تھا۔ (فرضی نوعیت کا یہ مقدمہ ان مقدموں سے مختلف نوعیت کا تھا جن سے انہیں عام طور پر واسطہ پڑتا ہے) اس میں مدعا علیہ ایک فوجی لیڈر تھا جس نے جنگی جرائم کے مرتکب ایک گروپ کو مسلح کیا تھا جن کے جنگی جرائم کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں تھا۔ اسے 1990ء میں بوسنیا میں جنگی جرائم سے متعلق مقدمات کی سماعت کرنے والے ایک بین الاقوامی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں اس پر جرم میں بالواسطہ طور پر ملوث ہونے کی بنا پر فرد جرم عائد کی جا چکی تھی جس کے خلاف اس نے اپیل دائر کی تھی۔ تجربے کے لئے ججوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن میں سے ایک گروپ کے سامنے پہلے کئے گئے فیصلوں میں سے وہ مثال رکھی گئی تھی جس کے مطابق بالواسطہ طور پر ملوث ہونے پر سزائیں دی جانی چاہئیں۔ جبکہ دوسرے گروپ کے سامنے بالواسطہ طور پر ملوث ہونے پر سزا دیئے جانے کے ایک کمزور فیصلے کی مثال رکھی گئی تھی۔ اس کے علاوہ دوسرا متغیر عنصر یہ رکھا گیا کہ ہر گروپ کے منصف کے سامنے مدعا علیہ کو ہمدردی کے جذبے سے عاری ایک انتہائی قوم پرست سرب باشندے کے طور پر پیش کیا گیا جسے سربوں کے ظلم و ستم پر کوئی پشیمانی نہیں تھی، اور وہ بعد میں ایک انتہا پسند سرب پارٹی کا رہنما بن گیا تھا جبکہ دوسرے منصف کے سامنے مدعا علیہ کو کروشیا کے ایک ایسے باشندے کے طور پر پیش کیا گیا جسے اپنے کئے پر پشیمانی تھی اور جو بعد میں ایک ایسی تنظیم کے ساتھ منسلک ہو گیا تھا جو لوگوں کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لئے کام کر رہی تھی۔ مدعا علیہ کے بارے میں ان معلومات کا مقدمے کے ڈھیروں کاغذات میں کہیں کہیں سرسری طور پر ذکر کیا گیا تھا۔ ہر جج نے اس مقدمے کا اپنے طور پر مطالعہ کیا اور بالواسطہ طور پر ملوث ہونے کے سبب دیئے گئے فیصلے کو برقرار رکھنے یا نا رکھنے کے بارے میں فیصلہ دیا اور تفصیلات میں اس کی وضاحت بھی کی۔

تجربہ کرنے والے پروفیسروں نے ایک اور کام بھی کیا کہ انہوں نے قانون کے 102 پروفیسروں کو اس تجربے کے حوالے سے ججوں کے فیصلوں کے بارے میں پیشگوئی کرنے کے لئے کہا جن سے صرف 13 فیصد نے یہ رائے ظاہر کی کہ ججوں کے فیصلے میں مدعا علیہ کے ذاتی کردار کا بھی عمل دخل ہوگا۔ جبکہ تجربے کے نتائج اس کے بالکل الٹ رہے اور 87 فیصد ججوں نے پہلے سے کئے گئے فیصلوں کو چاہے ان کی نوعیت کچھ بھی تھی نظر انداز کرتے ہوئے انتہا پسند سرب کے خلاف فیصلہ برقرار رکھا اور صرف 41 فیصد نے پشیمان کروشین کے خلاف فیصلہ دیا۔ دیگر الفاظ میں ججوں کے فیصلوں پر پہلے سے کئے گئے فیصلوں کی مثالوں کی نسبت ملزم کا ذاتی کردار زیادہ اثر انداز ہوا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ ججوں کی اپنے فیصلوں کے بارے میں وضاحتیں تھیں۔انہوں نے ان وضاحتوں میں یہ لکھا کہ پہلے کئے گئے فیصلوں کی مثالیں اپنی جگہ لیکن ان سے زیادہ اہم خود مدعا علیہ کا کردار ہے؟ بالکل نہیں۔ زیادہ تر ججوں نے پہلے کئے گئے فیصلوں کا حوالہ صرف اس صورت میں دیا جب وہ فیصلے ان کے اپنے فیصلے کے حق میں جاتے تھے دیگر نے قانونی امور اور پالیسی کی بات کی۔ صرف ایک جج نے اس بات کا ذکر کیا کہ مدعا علیہ کون تھا اور وہ بھی یہ بتانے کے لئے کہ اس بات کا فیصلے سے کوئی تعلق نہیں۔ تجربے کے حوالے سے یہ باتیں قابل ذکر ہیں کہ یہ کوئی عدالت کا کمرہ نہیں تھا۔ مجموعی طور پر منظر ملزم کے کردار پر مرکوز تھا۔ پہلے کے فیصلے ہلکے تھے جبکہ ذاتی خصوصیات ہلکی نہیں تھیں۔ یعنی یہ کہ ملزم کے اوصاف سب سے اہم تھے لیکن کسی جج نے اس کا اعتراف نہیں کیا۔

اس تجربے کا ذکر امریکہ کے ممتاز اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی حالیہ اشاعت میں کرتے ہوئے فاضل مضمون نگار نے لکھا ہے کہ فیصلوں پر جذبات کے اثر انداز ہونے کا معاملہ صرف ججوں تک محدود نہیں، بلکہ دماغ کی سائنس اور نفسیات میں تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسانوں میں اپنے جذبات کی بنیاد پر فیصلے دینے کا رجحان پایا جاتا ہے، جس کو درست ثابت کرنے کے لئے وہ دلائل کا سہارا لیتے ہیں اور یہ کہ اس کا اطلاق سائنسدان پر بھی ہوتا ہے، جن کو وہی اعدادوشمار قابل بھروسہ نظر آتے ہیں جو ان کے نظریئے کو درست ثابت کرنے میں مدد دیتے ہوں اور اساتذہ پر بھی جوطلبا کی کارکردگی کے بارے میں اپنی رائے دیتے وقت ان کے ذہانت کے (مفروضہ) معیار کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ چاہے وہ معزز افراد ہوں جنہیں غیر جانبداری برتنے کے لئے پیشہ ورانہ طور پر تربیت دی گئی ہو یا ہم سب ۔انسان کے مثالی برتاؤ اور عیب آمیز برتاؤ کے درمیان بہت بڑی کھائی ہے

مزید :

کالم -