وزیر اعظم عمران خان: اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو

وزیر اعظم عمران خان: اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو
وزیر اعظم عمران خان: اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سب مرحلے طے ہوئے اور عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ کا سفر شروع ہوگیا، پورے ملک کی فضا میں ایک تبدیلی کی مہک ہے، سب انتظار میں ہیں کہ اب وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کیسے چلاتے ہیں، اُن خوابوں کو تعبیرکیسے بخشتے ہیں، جو انہوں نے پہلے خود دیکھے اور پھر قوم کو دکھائے؟ پہلے تو شاید وہ گہری نیند سوتے ہوں، اب انہیں مشکل ہی سے نیند آئے گی۔

ذوالفقار علی بھٹو کہا کرتے تھے کہ صرف تین گھنٹے سوتا ہوں، وہ بھی رات تین بجے سے صبح چھ بجے تک، عمران خان شاید دو گھنٹے سوئیں، کیونکہ انہوں نے پاکستان کو بدلنے کا وعدہ کررکھا ہے، وہ نئے پاکستان کی اُمید بن کر اقتدار میں آئے ہیں، اس کے لئے تو لازماً انہیں دن رات ایک کرنا ہوں گے۔ اپنا سکھ چین ختم کرنا پڑے گا، اُن کے اندر آج بھی ایک سپورٹس مین موجود ہے، وہ تھکتے نہیں، ایک دن میں پانچ پانچ جلسوں سے خطاب کرتے رہے ہیں، اب جلسے تو نہیں کرنے، البتہ فیصلے کرنے ہیں، جن کے لئے حددرجہ مشاورت، سوچ،بچار اور قوت فیصلہ کی ضرورت پڑے گی۔ اُمید ہے وزیر اعظم عمران خان اس مرحلے سے بھی سرخرو ہو کر نکل جائیں گے۔

وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد انہوں نے اسمبلی کے شور شرابے والے ماحول میں جو تقریر کی، اُس پر شاہ محمود قریشی نے بلاوجہ معذرت کی چادر چڑھائی، وہ تقریر بہت فطری اور عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنے والی تھی، اُس میں وہی بیانیہ موجود تھا، جو عمران خان نے پانچ برس اپنائے رکھا ہے، وہ ایسی کسی مفاہمت کی بات نہیں کرسکتے تھے، جس سے یہ تاثر اُبھرتا کہ وہ وزیر اعظم بننے کے بعد مصلحت کا شکار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یک لخت اُن افواہوں کا صفایا کردیا،جو اس حوالے سے پھیلائی جارہی تھیں کہ عمران خان احتساب کے عمل سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔

جب انہوں نے اسمبلی کے اندر آصف علی زرداری سے ہاتھ ملایا تو شور مچ گیا کہ غیر اعلانیہ این آر او ہوگیا، حالانکہ یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ عمران خان اداروں کے کام میں مداخلت کریں۔ وہ خود نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر کی آزادی و مضبوطی کا وعدہ کرچکے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کو بہت سراہا جارہا ہے، یہ اس وجہ سے ہوا کہ بلاول بھٹو زرداری کو اسمبلی میں ایک پُرسکون اور خاموش ماحول ملا، اگر انہیں بھی عمران خان اور شہباز شریف کی طرح شورشرابے میں تقریر کرنا پڑتی تو شاید اُن کا سارا زور اونچی آواز میں بولنے پر صرف ہوجاتا اور ٹھہراؤ سے بات نہ کرپاتے۔

یہ درست ہے کہ ماحول کی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان وہ بہت کچھ نہیں کہہ سکے، جس کی توقع کی جارہی تھی، یعنی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات، عوام کو سہولتیں دینے اور قومی مسائل کو حل کرنے کے عزم کا اظہار وغیرہ، تاہم انہوں نے جو کچھ کہا وہ ایک ایسے شخص کے خیالات کا عکس تھا، جو ملک کے لئے کچھ کرگزرنا چاہتا ہے۔

جس دن حلف اُٹھایا گیا اور انہوں نے وزیر اعظم ہاؤس میں سلامی لی، اُس وقت بھی اُن کی باڈی لینگوئج صاف اشارہ دے رہی تھی کہ انہیں ایسی چکا چوند اور شاہانہ زندگی سے کوئی غرض نہیں، وہ تو عوام کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں، ایسا لیڈر جو اقتدار کی غلام گردشوں میں جاکر اُس کی بھول بھلیوں میں گم نہیں ہوجاتا، وہ بڑے فیصلے بھی کرسکتا ہے اور غیر روایتی اقدامات بھی اُٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

ویسے تو یہ بات محاورتاً کی جاتی ہے کہ اقتدار پھولوں نہیں کانٹوں کی سیج ہے، تاہم عمران خان کے لئے تو یہ واقعی کانٹوں کی سیج ہے۔ وہ ستر سال کا بوسیدہ اور استحصالی نظام بدلنا چاہتے ہیں، وہ کرپشن کو ختم کرنا چاہتے ہیں، وہ عوام کی لوٹی گئی دولت واپس لانا چاہتے ہیں، وہ پولیس کی اصلاح کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ غربت میں کمی لاکر کروڑوں عوام کی زندگی بدلنا چاہتے ہیں، وہ بے روزگاری ختم کرنے کا عزم اور مہنگائی میں کمی کا پختہ ارادہ لئے ہوئے ہیں، گویا ایک جنجال پورہ ہے، جس میں وہ بطور وزیر اعظم داخل ہوئے ہیں اور اُسے ٹھیک کرنے کی عظیم ذمہ داری اُن پر ڈال دی گئی ہے۔

کیا یہ آسان کام ہے؟ ایک بحران میں گھری ہوئی معیشت اور قرضوں کا بے انتہا بوجھ انہیں ورثے میں ملا ہے، معیشت درست نہ ہو تو باقی کام بھی نہیں ہوسکتے۔

مثلاً بے روزگاری اور غربت میں کمی کیسے آئے گی، اگر وسائل ہی نہیں ہوں گے۔۔۔ عمران خان نے یہ تو کہہ دیا ہے کہ وہ اپنے عوام سے پیسہ اکٹھا کریں گے، لیکن اس کے لئے بھی تو انہیں ایک عظیم جنگ لڑنا پڑے گی۔

اس ملک کے تاجر صرف پیسے کمانا جانتے ہیں، ٹیکس دینے کو وہ ایک کفر سمجھتے ہیں، تھوڑا سا بھی ٹیکس لگ جائے تو شٹر ڈاؤن ہڑتال کر دیتے ہیں، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ حکومتی خزانے میں پیسے نہیں ہوں گے تو ترقیاتی کام کیسے ہوں گے، انہیں روزمرہ سہولتیں کیسے ملیں گی؟ انہیں تو صرف اس بات کا پتہ ہوتا ہے کہ پانچ ہزار روپے ماہانہ اگر اُن پر ٹیکس لگایا گیا ہے تو اس سے کیسے بچنا ہے؟

عمران خان کے خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے پاس ایک غیرروائتی اور سوجھ بوجھ رکھنے والی اقتصادی ٹیم ہو۔ اسد عمر کو وہ وزیر خزانہ بنانا چاہتے ہیں، اُن کے خیالات بھی اچھے ہیں اور وہ پُر عزم بھی ہیں، مگران باتوں سے توکام نہیں چلے گا۔

اصلاحات کیسے لانی ہیں اور منصوبے کیسے بنانے ہیں، اس کے لئے انہیں ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی، کیا اس حوالے سے وہ اپنا ہوم ورک مکمل کرچکے ہیں؟ انہیں لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم فیصلے کرنے ہوں گے۔

مثلاً شارٹ ٹرم فیصلوں میں ضروری ہے کہ تیل کی قیمتیں کم کی جائیں۔بجلی کے نرخوں میں نیپرا جو ہر روز قیمت بڑھانے کا نوٹس جاری کردیتا ہے، اُسے ختم کیا جائے۔

یہ درست ہے کہ بجلی کے حوالے سے گردشی قرضہ ایک ہزار ارب سے زائد ہوگیا ہے، لیکن اُس کا صرف یہی طریقہ نہیں کہ بجلی کے نرخ بڑھا دیئے جائیں۔ ہر ماہ اربوں روپے کے جو لائن لاسز ہوتے ہیں، اُن پر قابو پانا ضروری ہے۔

پچھلے دورِ حکومت میں کھربوں روپے کی بجلی چوری ہوئی ہے۔ بے بسی کا عالم یہ رہا کہ خود وزیر پانی و بجلی یہ کہتے رہے کہ جن علاقوں میں بجلی چوری زیادہ ہے، وہاں لوڈشیڈنگ بھی زیادہ کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے جو فوری قدم اُٹھایا جانا چاہئے، وہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی اصلاح ہے۔ تمام کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو تبدیل کرکے ایماندار افسران کو تعینات کیا جائے، انہیں تین ماہ کا ٹاسک دیا جائے کہ وہ لائن لاسز میں سو فیصد کمی لائیں۔

کمپنیوں کے بورڈ آف گورنرز میں ساری سیاسی بھرتیاں ہیں، ایسے لوگ موجود ہیں، جنہیں بجلی کے حوالے سے الف بے بھی معلوم نہیں۔

انہیں گھاگ افسران بے وقوف بناتے ہیں اور یہ لوگ معمولی سی مراعات کی خاطر اُن کے ایجنڈے کی منظوری دے دیتے ہیں۔

یہ تمام بورڈ آف گورنرز توڑ کر مختلف شعبوں کے ماہرین کو ان میں شامل کیا جائے۔ بورڈ آف گورنرز کے اختیارات میں یہ بات بھی شامل کی جائے کہ وہ ایک حد سے زیادہ لائن لاسز کی صورت میں متعلقہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سے باز پرس اور متعلقہ وزارت کو اس کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کرسکتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوں گے کہ ایک مضبوط اپوزیشن اُن کا ہر وقت گھیراؤ کرنے کے لئے تیار بیٹھی ہے، انہیں وہ سہولت حاصل نہیں جو نواز شریف اور شہبازشریف کو حاصل تھی کہ انہوں نے انتخابی مہم میں جو وعدے کئے تھے، انہیں پورانہ کرنے پر اُن کا کسی نے محاسبہ نہیں کیا، مثلاًچھ ماہ میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ وہ حکومت کے اختتام تک پورا نہ کرسکے۔

یہاں تو وہ سو دن کے ایجنڈے پر نظر رکھے بیٹھے ہیں۔ جیسا کہ بلاول بھٹوزرداری نے اسمبلی میں پہلی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب وزیر اعظم کو اپنے وعدے پورے کرنے پر توجہ دینا ہوگی، گویا کپتان کے پاس تو ہنی مون پیریڈ کی سہولت بھی موجود نہیں۔ پاکستان میں شاید وہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد واحد وزیر اعظم ہیں، جن سے عوام نے اتنی زیادہ توقعات باندھ لی ہیں۔ بلاشبہ عمران خان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ سخت فیصلے کرسکتے ہیں، تاہم اُن کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی ایسی ٹیم چنیں جو ان توقعات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

انہیں اپنے اتحادیوں کو بھی ساتھ لے کر چلنا ہے، انہیں وزارتیں بھی دینا پڑیں گی، کیا وہ انہیں باور کرا سکیں گے کہ اب پرانے وقتوں کی وزارتیں نہیں ہیں،جو لوٹ کھسوٹ کے لئے استعمال کی جاتی تھیں، اب تو ان کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینا پڑے گا۔ انہوں نے جس سادگی کو اپنانے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ کے ہر ممبر کو بھی اس کی پیروی کرنی پڑے گی، چاہے اُس کا تعلق تحریک انصاف سے ہو یا اتحادی جماعت سے۔ یہی پیغام انہیں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اپنی حکومتوں کو بھی دینا پڑے گا۔

جب تک حکومتوں میں شامل ہر شخص کپتان کے ایجنڈے کو صدق دل سے نہیں اپنائے گا، توقعات پر پورا اُترنا ممکن نہیں ہے۔ عمران خان نے 22سالہ جدوجہد کے بعد بلاشبہ اپنی منزل کو پالیا ہے، تاہم اب انہیں احساس ہوگیا ہوگا کہ اس منزل کے بعد ایک نئی منزل کا سفر درپیش ہے، بقول منیر نیازی:

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو

میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا

مزید : رائے /کالم