وزیراعظم عمران خان کو عثمان بزدار کی حمایت میں ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟

وزیراعظم عمران خان کو عثمان بزدار کی حمایت میں ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ...
وزیراعظم عمران خان کو عثمان بزدار کی حمایت میں ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

 وزیراعظم عمران خان نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کے لئے اپنے نامزد امیدوار عثمان بزدار کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے انہیں ایمان دار قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیراعظم کو یہ ٹویٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ یہ تو وہی بہتر جانتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ پارٹی کے اندر بعض لوگ ان کے اس فیصلے کو پسند نہیں کر رہے۔ عثمان بزدار کا نام سامنے آتے ہی ان پر طرح طرح کے الزامات لگنے شروع ہوگئے ہیں، جن میں چھ افراد کے قتل اور جعلسازی تک کے الزامات شامل ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب ووٹ نہ دینے پر ان سے چھ بندے قتل ہوگئے تو انہوں نے 75 لاکھ روپے دیت ادا کرکے صلح کرلی۔ خود عثمان بزدار اور تحریک انصاف نے ان الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ اس لئے ان کے موقف کو درست ہی تسلیم کرنا چاہئے، لیکن یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ آج وہ کون لوگ ہیں، جنہیں پارٹی چیئرمین اور وزیراعظم کا فیصلہ قبول نہیں۔ شاید یہ وہ لوگ ہیں جو اس عہدے کے لئے نہ صرف خود امیدوار تھے بلکہ دوڑ دھوپ کرکے بندے بھی پورے کر رہے تھے، کیونکہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی تھی۔ تحریک انصاف دوسرے نمبر پر تھی، اگر آزاد ارکان جوق در جوق پارٹی میں شمولیت اختیار نہ کرتے اور پارٹی کے اندر متمول شخصیات اس کے لئے بھاگ دوڑ نہ کرتیں تو یہ ارکان آسانی کے ساتھ تو تحریک انصاف میں شامل نہ ہوتے۔ نتائج کے ساتھ ہی عبدالعلیم خان ایسے آزاد ارکان کو اپنی جماعت میں لانے کے لئے سرگرم ہوگئے تھے۔ وہ بیک وقت قومی اور صوبائی حلقوں سے امیدوار تھے، قومی حلقے میں شکست کھا گئے تھے جبکہ صوبائی اسمبلی کی نشست جیت گئے، چونکہ پارٹی کے اندر ان کی ایک ممتاز حیثیت ہے۔ جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد وہی سب سے زیادہ متحرک بھی تھے، اس لئے عام خیال یہی تھا کہ وہ وزیراعلیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ چند روز تک تو ان کا نام سرفہرست رہا، پھر بعض دوسرے نام بھی سامنے آنے لگے، یہاں تک کہ فواد چودھری بھی امیدواروں کی صف میں نمایاں ہوگئے۔ میاں محمود الرشید کا نام بھی اس لئے لیا جانے لگا کہ وہ پانچ سال تک پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے۔ غالباً انہوں نے سوچا ہوگا کہ اب اگر پارٹی کی حکومت بن رہی ہے تو ان کا کام سب سے اوپر ہونا چاہئے، لیکن انہیں غالباً اندازہ نہیں تھا کہ سیاسی جماعتوں میں دونوں عہدوں یعنی قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے لئے میرٹ کے پیمانے الگ الگ ہیں۔ ضروری نہیں جو قائد حزب اختلاف رہا ہو، وہ لازماً قائد ایوان کے لئے بھی کوالیفائی کرے گا۔ اس لئے محمود الرشید کا نام تو چند دن کے اندر ہی فہرست سے خارج ہوگیا۔ پھر ان کے لئے بعض دوسرے مناصب بھی گنے گئے، لیکن اب اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ صوبائی وزیر بن سکتے ہیں۔ اس کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد کا نام لیا گیا جن کی جدوجہد کئی سال تک تو قومی اسمبلی کا رکن بننے کے گرد گھومتی رہی۔ 2013ء میں وہ نواز شریف کے مقابل امیدوار تھیں اور چالیس ہزار ووٹوں سے ہار گئیں، پھر ان کی نااہلی کے بعد 2017ء میں دوبارہ امیدوار بنیں تو بیگم کلثوم نواز سے ہار گئیں۔ اب انہوں نے 2018ء میں تیسری بار الیکشن لڑا تو بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔ تیسری بار شکست سے پہلے البتہ انہوں نے یہ اہتمام کرلیا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں اپنا نام سرفہرست رکھوا لیا۔ یہ کامیابی تو یقینی تھی۔ چنانچہ وہ قومی اسمبلی جانے میں ناکام ہوکر صوبائی اسمبلی کی رکن بن گئیں، تو اچانک یہ خیال آرائی ہونے لگی کہ وہ وزیراعلیٰ بن سکتی ہیں۔ عبدالعلیم خان اور محمود الرشید کے ناموں کے ساتھ ساتھ لاہور سے اسلم اقبال کا نام بھی آتا رہا، پھر میانوالی سے سبطین خان کا نام لیا گیا۔ پھر ایک دن عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ خود پنجاب کا وزیراعلیٰ نامزد کریں گے اور وہ نوجوان ہوگا، اس اعلان کے بعد عمررسیدہ حضرات تو خود بخود فہرست سے خارج ہوگئے۔ البتہ جو نوجوان تھے، انہوں نے اپنی توقعات بڑھا لیں۔

اب عثمان بزدار کا نام سامنے آیا ہے تو بہت سے حضرات حیران ہیں اور ان کے نزدیک عثمان بزدار اس بڑے منصب کے لئے اہل نہیں ہیں۔ خصوصاً اس حالت میں جب ان پر الزامات بھی ہیں، لیکن اگر وزیراعظم ان کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر پارٹی کے اندر یا باہر مخالف کرنے والوں کی کامیابی کا زیادہ امکان نہیں۔ پنجاب کے قائد ایوان کا انتخاب بھی ڈویژن کی بنیاد پر ہوگا یعنی ان کے حق میں ووٹ دینے والے ایک طرف اور مخالفت میں ووٹ دینے والے دوسری طرف ہو جائیں گے۔ اس طرح اگر پارٹی کے اندر کوئی ان کی مخالفت کرنا بھی چاہے گا تو اس کے لئے کھل کر ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا، جس طرح سپیکر کے انتخاب میں ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کے بعض ارکان نے چودھری پرویز الٰہی کو ووٹ دے دیا لیکن ڈپٹی سپیکر تک آتے آتے یہ معاملہ برقرار نہ رہا اور جو ووٹ چودھری پرویز الٰہی کو ملے تھے وہ ڈپٹی سپیکر کو نہ مل سکے۔ اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر کچھ لوگ عثمان بزدار کو ووٹ نہیں بھی دینا چاہتے تو بھی کھلے عام ایسا کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس لئے ان کی کامیابی کا امکان تو روشن ہے۔ البتہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر پارٹی کے اختلافات کھل کر سامنے آسکتے ہیں۔

مزید : تجزیہ