تخت لاہور کا کمزور حکمران

تخت لاہور کا کمزور حکمران
تخت لاہور کا کمزور حکمران

  

خدا خدا کر کے صبر ٹوٹا اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے وزیراعلیٰ پنجاب کا اعلان کر ہی دیا۔جسکے مطابق ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے سردار عثمان بزدار بلوچ کو تخت لاہور کی حکمرانی کا تاج پہنایا جائے گا۔بظاہر اس نامزدگی کو آغاز سے متنازع بنایا جا رہا ہے اور عثمان بزدار کے خلاف قتل کے مقدمے کا حوالہ دیا جارہا ہے۔ق لیگ اور ن لیگ کے ساتھ اقتدار انجوائے کرنے والے عثمان بزدار کو پنجاب پر حکمرانی کے لیئے ایک کمزور مہرہ سمجھا جارہا ہے۔بتانے والے بتاتے ہیں اس نامزدگی سے " ملٹی پل " نتائج حاصل کیئے جائیں گے۔ ایک طرف جنوبی پنجاب کی احساس محرومی کو ختم کرنے کی کوشش ہے دوسری جانب بادی النظر میں صوبہ جنوبی پنجاب کی تحریک کو ختم کرنیکا ارادہ ہے

ظاہر ہے علیحدہ صوبہ یا انتظامی یونٹ بنانے کی باتیں اپوزیشن میں ہی اچھی لگتی ہیں اقتدار کی زمین جتنی وسیع ہو حکمرانی کا نشہ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے مگر اس ساری کہانی کا ایک تیسرا رخ بھی ہے کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی اور گورنر پنجاب چوہدری سرور کے درمیان سردار عثمان بزدار کدھر کھڑے ہونگے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کسی مضبوط سیاسی بیک گراؤنڈ رکھنے والی شخصیت کے بجائے ایسے شخص کو سامنے لایا گیا ہے جسے اسکے حلقے سے باہر کم لوگ ہی واقفیت رکھتے ہیں ۔ خان صاحب نے وزارتِ داخلہ اپنے ہاتھ میں رکھ کر ترپ کے پتے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اور وہ اسلام آباد سے ہی تخت لاہور کا نظام سنبھالنا چاہتے ہیں ۔

خان صاحب نے کابینہ کا اعلان کر دیا ہے جہاں اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ ساتھ اتحادیوں کو بھی ترجیح دی گئی ہے۔ چار ووٹوں کی اکثریت سے بننے والی حکومت اپنے کسی بھی اتحادی کو نظر انداز کرنے کے موڈ میں نہیں ہے اسکا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قومی اسمبلی میں چھ سیٹیں جیتنے والی متحدہ قومی موومنٹ کو دو وفاقی وزارتیں دی جارہی ہیں اور اس حوالے سے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور بیرسٹر فروغ نسیم کے نام سامنے آئے ہیں اسی طرح دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی نوازا جارہا ہے۔

یوں تو خان صاحب نے ابتدائی سو دن کا منشور دیا تھا مگر بعض حلقوں کا کہنا ہے کم از کم چھ مہینے میں اندازہ ہو سکے گا کہ کارکردگی کے لحاظ سے تبدیلی سرکار کہاں کھڑی ہوگی۔بعض لوگوں نے تو پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کے اعلان کو لے کر موازنہ کرنا شروع کر دیا ہے۔انصافی حکومت کو ورثے میں حسب روایت خزانہ خالی اور قرضوں کا انبار ملا ہے دوسری طرف بظاہر ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا بھی ہے جو ناگزیر وجوہات کی بناء پر فی الوقت منتشر نظر آرہی ہے۔بعض لوگ انتشار کی اس کیفیت کو زرداری صاحب اور انکی ہمشیرہ کے خلاف عدالتی کاروائی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی وزیراعظم کے انتخابی عمل میں لا تعلق رہی ہے اور شہبازشریف کو ووٹ دینے سے گریز کیا ہے۔ شاید اسکی بنیادی وجہ شہبازشریف کے عوامی اجتماعات میں زرداری صاحب کے بارے میں نازیبا جملوں کا استعمال تھا۔

سردار عثمان بزدار کی بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب نامزدگی کے حوالے سے یہ استدلال بھی سامنے آیا ہے کہ وہ پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور انکے گھر میں بجلی بھی نہیں ہے ۔ یہ الگ بات کہ پراڈو پجارو جیسی گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ۔یہ بات بھی سمجھ سے باہر ہے کہ ممبر صوبائی اسمبلی اور تحصیل ناظم رہنے والا شخص اگر اپنے گھر پر بجلی بھی نہیں لگوا سکا تو وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی ذمّہ داریاں کیسے نبھا پائے گا۔

ہو سکتا ہے مستقبل قریب میں ترین صاحب اہل ہوجائیں یا علیم خان صاحب نیب سے کلئیر ہوجائیں تب تک سردار صاحب سے کام چلا لیا جائے مگر سب سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔باقی سردار عثمان صاحب کتنے دبنگ۔ بولڈ وزیراعلیٰ ثابت ہونگے اس بات کی حقیقت کو سمجھنے کے لیئے سردار صاحب کی ایک تقریر سننے کی ضرورت ہے جو یہ فیصلہ کر دے گی کہ فرزند جنوبی پنجاب تخت لاہور کی حکمرانی کا بوجھ خود اٹھائے گا یا یہسارا معاملہ وفاقی وزیرِ داخلہ دیکھیں گے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ