نئی حکومت سبق سیکھ پائے گی ؟

نئی حکومت سبق سیکھ پائے گی ؟
نئی حکومت سبق سیکھ پائے گی ؟

  

بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ کے خوابوں کی تعبیر ایک " اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست پاکستان " ہے۔ 1973 کا آئین ہمیں وہ تمام رہنما اصول فراہم کرتا ہے , جن کی بنیاد پر خوشحال پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے سیاسی نظام کی خرابیوں کو دور کرنا ہوگا , تاکہ جمہوریت مستحکم ہوسکے۔ ہمیں ہر شعبہ زندگی میں اصلاحات کرنا ہوں گی تاکہ عوام کی فلاح و بہبود کا اوّلین ریاستی فریضہ ادا ہو سکے۔ عوام کو پینے کے صاف پانی , تعلیم , صحت کی سہولیات , روزگار کی فراہمی اور غربت کا خاتمہ ہماری اوّلین ترجیحات میں شامل ہو نا چاہیے۔ ہمیں اسلام کا نظام عدل اپنانا ہوگا تاکہ عوام کو معاشرتی مساوات , معاشی تحفظ اور قانونی انصاف میسر آسکے۔ عدل و انصاف کے تقاضے تب تک پورے نہیں ہوتے جب تک عوام کو سستا اور فوری انصاف میسر نہ ہو۔ اس کیلیے ہمیں کڑا احتساب یقینی بنا کر لوٹی ہوئی قومی دولت واپس لا کر , ملک کو سودی غیرملکی قرضوں کے شیطانی چنگل سے آزاد کرانا ہوگا۔ شہداء ماڈل ٹاون کے قاتلوں کو عبرتناک سزا دینا ہوگی۔

پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ بدعنوانی و بدانتظامی ہے۔ قائداعظم سولر پاور پلانٹ , نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پلانٹ ہو یا نندی پور پاور پلانٹ ہو یا تھر کول پروجیکٹ ہو ہر طرف بد انتظامی اور بدعنوانی کی داستانیں رقم کی گئی ہیں۔

ہم بھارت کی شدید آبی جارحیت کا شکار ہیں۔ ہمارا ملک آبی قلت کو دستک دے رہا ہے۔ ہماری زمینیں بنجر ہونے کو ہیں مگر ہم ابھی کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکے اور دیامیر بھاشا ڈیم منصوبہ کہاں پہنچا ؟؟؟ حالات یہ ہیں کہ ڈیم بنانے کیلیے بھی سپریم کورٹ کالا باغ ڈیم فنڈ قائم کرنا پڑا۔ کوئی بتا سکتا کہ دنیا کا کون سا ملک ہے جہاں کی عدلیہ کو انتظامیہ کی جگہ ایسے اقدامات کرنے پڑے ہوں۔ ہمارے نالائق حکمران یہ مسئلہ حل نہیں کرسکے۔ جمہوریت کے پروردہ یاد رکھ لیں کہ منگلا اور تربیلا ڈیم فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت کے دور میں ہونے والے سندھ طاس معاہدے کا تحفہ ہیں۔ جن میں سے ایک منگلا ڈیم خشک ہونے کے قریب ہے اور باقی ہمارے پاس صرف تربیلا ڈیم بچتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف دشمن ملک بھارت مقبوضہ کشمیر میں بیٹھ کر ہمارے دریاؤں کا پانی روک کر تیزی سے کشن گنگا سمیت کء ڈیم بنا رہا ہے۔ بھارت ہمارے دریاؤں کا پانی روک کر ہماری زمینیں بنجر کرنے کے منصوبے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔ اور بوقت ضرورت برسات کے موسم میں سیلابی پانی کا رخ موڑ کر جب چاہے ہمیں سیلابوں میں ڈبو سکتا ہے۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر روکنے کیلیے دشمن ملک بھارت بنیاد پرست سیاسی جماعتوں کو فنڈنگ کررہا ہے۔ مستقبل میں اگر پاک بھارت جنگ ہوئی توآبی تنازعات کی وجہ سے ہوگی ۔

ہمارے ملک میں معاشی مساوات کے قیام کی ضرورت ہے۔ ٹیکس وصولی کو شفاف بنانا ہوگا۔ دولت کی منصفانہ تقسیم سے امیر اور غریب کے فرق کو مٹانا ہوگا۔معاشی طور پر خوشحال ہی آزاد خارجہ پالیسی اپنا کر بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقاربحال کرسکتا ہے۔

ہماری نوجوان نسل یہ جانتے ہوئے بھی کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے , یورپ جانے کیلیے بیقرار ہے۔ ہم نے اپنی افرادی قوت کو ملکی تعمیر وترقی کے لیے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی نہیں کی۔ ہم نے نوجوان نسل کیلیے تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیے۔

ایک طرف ڈنمارک , فرانس اور ہالینڈ جیسے ممالک میں آقائے دوجہاںﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرکے تو کبھی خواتین کے حجاب کو تضحیک کا نشانہ بنا کر ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا رہے ہیں مگر ہماری نوجوان نسل اسی یورپ جانے کیلیے جان کی بازی لگانے کیلیے تیار ہے۔اور امت مسلمہ بے پناہ وسائل کے باوجود گیرٹ ویلڈرز کی طرف سے ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں آقائے دوجہاں ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکوں کی نمائش رکوانے میں ناکام ہے۔ سفارتی محاذ پر امت مسلمہ کی یہ اجتماعی ناکامی لمحہِ فکریہ ہے۔ اب دیکھنا یہ کہ نئی آنے والی پاکستانی حکومت اس سے کیا سبق سیکھتی ہے۔

نوٹ:  روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

مزید : بلاگ