فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر499

Aug 19, 2018 | 14:51:PM

علی سفیان آفاقی

یہ وہ مسئلہ ہے جہاں سے ساحر شروع ہوتے ہیں ۔وہ ایسی سچویشن میں صفر ہو جاتے تھے۔قوت فیصلہ سے لیکر قوت اظہار تک وہ صرف اور صرف زیرو تھے۔رومانوی انداز میں )اگر کسی(لڑکی کو ساتھ لے جاتے تو ساتھ میں ان کے دوست بھی ہوتے تھے۔حمید اختر، فیض الحسن، احمد راہی اور اے حمید شاید میری اس بات کی تائید کریں کہ ساحر کو اپنے اور اپنی ’’نامزد‘‘کے بارے میں خود ساختہ کہانی )بنانے (کا فن خوب آتا تھا۔اسی لیے ایک مضمون ’’معاشقوں کا جادوگر ساحر لدھیانوی‘‘ان کے سب سے قریبی دوست کرشن چندر نے بمبئی کے ایک رسالے میں چھپوایا تھا۔اس کی فوٹو اسٹیٹ دوسری قسط میں آپ کو بھجواؤں گی۔)یہ سب کچھ معین نجمی کے علم میں ہے مگر ابھی وہ اٹھنے سے قاصر ہے۔جوں ہی چلنے پھرنے کے قابل ہوئے آپ کے پاس حاضر دفتر ہو جائیں گے۔وہ آپ کے بے حد مداح ہیں۔1979ء تک )ان کا(فلم لائن میں حزس قادری،تنویر کاظمی اور بشر نیاز وغیرہ سے کہانی کے سلسلے میں واسطہ رہا ہے۔خیال تھا کہ وہ ساحر کے پاس چلا جائے گا مگر اکلوتا ہونے کی وجہ سے میں آڑے آئی۔جب ساحر فوت ہوگئے تو وہ )معین نجمی(دل برداشتہ ہو کر لاہور چھوڑ کر گھر آگیا۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر498 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’امرتا پریتم اور دوسرے عشق جو ساحر کو واقعی نمٹانے پڑے اور بہت مرحلوں سے گزرنا پڑا۔اس میں ایشور کور )جن کے عشق میں ساحر کالج سے نکلے(اس کی تفصیل بھی موجود ہ پھر مسرور اور خدیجہ مستور کی والدہ اور سردار بیگم کے درمیان رشتے داری ہوتے ہو تے بچ گئی کہ جہیز کا مطالبہ 1948)ء میں(بہت زیادہ تھا۔

جب انہوں نے کہا کہ ہم جہیز دیں تو ’’بری ‘‘بھی برابر کی ہو گی تو رشتہ ختم ہو گیا۔

)یہ ایک انوکھا انکشاف ہے کہ ساحر لدھیانوی کی شادی ہاجرہ مسرور یا خدیجہ مستور سے ہوتے ہوتے رہ گئی تھی۔(

احمد ندیم قاسمی صاحب اس رشتے سے خوش نہ تھے۔وہ ان کے منہ بولے بھائی کی حیثیت سے ان کے مکان میں بھائی کی طرح رہتے تھے۔خالد احمد اور توصیف احمد چھوٹے تھے۔بہنوں کے تمام فیصلے ندیم صاحب ہی کے مشورے سے ہوتے تھے۔انہوں نے اس کے ’’کفارے‘‘کے طور پر پھر خدیجہ مستور کی شادی اپنے بھانجے ظہیر بابر جیسے خوبصورت آدمی سے کروائی اور ہاجرہ مسرور کی شادی احمد علی صاحب ایڈیٹر’’ڈان سے کروائی۔)نوٹ!اس وقت احمد علی خاں صاحب’’پاکستان ٹائمز لاہور‘‘سے وابستہ تھے(

’’یہ اور بات ہے کہ-54 1953ء میں ہاجرہ مسرور،ابراہیم جلیس اور حمید اختر ساحر کے کہنے پر بمبئی پہنچ گئے اور پروڈکشن میں مختلف عہدوں پر فائز کر دیے گئے۔تفصیل مضمون میں موجود ہے۔

)یہ خط ہمیں ابھی تک موصول نہیں ہوا۔(

’’یہ خط بہت لمبا ہوجائے گا ۔اگلی قسط میں تفصیل ا ور فوٹو اسٹیٹ لے کر نجمی جلد ہی آپ کے پاس حاضر ہوں گے۔تاخیر کیلئے معذرت۔اس ساری کہانی میں والد کا نام غلط چل رہاہے۔فضل محمد سیکھے وال ان کا نام ہے ۔سیکھے وال کے گاؤں کے مالک تھے اس لیے انہیں سیکھے والا کہا جاتا تھا۔فضل محمد ذیلدار جگراؤں میں تھے۔وہ حکیم فقیر محمد چشتی اور شفا الملک کے قریبی دوست اور میر ی بڑی بہن کے سسر تھے۔خوب تیز اور سمجھدار تھے۔

میرے والد نام کے جاگیر دار تھے۔جلد جال میں پھنس جاتے تھے۔ایک مولوی صاحب سے دوستی تھی۔وہ کہتے تھے فضل محمد بدمعاشی نہ کرنا۔شادی کرتے رہنا چھوڑتے رہنا)نوٹ،بڑے کام کے مولوی صاحب تھے(اس طرح )میرے والد نے(گیارہ شادیاں کیں جو ہمارے علم میں ہیں۔ان میں سے پانچ بیوگان اور اولادوں کوجائیدا د سے حصہ ملا۔ساحر کا حصہ مجھے ا ور میری بہن ہاجرہ میں برابر تقسیم ہوا۔ساحر کے دوست مرتضیٰ جج تھے۔یہ فیصلہ انہوں نے ساحر سے )خط کے ذریعے(کیا تھا۔)انہوں نے لکھا تھا(کہ میں نہیں آؤں گا۔)میرا حصہ( میری دونوں بہنوں کو دے دو۔باقی پھر۔دعا فرمائیں اﷲتعالیٰ میرے بیٹے کو شفا دے اور وہ چلنے پھرنے لگ جائے تو یہ برسوں کے جمع شدہ راز ا ور مضامین آپ کی خدمت میں بھیج دوں اور فخر سے کہہ سکوں کہ خدمت میں بھیج دوں اور فخر سے کہہ سکوں کہ 

سپردم بر تو مایہ خویش را

تب تک کیلئے اجازت۔آپ کی بہن سکینہ بیگم۔ہمشیرہ ساحر لدھیانوی۔

نوٹ۔اگر آپ ان باتوں کے علاوہ اپنی کتاب کی رعایت سے کوئی خصوصی سوالات چاہیں،ساحر کی زندگی کے مختصر معاشقوں کی تفصیلی داستان تو سوال بتادیں۔میں معلومات لکھ بھیجوں گی۔ساحر میرا بھائی تھا اور ہم بہنوں کی آئیڈیل شخصیت بھی۔‘‘

اس خط کا ہم نے ترنت جواب ارسال کر دیا تھا اور حسب فرمائش سوالات کی ایک طویل فہرست بھی لکھ دی تھی تا کہ ساحر لدھیانوی کے بارے میں وہ معلومات جو صرف ان کی بہن ہی جانتی ہیں،ادبی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو جائیں۔اس خط میں بھی محترمہ سکینہ بی بی نے کچھ نئے انکشافات اور دلچسپ معلومات فراہم کی ہیں۔ساحر لدھیانوی کی شرمیلی طبیعت کی انہوں نے تصدیق کی ہے مگریہ بھی بتایا ہے کہ وہ بے حد زود حس اور زود رنج تھے۔مزاج کے خلاف کو ئی بات سن کر ناراض ہوجاتے تھے اور ملنا جلنا ترک کر دیا کرتے تھے۔ساحر کی نزاکت طبع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ساحر لدھیانوی کے رشتے کیلئے خدیجہ مستور یا ہاجرہ مسرور سے بات چل رہی تھی مگر یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔رشتے آسمانوں میں بنتے ہیں۔ارد گر د نظر ڈالیں تو اس کہاوت کی حرف بحرف تصدیق ہو جاتی ہے۔اب ہمیں سکینہ بی بی کے تفصیلی خط اور ساحر کے بارے میں کرشن چندر کے تحریر کردہ مضمون کی فوٹو اسٹیٹ کا انتظار ہے۔ہم ان کے صاحب زادے معین نجمی کی صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔دیکھیے۔اب پردہ غیب سے کیا ظہو ر میں آتا ہے۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر500 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں