A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 18

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 18

Aug 19, 2018 | 14:55:PM

اے حمید

میں نے صبح و شام روکاش کے قتل کے منصوبے پر غور کرنا شروع کردیا۔ اس دوران میری روکاش سے کوئی ملاقات نہ ہوئی۔ میں شاہی محل میں نہیں جاتا تھا اور وہ مقدس بعل کے مندر میں داخل نہیں ہوسکتی تھی لیکن میرا مخبر شاہی محل کی ایک ایک پل کی خبر لا کر مجھے دے رہا تھا۔ ایک روز اس نے مجھے یہ روح فرسا خبر سنائی کہ رقاصہ روکاش نے شاہی محل کے ایک حبشی کی طرف متوجہ ہو گئی ہے ۔۔۔ اور وہ راتوں کو چھپ چھپ کر ملتے ہیں۔ میرے دل پر ایک اور گھاؤ لگا۔ نازک اندام ، سر مگیں آنکھوں اور گلاب ایسے رخساروں والی رقاصہ روکاش کی محبت جو کبھی میرے دل میں نرم سوز شمع بن کرجگمگایا کرتی تھی اب ایک شعلہ بن کر بھڑک اٹھی تھی اور ہوس رقابت اور حسد کی یہ آگ ہر شے کو خس و خاشاک کی طرح جلا کر راکھ کرنا چاہتی تھی۔ میں نے قتل کا ایک منصوبہ دل میں طے کر لیا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 17پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قتل کی اس خونی سازش کا سوائے میرے اور کسی کو علم نہیں تھا۔ میں نے اس سازش پر عمل شروع کیا ہی تھا کہ ایک بھیانک حادثہ گذر گیا۔ ایک رات رقاصہ روکاش اپنے حبشی محبوب کے ساتھ محل سے فرار ہوگئی مگر ایک رات پھر پکڑلی گئی۔ بادشاہ کے حکم سے حبشی غلام کا سر قلم کر دیا گیا۔ بادشاہ نے اس واقعے کو راز میں رکھنا چاہا۔ کیونکہ وہ ایک بار پھر رقاصہ روکاش کو موت کے منہ میں جانے سے بچانا چاہتا تھا مگر میں نے اس واقعے کو اپنے مخبروں کے ذریعے شہر میں عام کردیا۔ رعایا میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ لوگ پہلے ہی دیوتاؤں کی توہین کے الزام میں ملوث ہونے والی رقاصہ کی جان بخشی اور شاہی محل میں اس کی موجودگی پر کبیدہ خاطر تھے۔ اب انہوں نے رقاصہ کا شہر کے چوک میں سر قلم کرنے کا مطالعہ کردیا۔ مندر کے کاہن اور پجاری بھی عوام کے ساتھ تھے۔ بادشاہ کو وہ بے حد عزیز تھی لہٰذا وہ اسے قتل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر مذہبی پیشواؤں اور عوام کے سامنے اسے بھی جھکنا پڑ گیا۔ اس نے ایک بار پھر مجھے تخلیہ خاص میں بلایا اور مجھے رازداری میں لیتے ہوئے اس دبی ہوئی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ رقاصہ روکاش کو مذہبی پیشواؤں اور عوام کے مطالبے کے مطابق موت کے حوالے نہیں کرنا چاہتا بلکہ درون پردہ اسے صحراؤں میں کسی خفیہ مقام پر پہنچا دینا چاہتا ہے۔

میرے سینے میں روکاش سے اپنی محبت کا انتقام لینے کی آگ دو چند ہو چکی تھی۔ میں نے دیوتاؤں اور مذہبی قوانین کے حوالے سے بادشاہ کو صاف صاف کہہ دیا کہ اگر اس نے روکاش کو عوام کے حوالے نہ کیا تو رعایا اس کے خلاف بغاوت کر دے گی اور ہڑپہ کے حکمران کو حملے کی دعوت دے دے گی۔ بادشاہ خاموش ہوگیا۔ وہ گہری سوچ میں تھا۔

اس نے رقاصہ روکاش کاسر شہر کے سب سے بڑے چوک میں قلم کرنے کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ اب میری نفسیات نے ایک عجیب رنگ میں پہلو بدلا۔جب تک میں نے خود اپنے ہاتھ سے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا میرے دل کو اپنے اس فیصلے پر پھرپور سکون تھا لیکن جوں ہی میں نے تصور کی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ہزاروں تماشائیوں کے سامنے شاہی جلاد رقاصہ روکاش کا سر قلم کر رہا ہے تو میرے دل و دماغ میں روکاش سے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوگیا۔ جانے کیوں مجھے یہ گوارہ نہیں تھا کہ کوئی دوسرا روکاش کو قتل کرے لیکن میں اس قتل کر رکوا بھی نہیں سکتا تھا اور خود بھی اسے قتل نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ رقاصہ روکاش کو پابہ زنجیر کر کے پھانسی گھر میں ڈال دیا گیا تھا اور اس پر کڑا پہرہ لگا تھا۔ آخر بادشاہ کو اپنی سلطنت عزیز تھی اور وہ رقاصہ روکاش کو ہاتھ سے گنوا کر اپنی سلطنت اور شاہی محل سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا تھا۔ میں ایک عجیب کرب ناک ذہنی کش مکش میں مبتلا ہوگیا۔ جوں جوں روکاش کے قتل کا دن قریب آرہا تھا میرے دل میں رقاصہ روکاش کو حاصل کرنے کا خیال شدت اختیار کر رہا تھا۔ مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ اگر میں روکاش سے محروم ہوگیا تو یہ محرومی کا احساس ایک جلتا ہوا انگارہ بن کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے میرے دل میں اتر جائے گا اور میں ساری زندگی جو خدا جانے کتنے ہزار سال لکھی ہے تڑپتا اور پچھتاتا رہوں گا۔ میرے ذہن پر طاری موہنجودڑو کے کاہن اعظم کا قابوس سرکنے لگا اور میری اصلی شخصیت سامنے آنا شروع ہوگئی۔ روکاش کا محبت نے ہر قسم کے جذبہ رقابت و حسد کی پس پشت ڈال کر مجھے ایک بار پھر اپنی جنون خیز گرفت میں جکڑ لیا اورمیں ننگ و ناموس اور خرقہ سالوں کی پروا کئے بغیر اپنی محبوبہ روکاش کوموت کے منہ سے نکال کر اپنے ساتھ بھگا لے جانے کا فیصلہ کرلیا۔

جس دن میں نے یہ ستم ایجاد اور بلا تاخیر فیصلہ کیا اسی رات کے پر اسرار اندھیروں میں میں نے الکندہ سے ملاقات کی۔ میں جانتا تھا کہ میرے اس فرار کے منصوبے کو کامیاب بنانے میں الکندہ ہی میری مدد کر سکتی ہے۔ جب میں نے اسے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا تو ایک بار تو اس کا بھی رنگ اڑگیا۔ اسے ہر گز ہر گز یہ توقع نہیں تھی کہ عظیم مندر کا کاہن اعظم ایک مرتد اور شاہی اسیرر رقاصہ کی خاطری دیوی دیوتاؤں کی منشا کے خلاف اتنا بڑا قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ وہ میرے مقدس حجلہ خصوصی میں میرے سامنے چوکی پر بیٹھی مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے تک رہی تھی۔ میں اپنی مسند سے اٹھ کر بے چینی سے ٹہلنے لگا۔ میں نے صرف اس کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’ الکندہ! محبت کا جذبہ دیوی دیوتاؤں کی عظمتوں سے بھی بلند ہوتا ہے۔ کل تک میں تمہارا راز دار تھا۔ آج میں نے تمہارے آگے دل کی کتاب کھول دی ہے۔ میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوگیا ہوں شاید اس لئے کہ میں کاہن اعظم ہوتے ہوئے بھی ایک انسان ہوں۔ اب تم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ جس طرح تم نے ایک بار روکاش کو موگاش کے ساتھ فرار ہونے میں مدد دی تھی اسی طرح میری بھی مدد کرو۔ کیا تم تیار ہو؟‘‘

الکندہ کی حیرت فرو ہوچکی تھی اور اس میں اندر کی خطر پسند اور مہم جو عورت بیدار ہو گئی تھی۔ اس نے تین بار میرے آگے تعظیم کی اور بولی۔

’’ دیوتاؤں کے جاہ و چشم کے وارث کاہن اعظم اس وقت میری عزیز ترین سہیلی روکاش کو تمہاری محبت کی ضرورت ہے۔ میں تم دونوں کے لئے دیوتا بعل کی دہکتی آگ میں بھی کودنے کو تیار ہوں۔ مجھے بتاؤ کہ میں کس طرح تمہارے لئے مدد گار ثابت ہوسکتی ہوں۔‘‘

میں بڑا خوش ہوا۔ میں نے الکندہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں لے کر شفقت آمیز لہجے میں کہا۔‘‘

’’ سنو! میں کسی بہانے ایک شاہی فرمان کے تحت رقاصہ روکاش کو اپنے مندر میں ایک رات کے لئے بلوا رہا ہوں۔ اس رات میں تمہیں موقع دوں گا کہ تم اسے اپنے ساتھ لے کر مندر کے خفیہ راستے سے باہر نکل جاؤ۔ شہر کی فصیل کے باہر دو تازہ دم گھوڑے تمہارے منتظر ہوں گے۔ تم روکاش کو لے کر یہاں سے سو کوس دور صحرا کے وسط میں منوچہر جھیل کے جنگل میں جا کر چھپ جاؤ اور جب تک میں نہ آؤں اسی جگہ چھپی رہو۔‘‘

الکندہ کہنے لگی، ’’ لیکن اے کاہن اعظم ! مندر کے جس خفیہ راستے سے میں ایک بار روکاش اور اس کے محبوب کو نکال کر لے گئی تھی۔ اسے بادشاہ کے حکم سے پتھروں کی دیوار سے بند کروا دیا گیا ہے۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’ اس مندر سے باہر نکلنے کا ایک دوسرا خفیہ راستہ بھی ہے جس کا صرف اور میرے نائب کاہن اعظم کو علم ہے۔ تم روکاش کو لے کر اس خفیہ راستے سے باہر نکلوگی۔‘‘

الکندہ نے پوچھا۔ ’’ کیا روکاش کو اس فرار کے منصوبے کا علم ہے ؟‘‘

’’ نہیں ابھی نہیں ۔ ‘‘ میں نے کہا ، ’’ مگر جب میں اس رات روکاش کو تمہارے پاس روانہ کروں گا تو تم اسے سب کچھ بتا دو گی۔ یاد رکھنا، منوچہر جھیل کے آس پاس جو جنگل ہیں ہواں اینٹیں پکانے کے کچھ پرانے اور بے آباد بھٹے ہیں۔ تم ان میں سے کسی ایک بھٹے میں روکاش کر لے کر چھپو گی۔ میں موقع ملتے ہی یہاں سے فرار ہو کر تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔‘‘

الکندہ نے سوال کیا کہ میں روکاش کو مندر کس بہانے بلواؤں گا؟‘‘

میں نے اسے بتایا کہ اسے خود بخود معلوم ہوجائے گا۔ ایک دن چھوڑ کر جب اوہنی دیوی کا مقدس دن طلوع ہوا تو میں مندر سے نکل کر صندل کے تخت پر بیٹھ کر غلاموں کے کاندھوں پر سوار شاہی محل کی طرف چل پڑا۔ پجاری گھوڑوں پر سوار میرے جلو میں تھے اور غلام سفید مورچھل اٹھائے مجھے ہوا دے رہے تھے۔ آگے آگے دیوداسیاں اشلوک پڑھتیں اور صندل و زعفران چھڑکتی جا رہی تھیں۔ بادشاہ کو پہلے سے اطلاع دی جا چکی تھی کہ میں رسمی طور پر اس سے ملاقات کرنے آرہا ہوں۔ جب میں اس جاہ و جلال کے ساتھ محل کے شاہی احاطے میں داخل ہوا تو بادشاہ سومر خود میرا خیر مقدم کرنے سونے چاندی کے مرصع دروازے پر آگیا۔ مجھے سرکاری عزت و تکریم کے ساتھ مہمان خانے کے ہاتھی دانت کے بنے ہوئے تخت پر بٹھایا گیا جس کے اوپر جواہرات کی لڑیوں سے مزین چاندی کا چھتر تھا۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 19 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں