عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر50

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر50
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر50

  

’’اور خان‘‘ نے اپنی حکومت کے پہلے ہی سال 726ہجری بمطابق 1326عیسوی میں ’’نائیکو میڈیا ‘‘ پر قبضہ کرلیا۔’’بروصہ اس کا دارالسلطنت تھا ۔ ’’قسطنطین‘‘ کے ایشیائی مقبوضات میں اب صرف ایک ہی بڑا شہر ’’نائیسیا‘‘ رہ گیا تھا ۔ جو اپنی عظمت اور اہمیت کے اعتبار سے قسطنطنیہ کے بعد دوسرے درجے پر تھا ۔ شہنشاہِ قسطنطنیہ یعنی قسطنطین نے اس شہر کو بچانے کی بے حد کوشش کی ۔ ’’اورخان‘‘ نے اس کا سخت محاصرہ کیا۔ اور 730ہجری ،1330عیسوی میں اسے فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کرلیا۔ اس شہر کے لوگ بھی بکثرت اسلام میں داخل ہوئے۔ اسی دوران 1333عیسوی میں ایک باغی ترک امیر کے شہر ’’قراسی‘‘ پر بھی ’’اورخان‘‘ کو قبضہ کرنا پڑا۔ کچھ ہی عرصہ میں اورخان کی سلطنت ’’انا طولیا‘‘ کی شمال مغربی سرحدات تک پھیل گئی۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر49پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اورخان نے اپنی توجہ زیادہ تر فتوحات کی بجائے سلطنت کے انتظام و انصرام اور عوام کی فلاح و بہبود پر رکھی ۔ وہ آئین و ضوابط کے مطابق پوری سلطنت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنا چاہتا تھا ۔ 1336عیسوی کے بعد اور خان نے بیس سال تک کوئی جنگ نہ کی۔ بلکہ اپنی عوام کی تربیت کرتارہا۔ سلطنت کے اندرونی انتظامات سے فارغ ہوکر وہ یورپ کی جانب متوجہ ہوا۔ اس کی زندگی کے آخری چند سال شہنشاہِ قسطنطنیہ کے یورپین علاقوں میں قدم جمانے کی کوشش میں صرف ہوئے۔قسطنطین کی سلطنت جو کبھی دریائے ڈینوب اور ایشیا میں اناطولیا اور شام تک پھیلی ہوئی تھی۔ اب صرف ’’تھریس‘‘ ، ’’مقدونیا‘‘ کے ایک جزو ’’سالونیکا‘‘ اور یونان میں ’’موریا‘‘ کے ایک بڑے حصے تک محدود تھی۔ایشیائی مقبوضات تقریباًعثمانیوں کے قبضے میں جاچکے تھے۔ اس زمانہ میں قسطنطنیہ کے تخت کا جھگڑا اٹھ کھڑا ہوا۔ اور خان نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ اور ایک فریق کنٹا کوزین کی مدد کے لیے چھ ہزار سپاہی بھیج دیے........اسی طرح اور خان نے ایک مرتبہ کنٹاکوزین‘‘ اور دوسرے فریق ’’جان پلیو لوگس‘‘ یعنی دونوں کی درخواست پر شاہ سربیا کے خلاف بھی فوج بھیجی۔ سربیا کا یہ بادشاہ ’’اسٹیفن ڈوشن‘‘ ، سالونیکا‘‘ پر حملہ کرچکا تھا .......کچھ عرصہ بعد قسطنطنیہ کے تخت کا جھگڑا پھر اٹھا تو اورخان نے اپنے بیٹے ’’سلیمان پاشا ‘‘ کی قیادت میں بیس ہزار سپاہی کنٹا کوزین کی مدد کے لیے بھیجے۔ جان پلیو لوگس کو شکست ہوئی۔ اور کنٹا کوزین نے تخت سنبھال لیا۔ اور خان کو حسبِ معاہدہ قلعہ’’ زینپ‘‘ دے دیا گیا ۔ جس میں سلیمان پاشا نے عثمانی دستے متعین کردیے۔ اتفاق سے چند ہی دن بعد تھریس میں زلزلہ آیا۔ جس سے بہت سے شہروں کی فصلیں کر گئیں۔ انہیں میں ’’گیلی پولی‘‘ بھی تھا ۔ جو درِ دانیال کے مغربی ساحل پر سب سے اہم قلعہ تھا ۔ سلیمان پاشا ’’زینپ‘‘ میں تھوڑے ہی فاصلے پر موجود تھا ۔ اس نے زلزلے کو تائید غیبی سمجھا اور آگے بڑھ کر گیلی پولی پر قبضہ کرلیا۔ گیلی پولی کی فتح سے ترکوں کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوا۔755ہجری، 1354عیسوی میں انہوں نے پہلی بار فاتح کی حیثیت سے یورپ میں قدم رکھا۔ اور مسیحی یورپ میں ایک عظیم الشان اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ جو دوصدیوں کے اندر گیلی پولی سے ’’ویانا‘‘ کی دیواروں تک پھیل گئی۔قرونِ اولیٰ کے مجاہدوں نے مغربی یورپ سسلی ، روما اور سپین تک اسلام کی آواز پہنچائی تھی۔ترک مجاہدوں نے مشرقی یورپ کو بھی اسلامی دعوت سے بہرہ اندوز کردیا۔

اورخان کا بیٹا ’’سلیمان پاشا‘‘1358عیسوی میں شکار کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گر کر ہلاک ہوا۔یہ شہزادہ فنِ سپہ گری و سپہ سالاری میں ممتا ز اور خاندانِ عثمانی کے اعلیٰ اوصاف کا مالک تھا۔ اور خان بیٹے کی وفات سے بے حد غمگین ہوا اور دوسرے ہی سال اس کا بھی انتقال ہوگیا۔وہ بہت نیک اور درویش صفت بادشاہ تھا ۔ غریبوں میں روٹی اور شوربا اپنے ہاتھ سے تقسیم کیا کرتا۔ بڑے بڑے مشہور علماء اور مشائخ جن میں ’’ملا داؤدقیصری‘‘ اور ’’تاج الدین‘‘ شامل ہیں۔ اس کی صحبت میں رہا کرتے۔

اورخان کی وفات پر اس کا چھوٹا لڑکا ’’مراد خان اول ‘‘ چالیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ عنانِ حکومت کو ہاتھ میں لیتے ہی مراد خان نے یورپ کی طرف بڑھنے کا قصد کیا۔لیکن ’’امیر کرمانیا‘‘ نے قدیم عداوت کی بناء پر ایشیائے کوچک میں بغاوت کردی۔ اس نے فوراً موقع پر پہنچ کر بغاوت کا استحصال کیا۔یہاں سے فارغ ہوکر وہ یورپ کی طرف پلٹا اور 1360عیسوی میں درِدانیال کو عبور کرکے فتوحات کا وہ حیرت انگیز سلسلہ شروع کیا ۔ جو 1389عیسوی میں صرف اس کی شہادت پر ’’جنگِ کسودہ‘‘ میں ختم ہوا۔

1363عیسوی میں مرادخان اول نے درِ دانیال کو عبور کرکے ایک زبردست فوج کے ساتھ تھریس میں قدم رکھا۔ اور سب سے پہلے ’’قلعہ شورلو‘‘ پر قبضہ کیا۔ جو قسطنطنیہ سے صرف پانچ میل کے فاصلے پر تھا ۔ اس کے بعد دوسرا قلعہ ’’کرک کلیسے‘‘ فتح ہوا۔ اسی سال ’’بابا‘‘ کے مقام پر بازنطینیوں کے ساتھ مراد کو ایک بڑی جنگ لڑنی پڑی۔ جس میں مراد نے انہیں بری طرح شکست دی۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ’’ایڈریا نوپل‘‘ یعنی ’’ادرنہ‘‘ نے فوراً ہتھیار ڈال دیے۔ اور اس طرح تمام ’’تھریس ‘‘ مراد کے قبضے میں آگیا ۔ اس کے بعد عثمانی جنرل ’’لالہ شاہین‘‘ نے ’’بلغاریہ‘‘ میں داخل ہوکر ’’فلپوپولس‘‘ پر قبضہ کرلیا۔ جو کوہِ بلقان کے جنوب میں سلطنتِ بازنطینی کا مقبوضہ تھا۔ چنانچہ قسطنطین کو مراد سے صلح کرنی پڑی۔ یورپ میں مراد کا مقابلہ اس وقت تک صرف بازنطینیوں سے تھا ۔ اور دوسری مسیحی حکومتوں نے ترکوں کی مدافعت میں سلطنتِ بازنطینی کوکوئی مدد نہیں دی تھی۔ لیکن 1363عیسوی میں ’’پوپ اربن پنجم‘‘ہنگری ، سربیا، بوسنیااور ولاچیہ کے فرمانرواؤں کو آمادہ کیا کہ ترکوں کے بڑھتے ہوئے قدم روکنے کے لیے اپنی فوجیں روانہ کریں۔ چنانچہ اتحادیوں نے بیس ہزار فوج ’’تھریس ‘‘ روانہ کی۔ لیکن ’’جنرل لالہ شاہین‘‘ نے انہیں شکست دی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوہ بلقان بھی سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کرلیا گیا ۔ اسی جنگ کے بعد ’’ڈیموٹیکا‘‘ کو جو ’’تھریس‘‘ میں واقعہ تھا ۔ مراد نے اپنا پایہء تخت بنالیا۔ اور پھر تین سال کے بعد ’’ادرنہ‘‘ کو دارالسلطنت قرار دیا۔ جنگِ مارٹیزا‘‘ کے بعد شہنشاہ سلطان کا باجگذار بن گیا ۔ لیکن شہنشاہ قسطنطنیہ کو یہ توہین گوارا نہ ہوئی ۔ چنانچہ اس نے 1369عیسوی میں ’’روما‘‘ کا سفر کیا۔ اور پاپائے روم سے سلطان کے خلاف مدد کی درخواست کی۔ ان دونوں ’’رومن‘‘ کا اور یونانی کلیسا‘‘ جو شہنشاہ کا مذہب تھا، کے مابین دشمنی کی حد تک اختلاف تھے۔ شہنشاہ نے ذلت گوارا کی۔ لیکن پھر بھی کلیسا ئے رومہ کی برتری تسلیم کی۔ لیکن پھر بھی اسے اپنے مقصد میں ناکامی ہوئی۔ اور پھر جب واپسی پر وہ ’’وینس ‘‘ سے گزر رہا تھا تو اپنے بعض قرض خواہوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا ۔ ادھر ’’قسطنطنیہ‘‘ میں اس کا لڑکا ’’ایڈرونکس‘‘شہنشاہ بن بیٹھا۔

مرادخان اول اپنے اصولوں میں بے حد سخت تھا ۔ اس کا سب سے چھوٹا لڑکا شہزادہ ’’صادوجی‘‘ ایک مرتبہ عیسائیوں کے ساتھ مل گیا ۔ اور جب مراد نے اسے گرفتار کیا تو اپنے بیٹے کی آنکھوں میں گرم سیسہ ڈال کر اسے اندھا کردیا۔اور پھر اسے قتل کردیا۔ 1371عیسوی میں سلطان مرادخان اول کے سپہ سالار ’’لالہ شاہین‘‘ نے ’’صوفیاء‘‘ کے قریب ’’سماکوف‘‘ کے میدان میں بلغاری اور سربیائی افواج کا مقابلہ کیا۔ اور ان کو سخت شکست دی۔ اس جنگ کے بعد کوہِ بلقان تک بلغاریہ کا سارا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل کرلیا گیا۔دوسرے سال ’’لالہ شاہین‘‘ اور عثمانی فوج کے ایک اور جنرل ’’افرینوس‘‘ نے ’’مقدونیا‘‘ پر حملہ کیا ۔ جو ’’سربیا‘‘ کا ایک صوبہ تھا ۔ وہاں سے ’’کوالا ڈروما‘‘ اور ’’سریز‘‘ کے شہروں کو فتح کرتے ہوئے یہ فوج ’’دریائے دردار‘‘ کو عبور کرگئی۔ مراد نے سربیا، البانیہ اور بوسنیاکو اسی موقع پر اپنی سلطنت کا باجگذار بنالیا۔ بلغاریہ کے ’’بادشاہ سلیمان ‘‘ نے اپنی لڑکی حرم سلطانی میں پیش کرکے جان بچائی۔ پھر یکے بعد دیگرے’’ مونا ستر‘‘ اور ’’صوفیہ‘‘ بھی فتح ہوگئے۔ مراد اول نے توصیحِ سلطنت کے سلسلے میں بہت تیزی دکھائی۔

1376عیسوی میں مراد نے اپنے شہزادے ’’بایزیدیلدرم‘‘ کانکاح’’امیر کرمانیا‘‘کی بیٹی سے کردیا۔’’کرمانیا‘‘ اور آلِ عثمان کی آویزش ابتداء سے چلی آتی تھی۔اسے دور کرنے کے لیے مراد نے اپنی لڑکی ’’نفیسہ‘‘ کا نکاح امیر کرمانیا سے کر دیا ۔ تقریباً دس سال تک یہ صلح رہی ۔ لیکن پھر 1377میں دونوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں ’’امیر کرمانیا‘‘نے شکست کھائی اور شہزادہ ’’بایزید‘‘ کو ’’یلدرم‘‘ کا خطاب ملا۔(جاری ہے)

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر51 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح