جنات کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں ؟ آپ جتنا بھی جانتے ہوں مگر یہ باتیں جان کر ایک بار تو آپ کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے کیونکہ ....

جنات کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں ؟ آپ جتنا بھی جانتے ہوں مگر یہ باتیں جان کر ...
جنات کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں ؟ آپ جتنا بھی جانتے ہوں مگر یہ باتیں جان کر ایک بار تو آپ کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں گے کیونکہ ....

  

مفتی شبیر احمد قادری

اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا انسانوں کی طرح جنات کی بھی زندگی اور موت ہے؟ کیا ان پر بھی شرعی احکام اسی طرح نافذ ہوتے ہیں؟ اس بارے میں عرض کردوں کہ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان ہے کہ جنّ اور انسان اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ”اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں“

جب جنوں کے لئے عبادت کا حکم ہے تو ان کو بھی طور طریقے سیکھائے گئے ہونگے کیونکہ وہ ایک الگ مخلوق ہیں۔ قرآن مجید میں ایک پوری سورہ الجن کے نام سے ہے۔ چند آیات درج ذیل ہیں”آپ فرما دیں میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے (میری تلاوت کو) غور سے سنا، تو (جا کر اپنی قوم سے) کہنے لگے: بے شک ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔ جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے، سو ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اپنے رب کے ساتھ کسی کو ہر گز شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“

قرآن میں جنوں کو مرنے کے بعد اٹھانے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، جس سے ان کی بھی موت وحیات کا ثبوت ملتا ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے”اور (اے گروہِ جنات!) وہ انسان بھی ایسا ہی گمان کرنے لگے جیسا گمان تم نے کیا کہ اللہ (مرنے کے بعد) ہرگز کسی کو نہیں اٹھائے گا“

جنوں میں بھی مسلم وغیر مسلم پائے جاتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے”اور یہ کہ ہم میں سے کچھ نیک لوگ ہیں اور ہم (ہی) میں سے کچھ اس کے سوا (برے) بھی ہیں، ہم مختلف طریقوں پر (چل رہے) تھے“دوسری آیت میں مزید فرمایا”اور یہ کہ ہم میں سے (بعض) فرماں بردار بھی ہیں اور ہم میں سے (بعض) ظالم بھی ہیں، پھر جو کوئی فرماں بردار ہوگیا تو ایسے ہی لوگوں نے بھلائی طلب کی۔ اور جو ظالم ہیں تو وہ دوزخ کا ایندھن ہوں گے“ اللہ فرماتا ہے ”اور بے شک ہم نے جہنم کے لیے جنوں اور انسانوں میں سے بہت سے (افراد) کو پیدا فرمایا وہ دل (ودماغ) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سمجھ نہیں سکتے اور وہ آنکھیں رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) دیکھ نہیں سکتے اور وہ کان (بھی) رکھتے ہیں (مگر) وہ ان سے (حق کو) سن نہیں سکتے، وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ (ان سے بھی) زیادہ گمراہ، وہی لوگ ہی غافل ہیں“لہٰذا جنات کی انسانوں کی طرح موت وحیات ہے اور ان پر شرعی احکام بھی لاگو ہوتے ہیں ۔وہ اگر انسانوں کو تنگ کریں گے تو اسکی سزا وہ بھی دنیا اور قیامت کے روز پائیں گے ۔

مزید : مافوق الفطرت