کامیابی کا یہ ڈھول کتناعرصہ پیٹا جاسکتا ہے؟

کامیابی کا یہ ڈھول کتناعرصہ پیٹا جاسکتا ہے؟

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق پرامن طریقے سے حل ہوگا۔ کشمیر بین الاقوامی امن اور سیکیورٹی کا مسئلہ ہے، جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965ء کے بعد پہلی مرتبہ زیر بحث آیا ہے، اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کی آفیشل ویب سائٹ پر بیان جاری کر دیا گیا ہے جس میں سیکرٹری جنرل کے بیان کا حوالہ بھی ہے۔ اپنے اس بیان میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور پاکستان اور بھارت دونوں سے کہا تھا کہ وہ تحمل و برداشت کا رویہ اختیار کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن کی وجہ سے کشیدہ صورت حال پہلے سے زیادہ خراب ہو جائے۔

90منٹ کے اجلاس کے بعد پاکستان اسے اپنی کامیابی قرار دینے میں حق بجانب ہے کہ پچاس سال بعد ہونے والے اجلاس میں جموں و کشمیر کا معاملہ زیر بحث آیا اور اسے متنازع مسئلہ بھی تسلیم کیا گیا، تاہم یہ بات اپنی جگہ ہے کہ شرکائے اجلاس نے اس سلسلے میں کسی نئی قرارداد کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جو بھارت کو پابند کرتی کہ اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے جو اقدام کیا ہے اسے کیسے بے اثر بنایا جاسکتا ہے اور کشمیر کے اندر دوہفتوں سے جو کرفیو نافذ ہے اور جس کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن ہو کر رہ گئی ہیں، کرفیو کے خاتمے کا معاملہ بھارت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے اور اگر کرفیو کی پابندیوں سے جھنجھلائے ہوئے کشمیری تنگ آکر اور اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر اس کی خلاف ورزی شروع کردیتے ہیں جیسا کہ وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنے نوجوانوں کے جنازے اٹھاتے رہے ہیں، اب بھی اگر اپنی ان آزمائی ہوئی راہوں پر چل نکلتے ہیں تو تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، کیا اجلاس کے کسی شریک نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ کشمیر کا آتش فشاں پھٹ پڑا تو کیا ہوگا؟ بظاہر لگتا ہے کہ ایسا نہیں ہوا، ورنہ کوئی نہ کوئی پیش بندی تو ضرور کی جاتی اور بھارت کو حالات کی بہتری کا اور کچھ نہیں تو مشورہ ہی دیا جاتا، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اجلاس کے مجرد انعقاد پر خوشی کے شادیانے تو بجائے جارہے ہیں، اور نہ جانے کب تک بجائے جاتے رہیں، اسے غیر معمولی کامیابی بھی قراردیا جا رہا ہے۔ جنگ کی صورت میں آخری سانس تک لڑنے کے عہد و پیمان بھی ہو رہے ہیں لیکن یہ کوئی نہیں بتا رہا کہ کشمیریوں کی زندگیوں میں سکھ کا کوئی مختصر سا لمحہ لانے کے لئے سلامتی کونسل سمیت کس نے کیا اقدام کیا ہے؟

سلامتی کونسل کی بعض قراردادیں تو ایسی ہوتی ہیں جن پر فوری عمل ہو جاتا ہے ادھر قرارداد پاس ہوتی ہے اور ادھر اس پر عمل درآمد کرانے والے متحرک ہو جاتے ہیں۔ مثال پیش کی جائے تو کویت سے عراقی قبضہ خالی کرانے کی قرارداد کا ذکر کیا جاسکتا ہے، قرارداد کا منظور ہونا تھا کہ امریکہ نے عراقی فوج کویت سے نکالنے کے لئے ہر طرح کی فوجی قوت کا استعمال شروع کردیا اور جب تک آخری سپاہی کویت سے نکل نہیں گیا یا اس کے ریگزار میں دفن نہیں ہوگیا، اس کی کارروائیاں جاری رہیں، لیکن ایک قسم کی دوسری قراردادیں وہ ہیں جو منظور ہوتی ہیں تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، اسرائیل کے خلاف ایسی قراردادیں منظور ہوتی رہتی ہیں، 70سال پرانی باتوں کو نہیں دھراتے، فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں تو اب تک بسائی جارہی ہیں سلامتی کونسل نے کئی بار ان پر قراردادیں منظور کی ہیں لیکن اسرائیل نے ان قراردادوں کی پروا کئے بغیر یہودی بستیاں بسانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب امریکہ نے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو سلامی کونسل کے 14ارکان اس کے خلاف تھے امریکہ نے قرارداد ویٹو کردی تو پھرعالمی برادری کے پاس اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہ اس معاملے کو جنرل اسمبلی میں لے کر جاتی۔ چنانچہ جب یہ معاملہ جنرل اسمبلی میں گیا تو گنتی کے چند ممالک امریکہ کے ساتھ تھے اور باقی ساری دنیا اس کے خلاف تھی، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کو سیخ پا ہوکر کہنا پڑا کہ دنیا ہم سے امداد بھی لیتی ہے اور ہمارے خلاف قراردادیں بھی منظور کرتی ہے، جنرل اسمبلی کی قرارداد کے باوجودہ امریکہ نے اپنے پروگرام کے تحت امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرلیا اور دنیا اس کا اور اسرائیل کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔

جہاں تک کشمیر کا معاملہ ہے یہ ایشو خود 48ء میں کشمیر کی جنگ کے موقع پر بھارت سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا اور وہاں اس نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے گا، نہرو نے لیاقت علی خان کے نام خط میں تسلیم بھی کیا اور وعدے کا اعادہ بھی کیا، لیکن پھر وہ اپنے ہی وعدے سے مکر گیا اور آج تک یہ وعدہ ایفا نہیں ہوا، اب بھارت کی مودی حکومت نے ایک اور ایسا اقدام کیا ہے جو خود بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی آئین کے تحت کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کی منظوری ریاستی اسمبلی سے لینا ضروری ہے لیکن اس نے ایسے وقت میں کشمیر کی یہ خصوصی حیثیت ختم کردی ہے جب کشمیر میں نہ کوئی حکومت ہے اور نہ ہی اسمبلی، ریاست کا انتظام مرکز کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور آئندہ سے ریاست کو براہ راست مرکز کے تحت ہی دے دیا گیا ہے۔ بھارت کے اس تازہ اقدام کے خلاف سلامتی کونسل کا جو اجلاس ہوا ہے اس میں کشمیر کو متنازع علاقہ تو تسلیم کیا گیا ہے جوپہلے ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع ہے لیکن بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت جس طرح ختم کی ہے اور جس کا مقصد ریاست میں کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے، اس کے خلاف تو اجلاس میں نہ کوئی قرارداد لائی گئی اور نہ ہی بھارت سے کہا گیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی زندگیوں سے کھیلنا بند کرے۔ ایسے میں محض اجلاس کے انعقاد پر لامحدود عرصے تک کامیابی کا ڈھول بجاتے رہنے سے کیا حاصل ہوگا۔ قوم کو یہ بتانے کی بھی ضرورت ہے کہ اگلے مرحلے میں اس سلسلے میں کیا اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں کیا محض سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک بنا کر کسی چھوٹے موٹے افسر کو اس پر بٹھا دینے سے مطلوبہ مقاصد حاصل ہوپائیں گے؟

اقوام متحدہ نے 70سال سے بھی زیادہ عرصہ پہلے کشمیر پر جو قراردادیں منظور کی تھیں کیا وہ آج بھی مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں؟ اس کا جواب مثبت اس صورت ہوسکتا ہے جب بھارت یا تو ان قراردادوں پر خود عمل کرے یا پھر کوئی قوت ان پر عملدرآمد کروائے، لیکن یہ قراردادیں اقوام متحدہ چارٹر کے باب ششم کے تحت منظور ہوئی تھیں ان کی نوعیت ایسی نہیں کہ کوئی ان پر طاقت کے ذریعے عمل بھی کرائے۔ ان قراردادوں کی اہمیت محض سفارش کی ہے یعنی بھارت ان پر عمل کرے تو اس کی مہربانی اور اگر نہ کرے تو بھی کوئی اس کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں، ایسے میں جب اقوام متحدہ کی قراردادیں آج تک بھارت کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں تو محض ایک ایسا اجلاس جو کوئی قرارداد بھی منظور نہیں کرسکا، بھارت کو کیسے پابند کرسکتا ہے کہ وہ ”تسلیم شدہ متنازع مسئلہ“ کو حل کرنے کے لئے بھی آمادہ ہو، اس کے لئے تو کوئی دوسرا آپشن ہی ڈھونڈنا پڑے گا۔ اجلاس کی کامیابی کے ڈھول کی آواز بھی بہرحال ایک مدت کے بعد سہانی نہیں رہے گی۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...