بھارت اور پاکستان میں پھنسے ہوئے شہری

بھارت اور پاکستان میں پھنسے ہوئے شہری

وفاقی کابینہ نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو نچلے درجہ پر لانے کے حوالے سے جو اقدامات کئے، ان کے مطابق دونوں ممالک کے ہائی کمشنر دارالحکومتوں میں نہیں ہیں اور سلسلہ ڈپٹی ہائی کمشنر تک رہے گا،ہماری کابینہ نے قدم آگے بڑھایا اور بھارت کے ساتھ ریل اور بس کے رابطے منقطع کرنے کے علاوہ تجارت بھی بند کر دی ہے،بھارت نے سفارتی درجہ اور تجارت کے معاملے میں اپیل کی کہ اس پر نظرثانی کی جائے،لیکن بھارتی غاصبانہ عمل کی وجہ سے اسے رد کر دیا گیا۔ دونوں ملکوں میں ریل اور بس کا سفر بند ہو چکا ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس، دوستی بس اور ہوائی راستے دونوں اطراف کے ان حضرات کی آمدورفت کا بھی ذریعہ ہیں جو اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آتے جاتے ہیں،اس وقت بھارت اور پاکستان میں بعض ایسے بھارتی اور پاکستانی شہری موجود ہوں گے، جو کسی نہ کسی حوالے سے پاکستان آئے یا بھارت گئے،اب وہ شہری دونوں طرف پھنس کر رہ گئے،جہاں تک بھارت میں موجود پاکستانیوں کا تعلق ہے تو وہ بھارتی ویزا پر گئے ہوئے ہیں، ویزوں کی مدت متعین ہوتی ہے جو گذر جائے تو شہری کا قیام غیر قانونی ہو جاتا ہے۔بھارت ماضی میں ایسے کئی پاکستانیوں کو جیل میں ڈال چکا ہے، جن کے ویزوں کی مدت ختم ہوئی اور وہ واپس نہ آ سکے، اب بھی اس سے خیر کی توقع نہیں۔ ان حالات میں اب یہی کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اپنے اور بھارت اپنے سفارت خانوں کے ذریعے ایسے شہریوں کو اپنے اپنے ملک منتقل کرنے کا اہتمام کرے اور ان سب کو واہگہ کے راستے اپنے اپنے ملک آنے یا جانے دیا جائے،تاکہ کوئی مزید مشکل پیدا نہ ہو۔ توقع ہے کہ یہ سب بھی ذہن میں ہو گا اور دفتر خارجہ حکومت کی ہدایت پر اس کے لئے تیزی سے عمل کرے گا۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...