قرضوں اور مہنگائی کا سال

قرضوں اور مہنگائی کا سال
قرضوں اور مہنگائی کا سال

  


عمران خان حکومت کا پہلا سال قرضوں اور ہوش ربا مہنگائی کے سال کے طور پر تاریخ کا حصہ بن چکا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ملکی قرضے کل GDP کے 82.4 فیصد کی سطح پر پہنچے ہیں کیونکہ موجودہ حکومت نے قرضے لینے کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ہیں (سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ)۔ اپنی حکومت کے ایک سال میں پی ٹی آئی حکومت 7.4 کھرب روپے کے قرضے لے چکی ہے جس کی نظیر پہلے نہیں ملتی۔حکومت کی اپنی معاشی ٹیم جب آٹھ ماہ تک ڈلیور نہیں کر سکی تو آئی ایم ایف سے ٹیم منگوائی گئی جس نے کمال مہربانی سے کام لیتے ہوئے مصر میں متعین اپنی ٹیم کو پاکستان بھیج دیا ہے۔ اگر یہ پاکستان میں بھی وہی اثرات دکھائے گی تو لوگوں کو مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے اپنی کمر ٹوٹنے کے لئے تیار رہنا ہو گا کیونکہ آئی ایم ایف کی پالیسیوں کے نتیجے میں مصر میں لوگوں کے معاشی حالات انتہائی دگرگوں ہو چکے ہیں۔ ایک سال پہلے کے مقابلہ میں مہنگائی دوگنی اور اقتصادی ترقی کی شرح نصف سے بھی کم رہ گئی ہے، پاکستانی کرنسی کی ویلیو تقریباً چالیس فیصد کم ہو چکی ہے، سٹاک مارکیٹ بھی تقریباً چالیس فیصد ہی نیچے آئی ہے،

سٹیٹ بینک کی طرف سے مقرر کردہ شرح سود دوگنی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے چلتے کاروبار بند اور لاکھوں لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں، انڈسٹریل سیکٹر کے بڑے بڑے یونٹ آخری سانسیں لے رہے ہیں، زراعت بھی آخری دموں پر اور کسان تباہ حال ہیں۔ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کی بات کی جائے تو لوگ ایسے ہنستے ہیں جیسے انہیں ملا نصیر الدین کے لطیفے سنائے گئے ہوں۔ برآمدات بڑھنے کے امکانات معدوم ہیں۔ تاجر، صنعت کار اور کاروباری حضرات کبھی ہڑتال اور کبھی تالہ بندی کا سوچتے ہیں۔ لوگ اپنا بچا کھچا سرمایہ ملک سے باہر لے جانا چاہتے ہیں کہ کہیں کسی اور ملک میں کاروبار کر سکیں۔پٹرول اور بجلی کی قیمتیں دوگنی ہونے کی وجہ سے ہر چیز کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے،

گیس کی قیمتوں میں تو خیر کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور تاریخ میں پہلی مرتبہ گیس کے بلوں نے عوام کی چیخیں نکلوائی ہیں۔ پی ٹی آئی کے پاس چونکہ کوئی اقتصادی پلان نہیں تھا بلکہ باہر سے ڈالروں کی برسات کی صرف کہانیاں ہی کہانیاں تھیں، یہی وجہ ہے کہ پہلے آٹھ مہینے اسد عمر اور اگلے چار ماہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے ادھر ادھر کی باتوں میں عمران خان حکومت کا پہلا سال تو نکلوا دیا ہے لیکن عملی طور پر حالات اس نہج پر پہنچا دئیے ہیں کہ ملکی معیشت میں بہتری کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔ اسد عمر نے جاتے جاتے کہا تھا کہ عوام کی چیخیں ابھی نہیں نکلی ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آئندہ بھی نہیں نکلیں گی۔ وہ جانتے تھے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان میں آئی ہی عوام کی چیخیں نکلوانے کے لئے ہے، اس لئے اگر عمران خان حکومت رہی تو یہ ہو کر رہے گا۔

کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ عمران خان حکومت کے لئے اپنا پہلا سال مکمل کرنا آسان نہیں ہو گا کیونکہ حکومت کے پہلے چند مہینوں میں ہی اندازہو گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس ملکی معیشت کی بہتری کے لئے کوئی پلان نہیں ہے۔ عمران خان کو وزیر اعظم منتخب ہوئے18 اگست کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے، اس طرح موجودہ حکومت اپنے دوسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ جوں جوں حکومت پرانی ہوتی جا رہی ہے، پاکستانی عوام مہنگائی کی چکی میں بری طرح پستے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کا جن، خاندانوں کے خاندان نگل رہا ہے لیکن عمران خان اور ان کی حکومت کے اہم وزراء اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری پچھلی دو جمہوری طور پر منتخب حکومتوں پر ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ جب کوئی حکومت اپنے دوسرے سال میں داخل ہو جائے تو لوگ پچھلی حکومتوں کی نہیں بلکہ اس کی اپنی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے کہ عمران خان نے اگر اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر بھی لی تو آخری دن تک ہر مصیبت کا ذمہ دار وہ پچھلی حکومتوں کو ٹھہرائیں گے۔ اگلا الیکشن جب بھی ہو گا وہ پچھلی نہیں، موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ہو گا اس لئے بہتر ہو گا کہ عمران خان ماضی کی بجائے حال میں رہیں

اور مستقبل کا سوچیں۔ ویسے حکومت کی بدنیتی کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ ملکی قرضوں کی انکوائیری پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے خلاف ہو رہی ہے لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے پاکستان کی تاریخ میں سب سے کرپٹ قرار دی گئی جنرل پرویز مشرف حکومت کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ عمران خان کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف کے بارے میں کوئی بات کر سکیں کیونکہ اصل نشانہ تو آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف ہیں جنہیں اٹھارویں ترمیم کی وجہ سے نا پسندیدہ اور ناقابل قبول قرار دے کر پاکستانی سیاست سے کسی بھی طرح آؤٹ کرنے کا فیصلہ ہوا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پاکستان میں کوئی پسندیدہ فعل نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ترمیم کے کچھ مہینے بعد ہی پی ٹی آئی کو اچانک پذیرائی ملی جو بالآخر دونوں بڑی جماعتوں کے اقتدار سے باہر ہونے، ان کے قائدین کے جیلوں میں بند ہونے اور تیسری پارٹی کی حکومت تک کامیابی سے پہنچا۔ اس سارے عمل میں پاکستان کی معیشت کو سخت نقصان پہنچا اور عوام کی حالت بھیڑ بکریوں جیسی ہوگئی۔ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔

سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ میں ملکی قرضوں کی تفصیل دی گئی ہے جو کسی بھی ذی شعور شخص کے لئے انتہائی پریشان کن ہے۔ عمران خان حکومت نے اپنے پہلے ایک سال کے دوران 7.6 کھرب روپے کا مجموعی قرضہ لیاجس کی وجہ سے قرضوں کی کل مالیت 24.2 کھرب سے بڑھ کر 31.8کھرب روپے ہو گئی ہے۔ اس طرح موجودہ حکومت نے ایک سال کی قلیل مدت میں ملکی قرضوں میں 31 فیصد اضافہ کیا۔ صرف ایک سال میں قرضوں کی مالیت میں اتنا اضافہ نیا ریکارڈ ہے۔ سٹیٹ بینک کے مطابق ملک کے اندرونی قرضے 16.4 کھرب سے 20.7 کھرب روپے پر پہنچ گئے ہیں یعنی ایک سال میں ان میں 4.3 کھرب روپے (26 فیصد) کا اضافہ ہوا جبکہ بیرونی قرضوں میں بھی 3.3 کھرب کا اضافہ ہوا (42 فیصد) ا ور وہ 7.8 کھرب سے 11.1 کھرب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

روپے کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافے نے بھی معاشی حالات بگاڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالوں کے دوران پاکستان کے قرضوں میں 6 کھرب اور مسلم لیگ (ن) میں 10 کھرب روپے کا اضافہ ہوا تھاجبکہ پی ٹی آئی حکومت کے صرف ایک سال میں قرضوں میں 7.6 کھرب لئے گئے۔ اگر عمران خان حکومت اسی رفتار سے قرضے لیتی رہی تو اس کے پانچ سالہ دور میں قرضوں میں 38 کھرب روپے کا اضافہ ہو گا جو پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور سے ساڑھے چھ گنا اور مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالوں کے قرضوں سے پونے چار گنا زیادہ ہو گا۔ صرف یہی نہیں،اقتصادی ترقی کی شرح اور روپے کی قدر مزید گر جائے گی، رہے سہے کاروبار اور فیکٹریاں بند اور ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، سٹاک مارکیٹ میں الو بولیں گے اور مہنگائی کے ہاتھوں مجبور لوگوں کی زندگیاں موت سے بدتر ہوں گی۔

پی ٹی آئی حکومت ریونیواکٹھاا کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہوئی اور ٹارگٹ سے شارٹ فال 580 ارب رہا۔ ایک طرف 4000 ارب کے ٹارگٹ میں پہلے ہی اتنا شارٹ فال اور دوسری طرف اگلے سال کے ٹارگٹ میں 1500 ارب کا اضافہ کرکے 5500 ارب کا ریونیو ٹارگٹ مقرر کیا گیا ہے جبکہ سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ ڈیڑھ دو ماہ سے ریونیو ڈویژن کسی وزیر کے بغیر کام کر رہا ہے اور سیکرٹری ریونیو کا چارج بھی عارضی طور پر سیکرٹری خزانہ کے پاس ایڈیشنل چارج کے طور پر ہے۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ٹیکس لیا جائے گا، یہ حربہ کامیاب شائد ہو سکتا ہو لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب کاروبار ہی بند ہوں گے تو لوگ ٹیکس کہاں سے دیں گے۔ ٹیکس کاروباری حالات بہتر بنانے سے زیادہ حاصل ہوتا ہے، ڈرانے دھمکانے سے نہیں۔ عمران خان حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف ہر طرح کا جائز اور ناجائز کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے اور ان پر طرح طرح کے مقدمات بناکر گرفتار کیا جا رہاہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وہ پاکستان کی معیشت اور عوام کی حالت کیسے بہتر بنائیں گے۔ داستان گوئی کا فائدہ بھی اسی وقت ہو گا جب عام آدمی سے لے کر کاروباری طبقہ ریلیف محسوس کرے گا۔ عمران خان فین کلب کے دوستوں اور سرپرستوں کے لئے صرف اتنا پیغام ہی کافی ہو گا کہ رل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے۔

مزید : رائے /کالم


loading...