اعمال پر شرمندہ کیوں نہیں

اعمال پر شرمندہ کیوں نہیں
اعمال پر شرمندہ کیوں نہیں

  


آؤ قریب آؤ ذرا غور سے سنو۔ سقراط کہہ رہا ہے علم حسن ہے علم نیکی ہے سنو۔ سنو ایک اور آواز قریب سے ہی آ رہی ہے تم مسلمان ہو سرکار مدینہ آخری نبیؐ کی اُمت ہو، علم حاصل کرو، لیکن علم میں منافقت فرقہ پرستی خود نمائی اور جھوٹ شامل نہ کرنا، علم سب سے بڑی طاقت ہے، لیکن کیا کریں ہم سب بہرے گونگے بنے ہوئے ہیں، مفاد پرستی اور خود غرضی کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا ہے۔ ہم اس قدر مفلس واقع ہوئے ہیں کہ ہمارے ہاں آج بھی عقل وعلم اور فکر وسوچ کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔ مفکرین و اہل ِ دانش کا مذاق اُڑایا جاتا ہے، فکر کرنے اور سوچنے والوں کو بڑا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ ٹیگور نے کہا تھا کہ فکر، فکر کو دور کرتا ہے، لیکن ہم وہ ہیں جو فکر اور سوچ کے دشمن بنے ہوئے ہیں، ہم بہت جلدی میں ہیں، ہر کام کا بہت جلدی رزلٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں،

وہ بھی اپنی سوچ اور مطلب کے مطابق۔ سقراط نے کہا تھا معزز اراکین مجلس ہم اب مختلف راستوں کے مسافر ہیں،میں موت کی تنگ و تاریک گھاٹی کی جانب رواں اور تم شارع زندگی کی طرف گامزن۔ کون سا راستہ ٹھیک ہے یہ نہ تم جانتے ہو نہ مَیں جانتا ہوں، مگر خیر تم سے مجھے کوئی شکوہ نہیں۔ تم تو یہ بھی نہیں جانتے تم کتنا جانتے ہو؟ پہلی بات یہ ہے کہ ہم کچھ بھی نہیں جانتے اور ستم یہ ہے کہ ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں اور ظلم تو یہ ہے کہ ہم کچھ جاننے کی کوشش بھی نہیں کر رہے،بلکہ سابقہ حکمرانوں اور لیڈروں کی تقلید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کے نقائص تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن خود کو سدھار نے کے لئے ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں،اگر کچھ ہے تو وہ برائے نام لوگ ہیں،تو پھر ظاہر ہے ہم شدید ترین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

جب ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے، ہمارے پاس اپنے وسائل نہیں ہوں گے، ہم جان بوچھ کر کوتاہی کے مرتکب ہوں گے، جن سے ملک اور معاشرے کی مشکلات دور نہ ہوں، تو پھر ہماری آنے والی نسلیں کیا کہیں گی، ہمارا دشمن ہمیں کیونکر معاف کرے گا،ہم کب تک اپنی کوتاہوں کو چھپا کر دوسرے لوگوں کے عیب نکالتے رہیں گے، ہم اپنے اعمال پرشرمندہ کیوں نہیں ہوتے، ہم اپنی کوتاہی اور غلطی کیوں تسلیم نہیں کرتے اور آنے والے وقتوں کے لئے کیوں بہتر سوچ نہیں رکھتے، ہم کیوں اپنے جرائم پر پردہ ڈال کر اذیتیں برداشت کر رہے ہیں،جبکہ ہمارا ضمیر ہمیں اندر کھاتے ملامت کرتا ہے کہ تم نے ملک و معاشرے کا کیا کِیا، کیوں ملکی خزانے کو عوام کے حقوق کو سلب کیا۔

آخر ہم اپنے اعمال پر کیوں شرمندہ نہیں ہوتے، کیا ہم اسی سزا کے مستحق ہیں،جو ہندوستان کشمیریوں کو دے رہا ہے یا اسرائیل فلسطینیوں کے ساتھ سلوک کر رہا ہے۔ ہم کیوں اپنی آزادی کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں، کیا مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی کہانی آپ لوگوں کو یاد نہیں،پاکستان کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے بزرگوں نے کیا کیا قربانیاں دیں، خاندانوں کے خاندان وطن حاصل کرنے کے لئے قربان ہوگئے، اس کے بعد تم نے کیا لیڈری کی یاد رہے کہ عمل و فکر کے بغیر قومیں مردہ ہو جاتی ہیں، ان کا نام ونشان مٹ جاتا ہے، صرف ان کے کھنڈرات باقی رہتے ہیں، یہ وہ صنم کدے ہیں،جہاں زائرین تو جاتے ہیں، لیکن کوئی دست ِ دُعا نہیں اٹھاتا،ان سب پر موت طاری ہے، پرانی کہانیاں ہیں کہ یورپ آیا۔ اطالیہ، ہسپانیہ، فرانس، انگلستان، جرمنی اور ایک ایسی تحریک پیدا ہوئی کہ تاریخ میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔انہوں نے یونانیوں سے بہتر سائنس تعمیر کی، علم کو جمع کر کے اسے اتنے بڑے پیمانے پر دوسروں تک منتقل کیا کہ اس سے پہلے کبھی ممکن نہ ہوا تھا۔دوسری طرف ہم بھی مر چکے ہیں،ہم میں ختم ہونے کی تمام علامتیں موجود ہیں،ہمارے ارادے، ہماری جمہوریت، ہماری بدعنوانیاں، ہماری سائنس ہمارا فن، ہماری ریاضی، ہمارا سماج ان تمام صفات کا حاصل ہے جو قدیم ریاستوں کے تباہ ہونے سے پہلے ان میں موجود ہوتی تھیں۔

کہتے ہیں جھوٹ بول کرجیتنے سے بہتر ہے کہ ہم سچ بول کر ہار جائیں، یہ سچ ہے کہ ہم سب مجرم ہیں، چونکہ سب نے اپنے اپنے ساتھی پارٹیاں اور لیڈر چن لئے ہیں، ملک وقوم بہت کم لوگوں کی نظر میں ہے، ہم جھوٹ در جھوٹ بول کر عیب چھپانے کی کوشش میں ہیں، تعجب یہ ہے کہ ہم اپنے نامہ اعمال پر شرمندہ کیوں نہیں ہوتے، ہمیں انسانیت کا سامنا کرنے کی جرات کس طرح ہوتی ہے، کس قدر بدنصیب ہیں کہ ہم کو آج بھی علم وعقل کی اہمیت ثابت کرنا پڑتی ہے، جبکہ دنیا صدیوں پہلے اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ ترقی اور خوشحالی صرف علم اور عقل سے ممکن ہے۔ آج جب ترقی یافتہ قومیں کرہ ارض کو فتح کر کے سیاروں کی طرف بڑھ رہی ہیں، ہم آج بھی اس بحث میں مبتلا ہیں کہ علم وادب کی کوئی قدر وقیمت ہے کہ نہیں۔ ہمیں آج بھی فکری مسائل چھیڑنے سے پہلے سوچنا پڑتا ہے کہ بنیاد پرست ناراض نہ ہوجائیں، کچھ لوگوں نے جائیدادوں کی طرح مذہب کے حقوق بھی اپنے نام الاٹ کروا رکھے ہیں اور اس کو فروحت کرکے دوسروں پر رعب جما رہے ہیں، ہم عقل ودانش کی لاشوں کو نوچ نوچ کر ادھیڑ رہے ہیں، اندھیروں میں رہ رہ کر ہماری عقل میں،

نفرتوں اور تعصبات کے جالے بن گئے ہیں، روشنی سے سچی باتوں سے ہمیں نفرت ہے، ماضی میں رہنا ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے ہم دراصل اپنے اندر بھٹک رہے ہیں جس طرح نیرد نے جلے ہوئے روم کو دوبارہ تعمیر کیا تھا، آئیں ہم اپنے گلے سٹرے بدبو دار سماج کی لاش کو دفنا کر ایک نئے سماج کو تعمیر کریں، جس کی چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے آخری نبیﷺ نے بنیاد رکھی تھی، غیر مسلم ترقی یافتہ قوموں نے انہی اصولوں کو اپنا کر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں، جس میں دل و ذہن کی تمام کھڑکیاں کھلی ہوں جہاں اختلاقات پر کسی کو مارا نہ جائے، بلکہ اختلافات پر اتفاق ہو، جہاں ایک دوسرے کا احترام ہو، جہاں برداشت کی حکمرانی ہو، جہاں مساوات ہو۔ کہا جاتا ہے کہ اصلاح کی بنیاد انسان کی جہل سے شروع ہوتی ہے اور علم کی روشنی میں اس کا اختتام ہوتا ہے، اگر ہم خود کو بچانا چاہتے ہیں ہمیں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ماضی کی بجائے حال میں رہنا ہوگا، پہلے ہمیں فکری انقلاب برپا کرنا ہوگا پھر معاشی اور پھر معاشرتی انقلاب پھر آپ دیکھیں گے کہ ہمیں کس طرح اپنے عذابوں سے نجات حاصل ہو جاتی ہے لیکن پھر گزارش ہے ہمیں اپنے اعمالوں پر شرمندہ ہونا پڑے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

مزید : رائے /کالم


loading...