…… اور اب سید فخر امام

…… اور اب سید فخر امام
…… اور اب سید فخر امام

  


اب سوال صرف ایک ہے ہم کیا کر سکتے ہیں، ہم پاکستانی عوام، شاید اس کا جواب مشکل ہے۔ حکومت نے جو کرنا تھا۔ وہ کر گزری، امریکہ کا کامیاب دورہ، بھارت کو یہ بتایا جا چکا ہے کہ ہم دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ کسی دل جلے نے کہا بھارت نے تو کشمیر کے ایک کروڑ انسانوں کے سر پر اینٹ مار دی ہے۔ اب تو اینٹ مارنے والوں کو پتھر کا انتظار ہے۔ لیکن شاید ایسا سوچنا اور ایسا ردعمل اس خطے کے ڈیڑھ ارب انسانوں کے لئے ہولناک نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ تو پھر آخر بھارتی توسیع پسندانہ نوآبادیاتی حکمت عملی کا جواب کیا ہو سکتا ہے۔ اب ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارے وزیر خارجہ جو بہت اداکارانہ لہجہ میں گفتگو کرنے کے عادی ہیں بھارت کے عزائم کو نہ سمجھ سکے اور امریکہ کے ”کامیاب“ دورہ کے بعد پاکستان کے عوام کو مودی کی طرف سے ایک اچانک صدمہ کا شکار ہونا پڑا اور اگرچہ پاکستان کے عوام کے لئے مودی کی طرف سے یہ پہلا نفرت انگیز اقدام نہ تھا یہ گزشتہ پانچ برس سے اور اس سے قبل گجرات میں مودی نے پاکستان کے عوام کو ایسے اقدامات سے باخبر کر دیا تھا کہ وہ بنیادی طور پر ہندو بنیاد پرست اور خطرناک حد تک متعصب مسلمان دشمن ہے۔

ہماری سیاسی قیادت اس سے بہتری کی توقع کر رہی تھی اور اس کی کامیابی کی صورت میں کشمیر کے سیاسی حل کی امیدیں لگائے بیٹھی تھی۔ سابقہ وزیر اعظم نوازشریف نے بھارتی قیادت کو اپنی نواسی کی شادی پر دعوت دی۔ جو وزیر اعظم مودی نے قبول بھی کی۔ اس دعوت میں سشما سوراج نے نوازشریف کی والدہ محترمہ سے بھی ملاقات کی۔ تحفوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ لیکن کشمیر کے حوالے سے کوئی بات نہ ہو سکی۔ شاید اس لئے کہ اس ملاقات کو نجی ملاقات بتایا گیا تھا، حالانکہ پاکستان اور بھارت کے سیاستدانوں میں خاص طور پر اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ایک دوسرے سے متعارف ہونے والے سیاستدانوں اور حکمرانوں کے درمیان کون سے نجی تعلقات ہو سکتے ہیں۔ برسوں سے ایک شہر ایک علاقے میں رہنے اور ایک ہی ملک میں یعنی برطانوی ہندوستان میں سیاست کرنے والے نہرو اور جناح کے درمیان بھی نجی تعلقات کا ذکر کم ہی ہے اس طرح دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے دوران پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بات ہونا چاہئے تھی۔ لیکن شاید مودی اس نجی دورہ کو پاکستان میں اپنی شخصیت کے بہتر امیج کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ اور شاید عمران خان پر ان کی شخصیت کا مثبت اثر بھی ہوا تھا۔ تبھی تو گزشتہ انتخابات میں پاکستان میں خود برسر اقتدار آنے کے بعد سیاست میں مودی کی فتح کو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے لئے بہتر تصور کرتے تھے۔ لیکن معاملہ ان کی خواہشات اور تاثرات کے اُلٹ نکلا اور مودی نے بقول اس کے اس نے وہ کام ستر دنوں میں کر دکھایا جو بھارتی قیادت گزشتہ ستر برس میں نہ کر سکی تھی۔

آج مقبوضہ کشمیر میں تقریباً دو ہفتوں سے مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ سکول، ہسپتال، عدالتیں، بازار، ہوٹل اور سڑکیں ویران پڑی ہیں، کشمیری عوام عید کی نماز بھی ادا نہ کر سکے۔ اسرائیل نے بھی فلسطینیوں پر عین نماز کی ادائیگی کے دوران بموں سے حملے کئے۔ فلسطینی مسجدوں کو نشانہ بنایا ہے۔ مودی اور نیتن یاہو ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور جب سے سعودی شہزادے محمد بن سلمان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا آغاز ہوا ہے۔ مودی اپنے آپ کو اسلامی دنیا میں بھی محفوظ تصور کرنے لگا ہے۔ اور اس کا عملی مظاہرہ بھی ہم نے دیکھ لیا ہے۔ کسی عرب ملک نے سعودی عرب سمیت بھارت کے فیصلے کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت میں بیان جاری کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس طرح مودی کے عمل کی خاموش حمایت کی گئی ہے۔ صورت حال کا اگر عالمی حکمرانی کے حوالے سے تجزیہ کیا جائے تو یہ انتہائی مایوس کن ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایشیا میں ایک اور فلسطین بمقابلہ اسرائیل کی تصویر ابھر رہی ہے، لیکن عالمی سطح پر میڈیا انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سوشل میڈیا کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرتے نظر آ رہے ہیں اور شاید کشمیری تحریک آزادی میں مودی ایکشن ایک عالمی حمایت کا باعث بن چکا ہے۔ جو اس سے پہلے اس قدر شہرت کے ساتھ موجود نہیں تھی۔ کشمیری عوام کی بدقسمتی ہے کہ ستر برس تک اپنی جدوجہد آزادی کے ایک مرحلے سے گزرنے کے بعد اب انہیں طویل صبر آزما جدوجہد کا سامنا ہے، لیکن اس مرتبہ کشمیری عوام کے ساتھ پوری دنیا کھڑی ہو گی۔ ریاستی حکمران اپنی معاشی اور تزویراتی حقیقتوں کا رونا روتے رہیں گے اور آخر کار انہیں بھی کشمیری عوام کی بات ماننا ہو گی۔

پاکستان کی حکومت کو کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دینا ہوگا اور وہ اس طرح کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے حوالے سے اور ریاستی دہشت گردی کے حوالے سے ہر لمحہ سر گرم عمل رہنا ہوگا پاکستان کی حکومت سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ اندرونی استحکام کے لئے اپوزیشن کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کرے۔ اس لئے میرے خیال میں پاکستان کی اپوزیشن کو بھی عالمی سطح پر سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل کرنے کی جدوجہد کرنی ہو گی اور اس کے لئے وسائل بھی خود ہی تلاش کرنا ہوں گے اس وقت کشمیری عوام ایک بہت بڑی ریاستی دہشت گردی کے متوقع عمل کے سامنے بے بس کھڑے ہیں سلامتی کونسل کے مشاورتی اجلاس نے محض پر امن رہنے کا مشورہ دیا ہے اور یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سلامتی کونسل کے باقاعدہ اجلاس کے لئے کیا طے کیا گیا ہے۔ بہر حال ہمیں کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی ممکنہ کسی ریاستی دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر عوامی ردعمل کے لئے کام کرنا ہوگا اور اس کام میں سید فخر امام اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...