بُک شیلف

بُک شیلف
بُک شیلف

  


نام کتاب: Early Battles of Islam

(اسلامی دور کی اولین لڑائیاں)

نام مصنفین: ٭…… ڈاکٹر ایس ایم رحمن

٭……  کرنل بشیر حسین

٭…… میجر قمر الحق

صفحات: 273(مجلد)

قیمت: درج نہیں 

پبلشرز: آرمی سروے گروپ پریس

سن ِ اشاعت: 1984ء

نقشہ جات: 35 

رنگین تصاویر: 21

یہ کتاب ان کتابوں میں شامل ہے جو آج سے35برس پہلے پاکستان آرمی نے آرمی سروے گروپ راولپنڈی کے پریس سے چھپوا کر آرمی کی چھوٹی بڑی یونٹوں اور فارمیشنوں میں تقسیم کی تھیں۔ یہ کتاب 2200کی تعداد میں چھاپی گئی۔ اس کا دیباچہ اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف(CGS) لیفٹیننٹ جنرل مرزا اسلم بیگ نے تحریر کیا تھا جو بعد میں 17اگست1988ء کو آرمی چیف اور صدرِ پاکستان جنرل ضیاء الحق کے انتقال کے بعد آرمی چیف مقرر کئے گئے تھے۔……اس دیباچے میں وہ لکھتے ہیں: ”اسلامی عہد کی اولین لڑائیوں (Battles) پر ایسی کتابوں کی کمی نہیں جو مسلم اور غیر مسلم مصنفین اور مورخین نے تحریر کیں۔تاہم ان کا اپنا اپنا اندازِ نگارش اور مطمحِ نظر تھا۔انہوں نے اپنے اسی زاویہئ نظر کو سامنے رکھ کر یہ کتب تصنیف کیں۔تاہم میرے لئے وہ سبب جو اس کتاب کو لکھنے کے لئے اُکسانے اور ترغیب دِلانے کا باعث بنا وہ یہ تھا کہ اسلام کے اولین دور کی لڑائیوں کا پیشہ ورانہ تجزیہ کیا جائے اور ان سے ایسے عسکری اسباق اخذ کئے جائیں جو آج ہمارے موجودہ دور کے آپریشنل ماحول کے لئے اتنے ہی برمحل اور بر موقع ہوں جو آج سے قبل ہر دور میں تھے“ ……  جنرل(ر) مرزا اسلم بیگ کا یہ نقطہ ئ  نظر آج بھی اسی طرح برمحل ہے جیسا 35برس پہلے اُس وقت تھا جب یہ کتاب تصنیف کروائی گئی تھی۔اس لئے مَیں نے مناسب سمجھا کہ کتاب کے نئے اور پرانے ہونے سے قطع نظر اس پر  تبصرہ کیا جائے اور مسلمانوں کے ماضی  و حال کے عسکری ماحول کے تناظر میں قارئین کو اس سے آگہی دی جائے۔

اس کتاب پر تبصرہ کے لئے قلم اٹھانے کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ قارئین کو یہ بتایا جائے کہ مسلم دور کی ان اولین لڑائیوں اور بعد میں ہونے والی لڑائیوں کے عسکری اسباق ایک جیسے ہیں حالانکہ گزشتہ 14صدیوں میں فنونِ جنگ اور سلاحِ جنگ میں کئی انقلابی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اِن اسلامی لڑائیوں میں شمشیرو سناں، نیزہ،بھالا،خنجر اور  زرہ بکتر کا استعمال عام تھا لیکن بعد میں دُنیا جیسے جیسے آگے بڑھی، ان اسلحہ جات میں تبدیلی آتی گئی۔بارود کی ایجاد(13ویں صدی) نے فن ِ جنگ کو ایک نئی کروٹ عطا کی۔ہارس کیولری کی جگہ ٹینک کیولری متعارف ہوئی، اور وہ جنگ جو پہلے صرف گھڑ سوار کے گھوڑے، تلوار اور ڈھال سے عبارت تھی، مختلف شعبہ  ہائے جنگ میں تبدیل ہو گئی۔…… انفنٹری، آرمر، آرٹلری، سگنلز، انجینئرز، آرڈننس، میڈیکل اور سروس کور کے صیغے وجود میں آئے اور20ویں صدی کے وسط میں دُنیا جوہری بموں  کے نام سے بھی آشنا ہوئی۔ آج فضائی اور بحری قوت کی انتہائیں ہمارے سامنے آ رہی ہیں۔ ڈرون اور میزائل جدید ترین ہتھیار ہیں، لیکن لڑنے والا سپاہی وہی خاک و خون کا پُتلا انسان ہے جو غزوہئ بدر میں تھا۔…… یعنی قدیم غزوہئ بدر سے لے کر آج تک کی جدید جنگوں کا خمیر اور مزاج وہی ہے کہ جو تھا۔ 

اس کتاب میں جن لڑائیوں کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے وہ تعداد میں 12ہیں اور درج ذیل ناموں سے مشہور ہیں:

(1) بدر کی لڑائی

(2) اُحد کی لڑائی

(3) خندق کی لڑائی

(4) صلح نامہ ئ  حدیبیہ

(5) خیبر کی لڑائی

(6) موتہ کی لڑائی

(7) فتح مکہ

(8) طائف کا محاصرہ

(9) اجنادین کی لڑائی

(10) یرموک کی لڑائی

(11) قادسیہ کی لڑائی

(12) نہاوند کی لڑائی

بدر  کی لڑائی یا غزوہئ بدر، کفر و اسلام کا اولین خونریز معرکہ ہے جو سن2 ہجری میں لڑا گیا۔ اس کتاب میں اس لڑائی کو 26صفحات میں ڈسکس کیا گیا ہے اور جن ذیلی عنوانات کے تحت اس کی کوریج کی گئی ہے،اس پر بھی ایک سر سری نظر ڈال لیتے  ہیں:

(1)  پس منظر

(2) لڑائی سے پہلے اٹھائے گئے سٹرٹیجک اقدامات

(3) لڑائی سے پہلے عسکری حرکات و سکنات

(4) انٹیلی جنس، سیکیورٹی اور نفسیاتی طریق ِ جنگ کے پہلو

(5) بدر کی لڑائی  کا نقطہ ئ  عروج

(6) طرفین کی فورسز

(7) مسلمانوں کی حرکات (Moves) اور چالیں 

(8) قریش ِ مکہ کی حرکات اور چالیں 

(9) مسلم فوج کا عسکری تجزیہ

(10) مسلم آرمی کا پلان

(11) قریشِ مکہ کا پلان

(12) لڑائی کے مراحل

(13) لڑائی کا تجزیہ

(14) اصول ہائے جنگ کا استعمال و اطلاق

(15)  حرفِ اختتام

اس جنگ کے دو رنگین نقشے دیئے گئے ہیں۔ ایک نقشہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تجارتی قافلوں کے راستوں (Routes) کا ہے اور دوسرا فریقین ِ جنگ کی صف بندی (Deployment) کا ہے۔ علاوہ ازیں اس میں 7عدد  رنگین تصاویر بھی دی گئی ہیں،جن کے عنوانات (Captions) درج ذیل ہیں:

(1) میدانِ بدر کی تصویر جس میں مسلمانوں اور کفارِ مکہ کی صف بندی دکھائی گئی ہے۔

(2) میدانِ جنگ کی سلوپ جو مغرب سے مشرق اور جنوب سے شمال کی طرف نظر آ رہی ہے۔

(3) میدان جنگ کا منظر(مسلمانوں کے لشکر کی وسطانی پوزیشن سے)

(4) مسلم فوج کے بائیں بازو (فلینک)  کا منظر

(5) ایک دیوار کے ساتھ ایک غالب (Dominating) پوزیشن کی تصویر

(6) مسلم آرمی کا دایاں بازو (فلینک) جو سخت پتھریلی چٹانوں پر مشتمل تھا تاکہ قریش آرمی مسلمانوں کی پوزیشن کو اس طرف سے بازو کش نہ کر سکے۔

(7) وادیئ بدر کا آج کا منظر

یہ7تصاویر اور2نقشہ جات ریشمی کاغذ(Glaze Paper) پر دیئے گئے ہیں جن سے کتاب زیادہ دیدہ زیب ہو گئی ہے۔

کتاب کے شروع میں جنرل(ر) اسلم بیگ کے دیباچہ کے بعد مصنفین (یامولفین)کی طرف سے ایک مختصر سا پیش لفظ دیا گیا ہے جس کے بعض حصوں کا ترجمہ یہ ہے: ”اس کتاب کی تالیف میں ہماری کوشش رہی ہے کہ ان لڑائیوں کے تجزیات سے جو عسکری اسباق سامنے آتے ہیں ان پر فوکس کیا جائے۔چنانچہ یہ کتاب نہ تو کوئی ملٹری ہسٹری ہے، اور نہ ہی مذہبی طریقِ جنگ کے دینی پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تالیف کی گئی ہے۔ ان موضوعات پر مارکیٹ میں بہت سے بیش بہا اور قابل ِ قدر کتابیں موجود ہیں۔“

”اس کتاب میں جو واقعات بیان کئے گئے  ان میں سے اکثر لڑائیوں کے تذکرے ہم نے لیفٹیننٹ جنرل (ر)اے آئی اکرم کی کتاب ”اللہ کی تلوار“ اور ”فارس میں مسلمانوں کی فتوحات“ سے لئے ہیں۔ تاہم ان لڑائیوں کے تجزیئے،مصنفین کی اپنی کاوشیں ہیں۔اگر ان میں کوئی سقم یا ناتمامی رہ گئی ہے تو وہ ہماری اپنی ہے۔ ہم اس کتاب کو لکھتے ہوئے اس بات سے آگاہ تھے کہ یہ اتنی کامل نہیں ہو سکے گی جتنی ہم سے توقع کی گئی تھی۔ قارئین کی طرف سے جو فیڈ بیک ہمیں موصول ہو گا اس کی روشنی میں ہم آئندہ ایڈیشن کو اس ایڈیشن سے بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم امیدکرتے ہیں اور خدا وند ِ کریم سے دُعاگو  ہیں کہ ہماری اس حقیر پیشکش کو شرفِ  قبولیت عطا کرے اور جن مقصودات کی نگاہ میں رکھ کر اس کی تالیف کی گئی ہے ان کو پذیرائی بخشے۔“

ان12لڑائیوں میں پہلی لڑائی(دی بیٹل آف بدر)17رمضان المبارک سن 2ہجری (بمطابق 13 مارچ 624ء عیسوی) لڑی گئی اور آخری(12ویں لڑائی، (دی بیٹل آف نہاوند) 642ء میں لڑی گئی۔ یعنی یہ داستانِ مبارزت صرف 18سالوں (624ء تا642ء) کو محیط ہے۔ بدر کی لڑائی جسے ”جنگ ِ بدر“ بھی کہا جاتا  ہے، کے باب میں درجِ بالا سطور میں جن ذیلی عنوانات کا ذکر کیا گیا ہے، باقی11لڑائیوں کو بھی انہی ذیلی عنوانات کے تحت ڈسکس کیا گیا ہے۔ مصنفین نے زیادہ تفصیل سے کتاب کو بوجھل بنانے کی کوشش نہیں کی اور اگرچہ اختصار سے کام لیا ہے،لیکن کوئی ایسا پہلو باقی نہیں چھوڑا جو پروفیشنل تجزیئے کو نظر انداز کر کے لکھا گیا ہو۔

آخر میں دو پہلوؤں کا بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک یہ کہ اس کتاب کا کوئی ذکر انٹرنیشنل میڈیا میں نہیں ملتا۔ اس کی گوگل کریں تو یہ کتاب آپ کو نہیں ملے گی۔ شائد اس کوISBN نمبر نہیں دیا گیا  تھا یا کوئی اور وجہ ہو گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن انگریزی زبان کی بہت سی کتابیں ایسی بھی ہیں جن کوISBN (انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بُک نمبر) نہیں دیا گیا لیکن ان کی مفصل کوریج نیٹ پر موجود ہے۔ دوسری بات جو زیادہ کھٹکتی ہے وہ اس کے اُردو ترجمے کا فقدان ہے۔ اگر یہ کتاب پاک فوج کے صرف طبقہ ئ  افسران کے لئے لکھی گئی تھی تو اور بات ہے لیکن اگر پاکستان آرمی میں سولجرز کی تعداد بمقابلہ افسروں کی تعداد کے کئی گنا زیادہ ہے تو اس کو اُردو کا جامہ ضرور پہنایا جا نا چاہیے تھا۔1984ء میں شائد اس وقت کے چیف آف جنرل سٹاف کے ذہن میں یہ بات نہ آئی ہو، لیکن آج جب اُردو زبان کو اتنی پذیرائی اور پاکستان گیر اہمیت حاصل ہو چکی ہے؟اس کا اُردو ترجمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کتاب کے پیشہ ورانہ اسباق سے پاکستان آرمی کا ہر آفیسر اور جوان  فیض یاب ہو۔

مزید : رائے /کالم


loading...