کشمیریوں کی نسل کشی مودی کا پرانا پلان ”بھارتی پتا“ بننے کی خواہش پوری کی: امریکی اخبار

  کشمیریوں کی نسل کشی مودی کا پرانا پلان ”بھارتی پتا“ بننے کی خواہش پوری کی: ...

  

واشنگٹن،نئی دہلی(این این آئی،آئی این پی)امریکی اخبارنے کشمیر کی صورتحال پراپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہندوازم ابھار کر مودی نے خود کو فادرآف انڈیا بنانے کی کوشش کی ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں لکھا کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا ہندو نظریہ ہے اور یہ مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کی کوشش ہے۔امریکی اخبار نے مودی کے تعصب اور تنگ نظری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق کشمیر پر فوج کشی نریندر مودی کی بالادستی کی پرانی خواہش پر کی گئی، مسلمان آباد ی کو ہندو قوم کے آگے ہتھیار ڈلوانے کا منصوبہ ہے۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ کا کہناتھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا 1947سے جماعت کا خواب تھا۔ بی جے پی ووٹرز کو خوش کرنے کے لئے بھارت کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بابری مسجد کی جگہ مندرہندو اور اقلیتوں کے مذہبی حقوق ختم کرنا بھی انتہاپسند تنظیم اور مودی کی لسٹ میں ہے، پانچ اگست کو کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے بعد مودی سے کوئی بھی اچھی امید ختم ہو گئی ہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ ایک نئے دور کا آغاز ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے نیا بھارت کیسا ہو گا، کشمیری تاریخ کے بدترین لاک ڈاؤن سے گزر رہے ہیں۔امریکی اخبار نے لکھا کہ مودی کی سوچ انتہا پسندانہ اور غیر جمہوری ہے جو مقبوضہ کشمیر کے لئے ہی نہیں پورے بھارت کے لئے خطرہ ہے، بھارت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش بھی مسترد کی۔ادھر امریکی میڈیا کے مطابق بھارت میں  ہزاروں مسلمانوں کو غیر قانونی تارکین وطن قراردیکر حراست میں لیا جاچکاہے، زیر حراست افرادمیں بھارتی فوج کے سابق مسلمان اہلکار بھی شامل ہیں۔غیرملکی مہاجرین کے نام پر مزید مسلمانوں کو حراست میں لئے جانیکی تیاریاں کر لی گئی ہیں، مودی حکومت کے ان فاشسٹ اقدامات سے بھارت میں مسلمان خوف کا شکار ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق آسام میں ایک گھر کے کچھ افراد کو بھارتی اور مہاجر قراردیدیا گیاہے اور اب تک 35 لاکھ مسلمانوں سے شہریت چھینی جا چکی ہے۔

امریکی میڈیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے کشمیر کی مخدوش صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے مودی حکومت نے بھارت کے کمزور وفاقی ڈھانچے کو کاری ضرب لگا دی۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بیشتر فیصلے کو بھارتی وفاقی ڈھانچے کو شدید دھچکے سے عبارت کرتے ہیں۔بی بی سی کے مطابق اب نئے مرکزی خطوں، جموں و کشمیر اور لداخ پر دہلی سے براہ راست حکومت ہوگی، رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت ریاستوں کے مقابلہ میں یونین کے علاقوں کو کم خودمختاری دیتی ہے، کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے مقامی آبادی اور سیاستدانوں سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ کشمیر جیسا اقدام بھارت کے وفاقی نظام پر بدنما داغ ہے۔اسکالر، ننوت چڈھا بہیرا نے کہاکہ بھارت میں جمہوری اصولوں کو ختم کیا جارہا ہے، زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ کسی بھی دوسری ریاست کیساتھ ایسا ہو سکتا ہے۔ یمینی ایائر نے کہاکہ فیڈرلزم کے حق میں بہت کم لوگ ہیں، جو بھارت کی جمہوریت کیلئے خطرہ ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی ذکر کیا، بھارتی سپریم کورٹ کے مطابق مرکز ریاستوں کے مقتدر اختیارات میں چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا۔ رپورٹ کے مطابق یہ دلچسپ ہوگا کہ بھارتی سپریم کورٹ کشمیر پر فیصلے کے خلاف قانونی چیلنجز سے کس طرح نمٹتی ہے۔ڈاکٹر بہیرا نے کہاکہ یہ اعلی عدالت کی آزادی کے لئے امتحان ہوگا۔

بی بی سی 

مزید :

صفحہ اول -