پابندیوں میں نرمی کا بھارتی دعوی جھوٹ، مقبوضہ کشمیر میں 14ویں روز بھی لا ک ڈاؤن برقرار، بھارتی فوج کی فائرنگ، ایک شہید متعدد زخمی 

     پابندیوں میں نرمی کا بھارتی دعوی جھوٹ، مقبوضہ کشمیر میں 14ویں روز بھی لا ...

  

سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے اتوار کو مسلسل 14 ویں روز بھی وادی کشمیر اورجموں میں کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کا نفاذ جاری رکھا۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کرفیو اور دیگر پابندیاں توڑ کراحتجاج کرنے والے مظاہرین اور بھارتی فورسزکے درمیان شدید جھڑپوں میں کم از کم ایک شخص محمد ایوب شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔دوسینئر سرکاری عہدیداروں نے کم از کم دو درجن افراد کے ہسپتالوں میں د اخل ہونے کی تصدیق کی ہے جو پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔صورہ، رعناواری،نوہٹہ، چھانہ پورہ،حیدرپورہ اور گوجوارہ سمیت سرینگر شہر کے دو درجن کے قریب علاقوں میں مظاہرین اور بھارتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ بمنہ سرینگر کے باشندوں نے کہا کہ بھارتی فورسز نے ان کے گھروں پر چھاپے مارکرمکینوں پر تشددکیااورگھروں کی توڑ پھوڑ کی۔بھارتی فورسز نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتارکیاہے۔ نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5اگست کوجموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 کے خاتمے  سے پہلے مقبوضہ علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیاتھا۔ مسلسل کرفیو اورمواصلاتی نظام کی بندش کے باعث علاقے میں انسانی بحران جنم لے رہا ہے کیوں کہ علاقے کے لوگوں کو بچوں کے لیے دودھ او ر مریضوں کے لیے زندگی بچانے والی اوویات سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی شدید قلت کا سا منا ہے۔قابض انتظامیہ نے ٹی وی چینلز کی نشریات اور انٹرنیٹ سروسزکی معطلی سے معلومات تک رسائی بھی مسدود کردی ہے جبکہ 5اگست سے مقامی اخبارات کے آن لائن ایڈشن بھی اپ ڈیٹ نہیں ہوپارہے ہیں۔جموں خطے کے سانبہ،کٹھوعہ، ادھمپور،ریاسی اور جموں اضلاع میں مختصر سے وقفے کے بعد دوبارہ موبائل اورانٹرنیٹ سروسز معطل کردی گئی ہیں۔ سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام حریت قیادت گھروں اور جیلوں میں نظر بند ہیں۔ انگریزی رونامے کشمیر ٹائمز کی ایگزیکٹو ایڈیٹر انورادھا ب نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 1990ء کی طرح مواصلاتی نظام معطل ہے جب لینڈ لائن فون بھی کام نہیں کررہے تھے اورصحافیوں کی نقل وحرکت پرمکمل پابندی تھی۔۔سرینگر میں لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسزانہیں تشددکانشانہ بنارہی اور ان کے ساتھ گالم گلوچ کررہی ہیں جبکہ چھاپوں کے دوران ان کی املاک کو بھی نقصان پہنچایاگیا ہے۔بمنہ سرینگر میں ایک درجن سے زائد عینی شاہدین نے کہاکہ بھارتی فورسزنے گھروں پر چھاپوں کے دوران کم ازکم چھ افرادکو گرفتارکرلیااور مکانوں کی توڑپھوڑ کی۔ قابض انتظامیہ نے  کرفیو کے نفاذ کیلئے مقبوضہ وادی کے اطرافمیں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر رکھے ہیں اور علاقے کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔ بھارتی دعوے کے باوجودمقبوضہ علاقے میں ٹیلیفون، انٹرنیٹ سروس اور ٹیلی ویژن چینلزکی نشریات تاحال معطل ہیں۔مودی سرکار نے گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر میں نافذ کرفیو میں نرمی لانے کا اعلان کیا تھا  جو کھوٹ ثابت ہوا۔دریں اثنامقبوضہ کشمیر میں بھارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وادی کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد سے اب تک تقریباً 4 ہزار افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے۔مقامی مجسٹریٹ نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی اور اے پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت کم از کم 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت انتظامیہ کسی بھی شخص بغیر کسی جرم یا ٹرائل کے دو سال کی مدت تک جیل میں رکھ سکتی ہے۔مقبوضہ کشمیر کے مجسٹریٹ نے انکشاف کیا کہ ’وادی کی جیلوں جگہ کا فقدان ہونے کی وجہ سے متعدد زیر حراست شہریوں کو مقبوضہ کشمیر سے باہر لے جا کر قید کیا گیا۔

مقنوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -