’ آرمی چیف کو توسیع نہیں دی گئی بلکہ ۔۔۔ ‘ فردوس عاشق اعوان نے منفرد دعویٰ کردیا

’ آرمی چیف کو توسیع نہیں دی گئی بلکہ ۔۔۔ ‘ فردوس عاشق اعوان نے منفرد دعویٰ ...
’ آرمی چیف کو توسیع نہیں دی گئی بلکہ ۔۔۔ ‘ فردوس عاشق اعوان نے منفرد دعویٰ کردیا

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ ہیں چین آف کنٹرول میں تسلسل چاہئے تھا ، اس وقت ضرورت اس امر کی تھی پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت میں ہم آہنگی برقرار رہے ، قومی مفاد کیلئے آرمی چیف کا تسلسل ضروری تھا۔

جیونیوز کے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگوکرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف کو توسیع نہیں دی گئی بلکہ یہ ان کا ایک تسلسل ہے ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی تھی پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت میں ہم آہنگی برقرار رہے ۔ اس وقت کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہاہے ، ایل او سی اورورکنگ باﺅنڈری پر جو حرکتیں بھارت کررہاہے ، وہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی مفادات کیلئے آرمی چیف کا تسلسل ضروری تھا ۔ اس لئے آرمی چیف نے اسی ہم آہنگی ، اتحاد کوبرقرار رکھنے کیلئے یہ فیصلہ کیا ہے ۔

فردوس عاشق اعوان کا کہناتھا کہ افواج پاکستان کے اپنے پروٹو کول ہیں اور ریٹائرمنٹ سے پہلے آرمی چیف کے وزٹ شروع جاتے ہیں لیکن ہم اس وقت کو ئی غیر یقینی صورتحال افورڈ نہیں کرسکتے تھے اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ چین آف کمانڈ کو برقرار رکھا جائیگا ۔بھارتی وزیر دفاع کی دھمکیوں کے تناظر میں ملکی مفاد میں یہ فیصلہ کیاگیاہے اور اس کا مثبت اثر پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ حالت جنگ میں کمانڈر تبدیل نہیں کیا جاتا ، فیصلے سے پالیسیوں کاتسلسل جاری رہی گا ۔ فوج اورحکومت ایک پیچ پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف معاشی محاذ پر بھی حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور ملک کومعاشی بحران سے نکالنے میں مدد دی ، سویلین سپرمیسی کو سپورٹ کیا ۔

مزید : قومی


loading...