پاکستان تیسرے ٹیسٹ میں بقاء کی جنگ لڑیگا؟

پاکستان تیسرے ٹیسٹ میں بقاء کی جنگ لڑیگا؟
 پاکستان تیسرے ٹیسٹ میں بقاء کی جنگ لڑیگا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کا دوسرا میچ بارش کی نذرہونے کے باعث ڈرا ہو گیا۔اب پاکستان چند روز میں شروع ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں اپنی بقاء کی جنگ لڑے گا جہاں سیریز برابر کرنے کے لئے اسے ”مارو یا مر جاؤ“ والی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی،کیونکہ پاکستان پہلے ٹیسٹ میں جیتی ہوئی بازی ہار گیا تھا۔دوسرا ٹیسٹ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا،اب پاکستان کو سیریز برا بر کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگانا ہو گا۔پاکستان نے اس ٹیسٹ میں قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑی فواد عالم کو گیارہ برس بعد ٹیم میں موقع دیا جہاں وہ اس موقع سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور فقط چار گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے،اس دوران ان کا چہرہ مایوسی کا شکار اور ان میں خود اعتمادی کا فقدان نظر آیا۔ظاہر سی بات ہے گیارہ سال کا عرصہ اس بلے باز کے لئے کافی تکلیف دہ ہوتا ہے جو کافی عرصے سے ڈومیسٹک میں پرفارم کر رہا ہولیکن اسے قومی ٹیم میں چانس نا ملے اور جب مل بھی جائے تو ایسے موقع پر جہاں عزت بچانے کے لالے پڑ جائیں۔کیونکہ اس سے قبل ہونے والی تقریباً تین سیریز میں فواد عالم قومی ٹیم کے ہمراہ تھے،لیکن ان سیریز میں انہیں کھیلنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔

اب جب موقع فراہم کیا گیا تو بارش سے متاثر،میچ میں جہاں گیند بلے بازوں کے لئے مسائل پیدا کر رہی تھی اور رنز بنانا کافی مشکل تھا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل ٹاس جیت کر ایسی باؤنسی پچ پر پہلے کھیلنے کا فیصلہ سمجھ سے باہر ہے جہاں باؤلر کی گیند سوئنگ کے ساتھ باؤنس بھی ہو رہی ہو اور سوئنگ بھی ہو رہی ہو۔قومی ٹیم میں انگلینڈ کی نسبت اچھے اور منجھے ہوئے باؤلر موجود ہیں توکیا ضرورت تھی پہلے بیٹنگ کرنے کی۔گو دوسرے میچ میں بارش نے رنگ میں بھنگ ڈال دی لیکن اگر بارش نہ ہوتی تو شاید اظہر علی کا یہ فیصلہ ان کی اہم غلطی ثابت ہوتا۔دس سال سے قومی ٹیم میں موجود اظہر علی آج تک پچ کی کنڈیشن کو ہی نہیں بھانپ سکے۔حیرانی ہے پی سی بی اور سلیکشن کمیٹی پر کہ بطور کپتان جب ان کی پرفارمنس متاثر ہو رہی ہے تو ان کی جگہ کسی دوسر ے کو کپتانی کے لئے تیار کر کے انہیں نائب کپتان کی سیٹ پر براجمان کر دیا جائے۔

اس سے ان کی اپنی ساکھ بھی بچ جائے گی اور قومی ٹیم کی ساکھ بھی متاثر نہیں ہو گی،کیونکہ گزشتہ دو تین سیریز میں انہوں نے جس طرح کی اننگز کھیلی ہیں وہ سب کے سامنے ہے لیکن شاید پی سی بی ان پر مکمل اعتماد کے ساتھ ہر سیریز میں بطور کپتان بھروسہ کر رہا ہے جس سے ان کی بیٹنگ شدید متاثر ہو رہی ہے۔سیریز کا تیسرا میچ دودن بعد اسی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا جہاں سیریز کا دوسرا میچ بارش کے باعث ڈراء کر دیا گیا میرا خیال یہی ہے کہ اس ٹیسٹ میچ میں اسد شفیق کی جگہ شاداب خان یا سہیل خان کو میچ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہییامیدوں کے محور بابر اعظم،شان مسعود،محمد رضوان،یاسر شاہ،محمد عباس کون بازی پلٹنے میں نمایاں کارکردگی دکھاتا ہے امید ہے پوری ٹیم ذمہ درانہ کھیل پیش کرے گی۔

مزید :

رائے -کالم -