لوڈشیڈنگ اور ”دوسری فن کاریاں“

لوڈشیڈنگ اور ”دوسری فن کاریاں“

  

شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا دائرہ بھی پھیلتا جا رہا ہے،پشاور شہر کے پوش علاقوں میں بارہ بارہ، چودہ چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں بھی آٹھ آٹھ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، لوڈشیڈنگ کہیں علانیہ ہے اور کہیں بغیر کسی اعلان کے طویل دورانیے کے لئے بجلی بند کی جاتی ہے، ابھی زیادہ دن نہیں گذرے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ پانی سے بننے والی سستی بجلی ریکارڈ مقدار میں بن رہی ہے، اور بجلی کی پیداوار، طلب کے مقابلے میں زیادہ ہے، اب معلوم ہوا ہے کہ بجلی فالتو نہیں، بلکہ شارٹ فال 700 میگاواٹ کے قریب ہے،اِس لئے لوڈشیڈنگ ناگزیر ہے، ساتھ ہی ساتھ بعض دوسرے طریقے بھی آزمائے جا رہے ہیں۔ لاہور اور لیسکو کے دوسرے علاقوں میں ہفتے میں ایک بار مرمت وغیرہ کے نام پر کم از کم آٹھ گھنٹے کے لئے بجلی بند کی جاتی ہے، ڈیڑھ دو سو فیڈر بیک وقت بند کئے جاتے ہیں، ہر دو گھنٹے بعد ایک گھنٹہ بجلی کی بندش تو معمول ہے، پھر کسی بھی وقت بجلی ٹرپ کر جاتی ہے،یوں بعض صورتوں میں ایک گھنٹے تک یہ وقفہ بھی لوڈشیڈنگ ہی شمار ہوتا ہے۔سندھ میں صورتِ حال اور بھی خراب ہے، کراچی میں کے الیکٹرک کی کارکردگی پر تو اعلیٰ عدالتوں کے سخت ریمارکس بھی سامنے آئے ہیں، مقدمات کے اندراج تک نوبت پہنچ گئی، کراچی سمیت پورے صوبے میں لوڈشیڈنگ پر احتجاج ہو رہا ہے۔وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کو لکھے گئے اپنے علیحدہ علیحدہ مراسلوں میں واضح کیا ہے کہ ”کے الیکٹراک“ کو شوکاز نوٹس دیئے جانے کے بعد بجائے کراچی میں لوڈشیڈنگ میں کمی ہونے کے، اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اب بھی آٹھ سے بارہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ عوام کی جانب سے احتجاج کا اندیشہ اور امن و امان کی صورتِ حال بگڑنے کا خدشہ ہے۔ لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں لوڈشیڈنگ کے ستائے ہوئے لوگوں نے مظاہرے بھی کئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ گرمی کی شدت میں بجلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے،لیکن ابھی چند روز پہلے تو درجہ حرارت اِس سے بھی زیادہ تھا جو آج ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ یکایک کئی گھنٹے بڑھ گیا ہے؟ جس زیادہ بجلی کی پیداوار کے دعوے کئے گئے تھے وہ کیوں ہَوا ہو گئے ہیں؟بجلی اگر ضرورت سے تھوڑی بہت کم بھی ہو تو بھی اتنی طویل لوڈشیڈنگ نہیں ہو سکتی کہ اس کا دورانیہ پھیل کر بارہ اور چودہ گھنٹوں پر محیط ہو جائے۔ لگتا ہے یا تو اعداد و شمار قابل ِ بھروسہ نہیں ہیں یا پھر بجلی چوری بڑھ گئی ہے۔ عام طور پر اس موسم میں بجلی چوری کی شکایت ہوتی ہے، جس میں متعلقہ کمپنیوں کے اہلکار بھی ملوث ہوتے ہیں اور اب تک چوری روکنے کی جتنی بھی کوششیں ہوئی ہیں وہ بار آور نہیں ہو سکیں۔بعض علاقے تو بجلی چوری کے معاملے میں ملک گیر شہرت رکھتے ہیں۔سابق قبائلی علاقوں میں یہ علت عام تھی،اب وہ صوبے کا حصہ بن گئے ہیں، پھر بھی چوری ہوتی ہے، چونکہ چوری کے مصدقہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں،اِس لئے اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ بجلی چوری کو بھی ”لائن لاسز“ کے پردے میں چھپا دیا گیا ہے،لیکن ”لائن لاسز“ کے اعداد و شمار خود بولتے ہیں کہ اگر بجلی چوری نہ ہو تو اتنی زیادہ بجلی محض ترسیلی نظام کی خرابیوں کی وجہ سے ضائع نہیں ہو سکتی۔ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں میں جاگیرداروں کے ڈیروں پر دس دس اے سی لگے ہوتے ہیں،لیکن اُن کا بجلی کا بِل غیر معمولی طور پر کم ہوتا ہے، ایسی چوری روکنے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی اور کی گئی تو کامیاب نہیں ہوئی، اِس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر بجلی کی چوری پچاس فیصد تک بھی کنٹرول کر لی جائے تو اتنی زیادہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو سکتی، لیکن جن لوگوں کی لگی بندھی آمدنیاں چوری سے جڑی ہوئی ہیں، اُنہیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ وہ اپنی آمدنی بند ہونے کا رِسک لے کر بجلی چوری روکیں،اِس لئے ”قہر درویش، برجانِ درویش“ کے مصداق، جو لوگ پورا بل دیتے ہیں وہ بجلی چوری کا ہرجانہ بھی ادا کرتے ہیں اور لوڈشیڈنگ کا عذاب بھی بھگتتے ہیں۔ بجلی کمپنیوں نے طے کر رکھا ہے کہ جہاں بجلی چوری ہو گی، وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا۔ اب جو لوگ پوری دیانت داری سے بل ادا کرتے ہیں اور اُن کی آمدنی کا معقول حصہ اس مد میں خرچ ہوتا ہے وہ یا تو بجلی چوروں کا علاقہ چھوڑ دیں اور کہیں ایسی جگہ جا بسیں جہاں بجلی چوری نہ ہوتی ہو،لیکن یہ بھی اُن کی مقتدرت میں نہیں، اِس لئے وہ یہ سب کچھ برداشت کرنے پر مجبور ہیں اور احتجاج بھی نہیں کرتے۔

صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے مختلف نوعیت کے ٹیکس بھی وصول کئے جاتے ہیں، جو شامل کر کے تین سو یونٹ ماہوار خرچ کرنے والے ایک صارف کو بجلی کا یونٹ23 روپے اور ایک ہزار سے زائد خرچ کرنے والے کو25 روپے(یا اس سے بھی زیادہ) میں پڑتا ہے۔موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے، وہ اپنی صوابدید پر یا آئی ایم ایف کے کہنے پر بجلی کے نرخوں میں اتنا اضافہ کر چکی ہے کہ گرمیوں کے طویل موسم میں یہ نرخ صارفین کی آمدنیوں کا ایک بڑا حصہ لے جاتے ہیں، دوسرے اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔بجلی کے نرخ کم کرنے کی ایک خوشخبری یوں سنائی گئی ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ نیا معاہدہ ہوا ہے اس سے حکومت کو اربوں روپے کی بچت ہو گی اور لوگوں کو سستی بجلی میسر آئے گی۔ جس معاہدے کا ذکر ہو رہا ہے،اس کے بارے میں آئی پی پیز کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ ابھی تو یاد داشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے ہیں، معاہدہ نہیں ہوا۔ ایم او یو اور معاہدے میں جو فرق ہوتا ہے وہ تو ظاہر ہی ہے، کیونکہ بہت  سے  ایم او یوز ایسے ہوتے ہیں جنہیں معاہدے تک پہنچنا نصیب نہیں ہوتا۔ فرض کر لیتے ہیں کہ یہ ایم او یو جلد ہی معاہدے تک پہنچ جائے گا تب بھی بجلی تو اُسی وقت سستی ہو گی جب حکومت کا ارادہ ہو گا۔ عالمی منڈی میں تیل سستا ہوا تو حکومت نے درآمد ہی بند کر دی، پھر جب تیل سستا کرنے کا اعلان کیا تو اس کی قلت پیدا ہو گئی اور یہ اسی وقت ملنا شروع ہوا جب قیمتیں پہلے سے بھی زیادہ بڑھا دی گئیں، اس دوران بڑے بڑے بلند بانگ دعوے ہوئے، مگر تیل سستا نہ ہو سکا، لگتا ہے بجلی سستی کرنے کی ”فن کاری“ بھی ٹویٹس تک محدود رہے گی۔ اگر حکومت آئی پی پیز سے سستی بجلی حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گئی تو اس کا فائدہ صارف تک شاید ہی پہنچے، جیسے سستے تیل کا فائدہ اس تک نہیں پہنچ سکا۔ حکومت نے پٹرولیم پر ٹیکسوں اور لیوی کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے، حالانکہ ملکی ضرورت کا جو تیل اندرونِ مُلک پیدا ہوتا ہے، اس کی قیمت کم کر کے بھی تو صارفین کو ریلیف دیا جا سکتا ہے، اسی طرح اگر سستی بجلی کی پیداوار بڑھ گئی ہے تو کچھ نہ کچھ ریلیف تو صارف تک پہنچنا چاہئے،لیکن جو حکومت نیلم جہلم سرچارج ختم کرنے کے لئے آمادہ نہیں،وہ عوام کو سستی بجلی کیسے دے گی۔ البتہ خوشخبریاں ضرور سنائی جاتی رہیں گی، کہ ان پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔

مزید :

رائے -اداریہ -